جمال خشوگی کے قتل پر دنیا ترکی کے اقدام کی منتظر

جمال خشوگی کے قتل پر دنیا ترکی کے اقدام کی منتظر

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )سعودی عرب کی جانب سے انکار کے بعد بالاخر تسلیم کرلیا گیا کہ ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خشوگی کو قتل کیا گیا، تاہم اس اعتراف کے بعد سب کی نظریں ترکی پر لگی ہیں کہ آیا وہ قتل کے محرکات اور ثبوتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا یا نہیں؟ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی اٹارنی جنرل کے دفتر سے ذرائع ابلاغ کو جاری بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ جمال خشوگی جھگڑے کے دوران مارے گئے۔سعودی عرب کی یہ وضاحت ایک تیزی سے یوٹرن تھا کیونکہ اس سے قبل ریاست اس بات پر بضد تھی کہصحافی 2 اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد واپس چلے گئے تھے۔ترک اخبار ’ینی شفق‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے وائس ریکارڈنگ سنی ہے جس میں جمال خشوگی کو تفتیش کے دوران تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے سنا جا سکتا ہے اور پہلے ان کی انگلی کاٹی گئی اوربعدازاں انہیں زندہ ہی ٹکڑوں میں تبدیل کردیا گیا۔ایک طرف جہاں ترکی کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اس معاملے کو چھپانے کی اجازت نہیں دے گا تو وہیں جرمنی نے سعودی اقدام کو ’ناکافی‘ قرار دیا جبکہ اقوام متحدہ سے شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔دوسری جانب دائیں بازو کے گروہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ تحقیقات میں شامل ہوں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جمال خشوگی کے لیے 15 افراد کی ’قتل کی ٹیم‘ دو چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے استنبول آئی تھی، جن میں سے ایک شخص محمد بن سلمان کا ’قریبی ساتھی تھا‘ جبکہ 3 افراد کا تعلق سعودی ولی عہد کی سیکیورٹی سے تھا۔اس سارے معاملے میں جہاں ایک طرف قربانی کے بکرے ڈھونڈے گئے تو وہی ترکی کا کردار بھی کافی اہم ہے۔صحافیکی گمشدگی کے بعد نامعلوم ترک حکام نے متعدد بار سعودی صحافی کے قتل کی تفصیلات کا ذکر کیا اور کچھ نے یہ تفصیلات میڈیا کو بھی بتائیں۔ ایک ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الجزیرہ کو بتایا کہ رواں ہفتے ترک انتظامیہ کے پاس 11 منٹ کی ایک آڈیو ریکارڈنگ تھی، جس میں قتل کی نشاندہی ہوتی تھی۔ترک حکام کے پاس ثبوت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر ثبوت ہیں‘ تو ترک حکام انہیں فراہم کریں۔’ترکی غیر ملکیوں کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ استنبول اور ترکی سیاحوں کے لیے ایک محفوظ جگہ رہے گی اور اگر طاقتور لوگوں کو دوسروں پر الزام لگا کر آزاد رہنے کی اجازت دی جائے گی تو وہ دنیا کو کیسے ثابت کرے گا کہ ترکی ایک محفوظ جگہ ہے۔ تاہم یہ ساری تفصیلات اپنی جگہ لیکن عالمی برادری اب اپنے کان ترکی پر لگائے ہوئے ہے کہ وہ اس ضمن میں کیااقدام کر تا ہے،کرتا بھی ہے یا نہیں۔

ترکی اقدام

مزید :

صفحہ اول -