حکومت کی طرف سے مذاکرات کے لئے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا:مولانا فضل الرحمان

حکومت کی طرف سے مذاکرات کے لئے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا:مولانا فضل الرحمان

  

چارسدہ (بیورو رپورٹ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے لئے کسی نے کو ئی رابطہ نہیں کیا۔ توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کے خلاف بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے عدالتیں بھی فیصلہ نہیں دے سکتی۔ نیب سیاستدانوں کی تذلیل ،توہین اور بلیک میل کرنے کیلئے بنایا گیا ہے ۔حیراتوں سے نہیں چل سکتا ۔ جنرل مشرف کے ذریعے عدالتوں کی بے توقیری کی گئی۔وہ چارسدہ میں حاجی حمید اللہ کی رہائش گاہ پر ان کی والد کی وفات پر فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ضلعی امیر مولانا محمد ہاشم خان ، سابق ایم این اے مولانا سید گوہر شاہ اور پارٹی کے دیگر رہنماء بھی موجود تھے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے لئے کسی نے کو ئی رابطہ نہیں کیا۔موجودہ حکومت نے دو مہینوں میں ملک کو ایسے معاشی بحران کی طرف دھکیلا جو تاریخ میں پہلی بار ہوا۔نئی نسل کو امیدیں اور سبز باغ دکھائے گئے تھے جو دھر ے کے دھرے رہ گئے ۔ ایسے ناسمجھ لوگوں کو حکومت دی گئی ہے جن کے پاس کوئی ویژن اور نہ ٹیم ہے ۔عمران خان نے ملک کے وسائل ، مسائل اور صلاحیتوں کو سمجھے بغیر آئیڈیل باتیں کئے لیکن آئیڈیل باتیں کرنے سے ملک ترقی نہیں کر سکتا بلکہ حقیقتاً آج پاکستان بہت پیچھے چلا گیا ہے ۔ملک میں کوئی حکومت نہیں اور نہ حکومت چلنے والی کوئی چیز موجود ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جن لوگوں نے پی ٹی آئی کو حکومت دی وہ کب تک چلاتے ہیں یہ ان پر منحصر ہے ۔ 25جولائی کے انتخابات میں مینڈیٹ چوری نہیں ہوا بلکہ سر عام ڈاکہ ڈالا گیا ۔ موجودہ حکومت کا وہی نقشہ ہے جو شوکت عزیز اور مشرف دور کا تھا ۔ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے اور شائد آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ہمیں قرضہ نہ دیں ۔دوست ملک ہمیں کتنا حیرات دیتے ہیں یہ اپنی جگہ مگر ملک حیراتوں سے نہیں چل سکتا ۔ پاکستان میں نیب اور عدالتوں کے ذریعے حکومتیں بنائی جا تی ہیں ۔ سیاسی جماعتوں سے مینڈیٹ بھی چھینا اور اب موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے مگر اس حوالے سے اپو زیشن متحد ہے اور کسی صورت موجودہ حکومت کو تسلیم اور جائز نہیں سمجھتی ۔ موجودہ حکومت ڈیفیکٹیو ہے اور پہلے بھی اس طرح کی حکومتیں بنتی آرہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم غلام قوم ہیں اس لئے بین الاقوامی ادارے ہمارے ملک پر موثر ہے ۔ وطن عزیز میں حکومت ، آئین اور قانون بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے غیر موثر ہو چکا ہے ۔ توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کے خلاف بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے عدالتیں بھی فیصلہ نہیں دے سکتی ۔ڈالروں کے عوض ہم وطنوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا لیکن عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہ لا سکے ۔انہوں نے کہا کہ دراصل ہماری خودی دفن ہو چکی ہے ۔مولانا فضل الرحمان نے جنرل مشرف کو قانون کے کٹہرے میں کھڑے کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنرل مشرف کی وجہ سے عدالتوں کی بے توقیری کی گئی ۔سیاستدانوں کے ساتھ ایک اور جرنیل کے ساتھ دوسرا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ جنرل یحیٰ خان نے ملک دو لخت کیا مگر ان کو 30توپوں کی سلامی دیکر دفنایا گیا جبکہ بھٹو دشمن ملک سے 90ہزار قیدی چھڑا کر لائے تو ان کو پھانسی پر چڑھایا گیا ۔ نیب سیاستدانوں کی تذلیل ،توہین اور بلیک میل کرنے کیلئے بنایا گیا ہے ۔ عام انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ضمنی انتخابات نے خود گواہی دی کہ 25جولائی کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے ۔افغانستان میں انتخابات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جس طرح کشمیر میں انتخابات رائے شماری کا نعم البدل نہیں اسی طرح افغانستان میں بھی انتخابات مسئلے کا حل نہیں ۔افغانستان میں ایک کٹھ پتلی حکومت موجود ہے جس کے تمام اختیارات امریکہ اور دیگر بیرونی قوتیں استعمال کر رہے ہیں ۔ امریکی فوج اور بیرونی قوتوں کی وجہ سے افغانستان ایک مقبوضہ ملک بن چکا ہے ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -