سپاٹ فکسنگ سکینڈل ، تین میچز میں پاکستانی کرکٹرز کے ملوث ہونے کا نکشاف

سپاٹ فکسنگ سکینڈل ، تین میچز میں پاکستانی کرکٹرز کے ملوث ہونے کا نکشاف

  

دوحہ، اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )کرکٹ میں اسپاٹ فکسنگ کا ایک اور سنسنی خیز سکینڈل منظرعام پر آگیا، 12۔2011 کے دوران 15 انٹرنیشنل کرکٹ میچز میں اسپاٹ فکسنگ کا انکشاف ہوا ہے۔الجزیرہ ٹی وی نے اپنے دستاویزی فلم میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ تین میچز میں پاکستانی کرکٹرز بھی اسپاٹ فکسنگ میں شامل تھے ، 7میچزمیں انگلینڈ کے کرکٹرز اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے۔رپوٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 5 میچزمیں آسٹریلوی کرکٹرز کے علاوہ دیگر ممالک کے کھلاڑی بھی شامل تھے۔اسپاٹ فکسنگ کرنے والوں میں زیادہ تر بلے باز تھے جنہوں نے بیٹنگ کے دوران پوری طرح پرفارم نہیں کیا۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق جب اسپاٹ فکسنگ کی گئی اْس وقت دنیائے کرکٹ کے نامور کھلاڑی بلے بازی کررہے تھے، کرکٹرز کو اسپاٹ فکسنگ کیلئے تیار کرنے والا بھارت کا بْکی انیل منور تھا جس کے رابطے پاکستان ، بھارت، انگلینڈ اورآسٹریلیا کے کرکٹرز سے تھے۔رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور انڈیا کے درمیان لارڈ ز کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلیگئے میچ، کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کے میچ میں اور 12۔2011 میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی پاکستان اور انگلینڈ سیریز کے کئی میچوں میں اسپاٹ فکسنگ کی گئی۔ ان میچز میں 6 ٹیسٹ، 6 ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے 3 میچز شامل تھے۔دستاویزی فلم میں پاکستانی کرکٹرعمراکمل، بھارتی کپتان ویرات کوہلی بھی نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ روہت شرما، بالاجی، سریش رائنا اور آسٹریلوی کرکٹراینڈی بکل بھی تصاویرمیں نظرآرہے ہیں۔اسپاٹ فکسنگ کے حوالے سے عرب میڈیا کی دستاویزی فلم کے مطابق جو میچ فکس کییگئے اْن میں 6 ٹیسٹ، 6 ون ڈے اور 3 ٹی ٹوئنٹی میچز شامل ہیں۔ 15 انٹرنیشنل میچز میں اسپاٹ فکسنگ کے 26 واقعات رونما ہوئے۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں دستاویزی ثبوت بھارتی بکی انیل منور کے حوالے سے شامل کیے گئے ہیں۔ انیل منور کی بھارتی کپتان ویرات کوہلی، روہت شرما اور عمر اکمل کے ساتھ تصاویر بھی رپورٹ میں شامل ہیں تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بکی کے ساتھ موجود کھلاڑیوں کا کسی غلط کام میں ملوث ہونا ضروری نہیں۔اس حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ وہ الجزیرہ ٹی وی کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے والے اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے جنرل منیجر الیکس مارشل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'آئی سی سی کرکٹ کی ساکھ کو پاک صاف رکھنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے، پروگرام میں لگائے جانے والے الزامات کو نہ صرف سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے بلکہ اس کی مکمل اور جامع تحقیقات بھی کی جائیں گی'۔الیکس مارشل کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آئی سی سی کرکٹ میں کرپشن کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتا، کھیل کو کرپشن سے پاک رکھنے کے لیے آئی سی سی پہلے سے کہیں زیادہ وسائل بروئے کار لارہا ہے۔ اس معاملے پر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور مختلف زاویوں سے اس پر کام کیا جارہا ہے۔ الیکس مارشل نے کہا کہ ہم براڈکاسٹرز کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کی تفصیلات انٹرپول کو فراہم کرنے کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں بھی اس معاملے میں آئی سی سی کی معاونت کریں گی تاکہ کھیل سے ان مجرموں کو دور رکھا جاسکے۔آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس حوالے سے مزید کوئی معلومات ہوں تو وہ آئی سی سی سے رابطہ کرسکتا ہے۔

اسپاٹ فکسنگ

مزید :

صفحہ اول -