مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی۔14شہید، بھارتی مظالم کیخلاف کشمیریوں کا شدید احتجاج ، کرفیو نافذ موبائل انٹرنیٹ سروس بند حریت ، کانفرنس نے آج ہڑتال کی کال دیدی ، پاکستان کی طرف سے واقعے کی شدید مذمت

مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی۔14شہید، بھارتی مظالم کیخلاف کشمیریوں کا شدید ...

  

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران اتوار کو ضلع کولگام کے علاقے لارو میں11کشمیری نوجوان شہید کر د ئیے ،جبکہ کنٹرول لائن کے قریب جھڑپ میں تین کشمیری نوجوان شہید اور تین بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے نوجوانوں کی شہادت پر کشمیریوں نے شدید احتجاج کیا، بھارتی افواج نے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے علاقے میں کرفیو نافذکردیا ہے ،اے ایف پی کے مطابق بھارتی فوج کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کیخلاف حریت کانفرنس نے آج پیر کو مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کا اعلان کردیا، بھارتی فوج ، سینٹرل ریزو پولیس فورس اور سپیشل آپریشن گروپ نے لارو میں محاصرے اور تلاشی کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران ایک رہائشی مکان کو گولہ بار ی کے ذریعے تباہ کر دیا جس کے ملبے سے 3 نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ قابض فورسز کے آپریشن کے بعد علاقے کے لوگ جب تباہ شدہ مکان کا ملبہ ہٹا رہے تھے تو مکان میں بھارتی فوج کی طرف سے لگایا گیا بم پھٹنے کے نتیجے میں5 نوجوان موقع پر شہید جبکہ متعد د زخمی ہو گئے جن میں سے 2بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ قابض بھارتی فورسز نے محاصرے کی کارروائی کے دوران پر امن مظاہرین پر فائرنگ کر کے متعدد نوجوانوں کو زخمی کر دیا جن میں سے2 ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ قبل ازیں اسی علاقے میں ایک جھڑپ میں دو بھارتی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔قابض فوج نے احتجاج کو کچلنے کیلیے نہتے لوگوں پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں40 مظاہرین زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی گئی ہی بھارتی مظالم کے خلاف لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، اس موقع پر فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد کشمیری مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔دوسری جانب قابض انتظامیہ نے ضلع کلگام میں کرفیو نافذ کردیا ہے جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔دو روز قبل بھی قابض بھارتی فوج نے بارہ مولا میں فائرنگ کرکے 4 کشمیریوں کو شہید کردیا تھا۔تحریک حریت جموں کشمیر کے رہنما محمد اشرف صحرائی نے پلوامہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں حاملہ کشمیری خاتون کی شہادت پر کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو شہید کرنے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے فوجیوں کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔۔ سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل ’’مشترکہ مزاحتمی قیادت ‘‘ نے شہری ہلاکتوں کے خلاف آج یعنی سوموار کو وادی میں ہڑتال کرنے کی کال دی ہے، جنوبی ضلع پلوامہ کے مخدم محلہ پاتھن پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 2فورسز اہلکار شدید طورپر زخمی ہوئے جنہیں نازک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فورسز اہلکاروں نے ایک نوجوان کو دبوچ کر اْس کی ہڈی پسلی ایک کردی جس کے نتیجے میں وہ خون میں لت پت ہو گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ نوجوان کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا۔ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے آس پاس علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا ہو گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج نے مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی صلاح دی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق پاتھن پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران عسکریت پسند رہائشی مکا ن سے باہر آئے اور اندھا دھند فائرنگ کے ساتھ ساتھ گرنیڈ بھی داغے جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کی شہادت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہیں جس کے نتیجے میں کلگام میں 8 کشمیری شہید جب کہ متعدد زخمی ہوگئے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز نے پلوامہ میں حاملہ خاتون کو شہید کردیا اور پلوامہ میں خاتون کی شہادت کے 15 گھنٹے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی، پلوامہ میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت اپنے غاصبانہ قبضے کے لئے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کشمیر میں طاقت کے ذریعے زیادہ دیر تک قابض نہیں رہ سکتا، کشمیری آزادی سے کم کسی سمجھوتہ کے لئے تیار نہیں ہیں۔وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ وہ مذاکرات سے گریزاں ہے، مودی سرکار نے علاقائی امن پر اپنی داخلی سیاست کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے سنجیدہ مذاکرات کے لئے تیار ہے، عالمی برادری بھارت کا ہاتھ روکے اور اسے مذاکرات پر مجبور کرے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر جنوبی ایشیا کا سلگتا مسئلہ ہے جسے طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا، کشمیریوں نے اپنی پرامن جدوجہد سے ثابت کیا کہ وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ موجود حکومت مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ اور یکسو ہے، ہم اپنا بنیادی اور اصولی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -