شبقدر میں پولیس گردی‘ تاجر کے گھر پر بغیر وارنٹ کے چھاپہ

شبقدر میں پولیس گردی‘ تاجر کے گھر پر بغیر وارنٹ کے چھاپہ

  

شبقدر (نمائندہ خصوصی )شبقدر پولیس نے منشیات فروشی کے الزام میں دن دیہاڑے مشہور تاجر کے گھر پر ڈاکہ ڈال دیا ،ڈی ایس پی شبقدر نے پولیس وردی کا غلط استعمال کر کے بھاری نفری کے ہمراہ بغیر کسی اجازت یا وارنٹ گھر میں داخل ہوئے ،ڈی ایس پی نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گھر میں بغیر اجازت داخل ہوتے ہی گالم گلوچ شروع کر دیا،پولیس نے مجھے اور میرے والد کو پکڑ کرگھر کی تلاشی شروع کر دی ،پولیس ڈی ایس پی نے زبردستی میرے گاڑی اور 3لاکھ 55ہزار سعودی ریال ،62ہزار دوبئی درہم اور 11لاکھ پاکستانی نقدی چھین کر اپنے ساتھ لے گئے مجھے اور میرے والد کو پولیس والوں نے تھانہ شبقدر کے حوالات میں بند کر دیا ،شبقدر پولیس ڈی ایس پی صابر گل نے انتہائی ظلم کیا پولیس کے پاک اور مقدس پیشے کو بد نام کر کے ڈاکہ زنی کی ہے ملک کی اعلیٰ عدالتیں موجودہ حکومت اور آئی جی پولیس سخت ایکشن لے مجھے انصاف فراہم کرے یاسر رحمان حلیم زئی ،تفصیلات کے مطابق شبقدر بازار میں مشہور کرنسی ایکسچینج کے کاروباری شخصیت یاسر رحمان نے شبقدر میڈیا سنٹر میں پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز معمول کے مطابق اپنے گھر میں دفتر جانے کی تیاری میں مصروف تھا گھر میں کھڑی موٹر کار میں اپنا بیگ اور دیگر سامان رکھ چکا تھا،کہ اسی دوران شبقدر پولیس کے ڈی ایس پی صابر گل نے بھاری پولیس نفری کے ہمراہ بغیر کسی اجازت یا وارنٹ کے میرے گھر میں داخل ہوئے اور داخل ہوتے ہی گالم گلوچ شروع کر دی اور گھر کی تلاشی کیساتھ گھر میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے بند کر کے سی ڈی آر تک اُٹھا کر لے گئے جبکہ موٹر کار اور اس میں رکھے گئے بیگ کو بھی زبردستی لے گئے جس میں لاکھوں سعودی ریال ،ہزاروں دوبئی درہم اور گیارہ لاکھ پاکستانی روپے نقد موجود تھے اپنے ساتھ لے گئے جبکہ گھر میں موجود لائسینس یافتہ اسلحہ جن میں دو پستول ،اور ایک رائفل شامل تھا وہ بھی اُٹھا کر لے گئے انہوں نے کہا کہ میرے پوچھنے پر پولیس نے بتایا کہ آپ کے والد پر ،منشیات فروشی کا الزام ہے جو کہ بالکل من گھڑت اور جھوٹا الزام تھا انہوں نے کہا کہ اگر میرے والد پر منشیات فروشی کا الزام تھا تو ایک فون کال پر تھانہ میں حاضری دیتا لیکن ڈی ایس پی شبقدر صابر گل نے دن دیہاڑے ڈاکہ ڈال کر لاکھوں ملکی و غیر ملکی کرنسی اور اسلحہ اُٹھا کر لے گئے انہوں نے کہا کہ میرا والد دل کے عارضہ میں مبتلا ہے اور پولیس کے زیر حراست پشاور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے انہوں نے کہا کہ مجھے اور میرے خاندان کو ڈی ایس پی شبقدر صابر گل نے اپنے لالچ کے لیے حراساں کر کے چادر اور چار دیوراری کا تقدس پامال کرتے ہوئے پولیس گردی ڈاکہ زنی کی انتہا ئی غیر انسانی ،غیر اخلاقی اور پولیس کے اعلیٰ کردار کو بد نام کیا ہیں انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی صابر گل نے میرے گھر سے جو قیمتی سامان اسلحہ ملکی وغیر ملکی کرنسی گاڑی لے کر گئے وہ تھانہ شبقدر کے کسی خط و کتابت میں ظاہر نہیں کیے گئے انہوں نے ملک کے اعلیٰ عدالتوں،حکومتی ذمہ داروں،اور آئی جی پولیس خیبر پختون خواء،ڈی آئی جی مردان اور ڈی پی او چارسدہ سے پر زور مطالبہ کیا کہ ڈی ایس پی شبقدر کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کر کے پولیس میں چھپے ہوئے ڈاکوں کو بے نقاب کیا جائے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -