خشوگی قتل بڑی غلطی، نہیں معلوم لاش کہاں ہے،سعودی وزیر خارجہ

خشوگی قتل بڑی غلطی، نہیں معلوم لاش کہاں ہے،سعودی وزیر خارجہ

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک )سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ترکی میں سعودی سفارتخانے میں سعودی صحافی کے قتل کا اعتراف کر نے کے بعد اسے ‘غلطی ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے ہمیں نہیں معلوم لاش کہاں ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا سعودی قیادت کو لگتا تھا جمال خشوگی 2 اکتوبر کو سفارتخانے سے چلے گئے تھے تاہم ترکی سے ملنے والی رپورٹس کے بعد سعودی حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا تھاجن سے معلوم ہوا جمال خشوگی سفارتی مشن کے دوران ہلا ک ہوئے ،ہمیں اس کے حوالے سے مزید تفصیلات نہیں معلوم اور نہ ہی ہمیں لاش کے بارے میں پتہ ہے، سعودی پبلک پراسیکیوٹر نے 18 افراد کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔قتل کے واقعے سے امریکہ سعودی تعلقات متاثر نہیں ہونگے ۔جس نے یہ کیا ہے اسے حکام کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں تھیں، ہر کسی سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ان غلطیوں کو سدھارنا چاہیے،یہ کسی بھی حکومت کیلئے قا بل قبول نہیں تاہم بدقسمتی سے ایسا ہوجاتا ہے، ہم اس بات کی یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں جو بھی اس میں ملوث ہے اسے سزا ملے تاکہ آئندہ کبھی ایسے واقعات سامنے نہ آئیں۔ادھرسعودی عرب پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ترکی کا کہنا ہے وہ جمال خشوگی کے قتل کے حوالے سے اپنی تحقیقات کل بروز منگل عیاں کرے گا۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا وہ قتل کیس میں تفصیلات کو سامنے لائیں گے تاکہ اصل معاملے کی وضاحت ہوسکے۔

سعودی وزیرخارجہ

ریاض (این این آئی)سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کا واقعہ مملکت کے خود مختار علاقے (استنبول میں سعودی قونصل خانے) میں رونما ہوا ہے ۔تمام قواعد وضوابط کی تکمیل کے بعد اس کا مقدمہ سعودی عدالتوں میں چلایا جائے گا اور عدالتوں کو اس کی سماعت میں مکمل آزادی اور خود مختاری حاصل ہوگی۔یہ بات سعودی عرب کے وزیر انصاف اور سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر ولید بن محمد الصمعانی نے ایک بیان میں کہی۔جمال خشوگی کی الم ناک موت کے افسوس ناک واقعے کے بعد شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے جاری کردہ فرامین اور فیصلے ریاست کی حکمتِ عملی کا تسلسل ہیں ۔ سعودی عرب میں عدلیہ کا ادارہ اسلامی قانون کے اصولوں اور عدل کی اقدار کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا اور مملکت سعودی عرب بھی ان ہی اصولوں ، اقدار اور شریعت کے تقاضوں کے نفاذ کو ملحوظ رکھ کر قائم کی گئی تھی۔سعودی عرب انصا ف کے معاملے میں پْرعزم ہے اور اس کو میڈیا کے ذرائع سے جارحانہ کردار کا مظاہرہ کرنے والوں کے ذریعے عدم استحکام کا شکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایسے لوگ پیشہ واریت کے حامل ہیں اور نہ ان کی کوئی ساکھ ہے۔

سعودی وزیر عدل

مزید :

صفحہ اول -