جمال خشوگی کی ہلاکت پر امریکی کانگریس کی سعودی حکام پر تنقید

جمال خشوگی کی ہلاکت پر امریکی کانگریس کی سعودی حکام پر تنقید

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) صدر ٹرمپ نے سعودی صحافی جمال خشوگی کی ہلاکت پر سعودی حکومت کے موقف کو فی الحال تسلیم کرلیا ہے اور تفتیش کے حتمی نتائج تک انتظامیہ کے بھرپور ردعمل کو روک لیا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں امریکی کانگریس کی طرف سعودی حکام کیخلاف ردعمل اور سخت نکتہ چینی کا سلسلہ جاری ہے۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین اور ڈیموکریٹک لیڈر باب کارکر تو سعودی عرب کے خلاف زیادہ کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ہفتے کی شام ’’سی این این‘‘ کے پروگرام ’’سٹیٹ آف دی یونین‘‘ میں انہوں نے جمال خشوگی کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا انہیں یقین ہے اس کے پیچھے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے۔ یاد رہے سعودی شاہی خا ند ا ن کا مخالف سعودی صحافی جمال خشوگی 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوگیا تھا اور اب سعودی حکام نے اعتراف کرلیا ہے اسے ایک جھگڑے کے نتیجے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ سعودی حکام کی وضاحت کو صدر ٹرمپ نے تسلیم کرلیا ہے، لیکن اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جھگڑے کا سبب کیا تھا اور اب اس کی لاش کہاں ہے۔ ترکی حکومت کے حامی میڈیا نے رپورٹ دی ہے اپنے مخالف کے اس قتل کیلئے ایک سکواڈ سعودی عرب سے روانہ ہوا تھا۔سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین باب کارکر نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے ’’سعودی عرب کے ولی عہد نے جو لائن عبور کی ہے اس کی اسے قیمت چکانی پڑے گی اور سزا بھگتنا ہوگی۔ انہوں نے ترک حکومت سے مطا لبہ کیا وہ سعودی قونصل خانے میں ہلاکت کے حوالے سے ریکارڈنگ امریکہ کو بھی فراہم کرے۔ یاد رہے ترک میڈیا نے ایسے شواہد کی مو جو د گی کا انکشاف کیا ہے لیکن ابھی تک ترک حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ باب کارکر نے بتایا ترک حکام امریکہ کو براہ راست آگاہ کرنے کی بجائے اپنے میڈیا کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کر رہے ہیں۔ سعودی حکام پر الزام لگانے کا معاملہ صرف مخالف ڈیمو کریٹک پارٹی تک محدود نہیں ہے۔ قبل ازیں ری پبلکن پارٹی کے اہم لیڈر سینیٹر مارکو روبیو اور سینئر چیف فلیک بھی اس سلسلے میں سعودی حکومت کو فوجی ساز و سامان کی ضرورت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -