مشرف غداری کیس : حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام پر آماد ہ ، ذرائع دعوی

مشرف غداری کیس : حکومت جوڈیشل کمیشن کے قیام پر آماد ہ ، ذرائع دعوی

  

ملتان( نیٹ نیوز ) وفاقی حکومت سابق صدر پرویزمشرف کا طبی معائنہ کرانے اور ان کا بیان ریکارڈ کرنے بارے جوڈیشل کمییشن کے قیام کے حق میں ہے اور اس حوالے سے اپنا جواب رواں ماہ کے آخر میں خصوصی عدالت میں جمع کرائے جانے کا امکان ہے ۔ حکومت کیلئے پرویزمشرف کو سنگین غداری کیس میں پیشی کیلئے فول پروف سکیورٹی سے بھی جان چھڑانا آسان ہو گیا ہے ۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے اکبر بگٹی قتل کیس میں سابق صدر پرویز (بقیہ نمبر54صفحہ12پر )

مشرف کے ضمانتی مچلکوں کی واپسی کا کیس سماعت کیلئے مقرر کردیا ہے ‘ سماعت 23 اکتوبر کو ہوگی ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کی سماعت میں مزید تاخیر ہونے کا امکان ہے ۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس حوالے سے حتمی فیصلہ فریقین کے جوابات اوراعتراضات کے بعد ہی کرنے کیلئے کہا گیا تھا ‘ کیس کی سماعت 14 نومبر کو ہونا تھی اورابھی تک فریقشن میں سے کسی نے بھی خصوصی عدالت میں جواب داخل نہیں کرایا ہے ۔ تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ پرویز مشرف کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے عدالت کے فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے قیام کی حمایت کریگی ۔ اس بارے میں وفاقی وزارت قانون و انصاف جواب بھی تیار کر رہی ہے جو کہ اکتوبر کے آخری دنوں میں خصوصی عدالت میں جمع کرائے جانے کا امکان ہے ۔ حکومت بھی پرویز مشرف کو پر اسرار بیماری کیوجہ سے ملک میں واپس لانے کی بجائے کمیشن کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے پر تیار ہے ۔ ایک طرف تو حکومت کو پرویز مشرف کیلئے سکیورٹی انتظامات نہیں کرنا ہونگے ۔ دوسری طرف کمیشن بنانے کے معاملے میں حمایت کر کے عدالتی احکامات پر بھی عملدرآمد کردیا جائیگا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کمیشن کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کو بھی تحریری درخواست ارسال کریگی ۔ اس بارے میں وفاقی وزارت قانون و انصاف سے حکومت کی مشاورت بھی جاری ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -