پنجاب کوآپرٹیوآتشزدگی میں متعدد افسران کے ملوث ہونے کاانکشاف

پنجاب کوآپرٹیوآتشزدگی میں متعدد افسران کے ملوث ہونے کاانکشاف

  

لاہور(خبر نگار) پنجاب کوآپرٹیو کے دفتر میں لگنے والی منصوبہ بند آتشزدگی کے واقعہ میں گرفتار اعلیٰ افسران اور ملازمین نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ جس پر اس واقعہ کو ہائی پروفائل کیس کا درجہ دے دیا گیا ہے اور پنجاب کوآپرٹیو کے گرفتار اعلیٰ افسروں سمیت دیگر ملزمان کے خلاف درج مقدمہ میں دہشتگردی کی دفعہ 7ATAکا نفاذ کر دیا گیا ہے ۔روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کو پنجاب کوآپرٹیو کے دفتر میں لگنے والی آگ کے واقعہ کی تفتیشی ٹیم کے ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام ظاہر کئے بغیر بتایا ہے کہ پنجاب کوآپرٹیو سوسائٹیز کے رجسٹرار کے دفتر میں لگنے والی آگ کے واقعہ میں بعض اعلیٰ افسران اور ملازمین ملوث ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ا س پر پنجاب کوآپریٹو کے حاضر و سابق اعلیٰ افسروں، بڑے بڑے بیوروکریٹس سمیت سیاست دانوں سے بھی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس واقعہ کو بنیاد بناتے ہوئے دیگر پلازوں کو عمارتوں میں لگنے والی آتشزدگی کے واقعات کی بھی اسی طرز سے تفتیش کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کیس کا چالان عام عدالت کی بجائے اب انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ گرفتار ملزمان پنجاب کوآپریٹو کے گرفتار اعلیٰ افسران اور اہلکاروں کا دوران تفتیش ٹیلی فونک رابطہ پایا جانے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے جس پر گرفتار ملزمان سے ٹیلی فون ڈیٹا کا ریکارڈ بھی قبضہ میں لے لیا گیا ہے اور اس کیس میں گرفتار پنجاب کوآپریٹو کے ملازمین محبوب اور علی رضا سے پٹرول کی بوتل اور لیٹر بھی قبضہ میں لے لیا گیا ہے، جس سے بوتل کے ذریعے پٹرول چھڑکا گیا اور لیٹر کے ذریعے آگ لگائی گئی۔ تفتیشی ٹیم کے اہم رکن کا کہنا ہے کہ اس کیس کے مرکزی کردار محمد ایوب اور سیٹھ اقبال ہیں اور سیٹھ اقبال کے گرفتار ہونے پر تفتیش کا دائرہ کار مزید بڑھا دیا جائے گا، دوسری جانب تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش اور ایس پی عمران کرامت بخاری سمیت انسپکٹر عمران خان نے گزشتہ روز جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور پنجاب کوآپرٹیو کے اعلیٰ افسران اور پنجاب کوآپرٹیو کی عمارت میں واقع دیگر دفاتر کے سیکیورٹی گارڈز اور ملازمین کے بیانات ریکارڈ کئے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر اس واقعہ میں گرفتار پنجاب کوآپرٹیو کے اعلیٰ افسران اور ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی اور تفتیشی ٹیم نے گرفتار ملزمان سے موقع پر مختلف سوالات پوچھے، اس حوالے سے تفتیشی ٹیم میں شامل اعلیٰ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے سی آر او کے لئے دوبارہ فنگر پرنٹس کروائے جائیں گے۔ جس کے بعد ملزمان سے کی گئی تفتیش کو صفحہ مثل کا حصہ بنایا جائے گا تاہم مرکزی ملزم سیٹھ اقبال کی گرفتاری پر چالان تیار کیا جائے گا۔

افسران ملوث

مزید :

صفحہ اول -