کرک میں نرسنگ سٹاف کی کام چوری اور مجرمانہ غفلت انتہا کو پہنچ گئی

کرک میں نرسنگ سٹاف کی کام چوری اور مجرمانہ غفلت انتہا کو پہنچ گئی

  

کرک ( بیورورپورٹ) ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کرک میں نرسنگ سٹاف کی کام چوری اور مجرمانہ غفلت انتہا کو پہنچ گئی ، لپڑ سنگ کی بادشاہی نے معمولی مرض میں مبتلا خاتون کی جان لے لی ، ارباب اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے شہری نے عدم شنوائی کی صورت میں بھرپور احتجاج کی دھمکی دیدی ۔تفصیلات کے مطابق یونین کونسل بہادر خیل کی رہائشی خاتون مریضہ جو بعد میں رات کے وقت مبینہ طور پر نرسنگ سٹاف کی عدم موجودگی کی وجہ سے فوری طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے چل بسی ، کے بیٹے بلال خٹک نے میڈیا کے نمائندوں کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہسپتال مذکورہ میں ڈاکٹرز اپریشن تو کر لیتے ہیں اور مریضوں کو متعلقہ وارڈز میں منتقل کر دیا جاتا ہے مگر رات کے 9بجے کے بعد ہسپتال میں مکمل سناٹا چھا جاتا ہے اور ڈاکٹرز سمیت نرسنگ سٹاف ہاسٹلز رفو چکر ہو کر مریضوں کو چھو ڑ دیتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں گذشتہ دنوں میری والدہ کا چھوٹا اپریشن کیاگیا وارڈ میں داخلے کے بعد رات کو متعلقہ وارڈ کا نر سنگ سٹاف غائب ہو گیا زخموں کی باعث را ت کو میری ماں کی حالت غیر ہو گئی تلاش بیسار کے باوجود مجھے انجکشن لگوانے کیلئے بھی کوئی نہ مل سکا اور رات کے پچھلے پہر میری والدہ کا انتقال ہو گیا انہوں نے کہا کہ حکومتی عہدیدار صحت کے انصاف کے دعوے کرتے نہیں تکتے لیکن کرک کے ہسپتال میں علاج کی کوئی سہولت میسر نہیں اور ہسپتال انتظامیہ بھی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ اگر میرے ساتھ پیش آنیوالے واقعے کی فوری تحقیقات نہ کی گئیں تو بھر پور احتجاج کرونگا ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -