سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے پاکستان میں مارشل لاء کا راستہ روکنے کیلئے انتہائی حیران کن تجویز دیدی

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے پاکستان میں مارشل لاء کا راستہ روکنے کیلئے ...
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے پاکستان میں مارشل لاء کا راستہ روکنے کیلئے انتہائی حیران کن تجویز دیدی

  

جدہ (محمد اکرم اسد) مارشل لاء کا راستہ بند کرنے کے لئیے کسی سنئیر ریٹائرد جنرل کو صدر کے لئیے منتخب کرنا چاہئیے تاکہ فوج بطور ادارہ ان سے بہتر اور کھل کر اپنے معاملات کا مدعا بیان کرسکے جبکہ اس سے سول ملٹری تعلقات میں بھی بہتری آئیگی اور سارے ادارے آئینی طور ہر بہتر کام کر سکیں گے ان خیالات کا اظہار سابق وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر اور صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے صحافیوں سے بات چیت میں کیا۔ قبل ازیں جموں و کشمیر کمیونٹی اوورسیز کی طرف سے آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو خراب کرنے، انسانی حقوق کی پامالی، کثیر تعداد میں ہندوستانی فوج کی موجودگی اور ظلم و ستم پر تفصیلی گفتگو کی اور مسئلہ کشمیر کے حل کو اقوام متحدہ کی قراد داروں کی مطابق حل کرنے پر زور دیا. دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر آ کر معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہییں. ۔ انہوں نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اقوام متحدہ میں بہت بہتر طریقے سے مسئلہ کشمیر پیش کرنے کے عمل کو سراہا، تقریب کی صدارت صدر مسلم کانفرنس سعودی عرب، چئیرمین جے کے سی او سردار اشفاق نے کی . نظامت کے فرائض سردار وقاص نے ادا کیے. تقریب کی میزبانی مسلم کانفرنس سعودی عرب نے کی۔

انھوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے ۔ کشمیر میں ظلم وستم کے تواتر کیساتھ ہونے والے واقعات ایک تشویشناک صورتحال کو جنم دئیے ہوئے ہیں۔ کشمیری پاکستان کے دفاع کے لیے جانیں دے رہے ہیں .کشمیری عوام کا پاکستان کے عوام سے ایک لازوال رشتہ ہے.

انھوں نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کا سیشن بہت اعلی رہا . رابطہ عالم اسلامی نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو خراب کرنے، انسانی حقوق کی پامالی، کثیر تعداد میں ہندوستانی فوج کی موجودگی اور مسئلہ کشمیر کے حل کو اقوام متحدہ کی قراد داروں کی مطابق حل کرنے پر زور دیا. دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر آ کر معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے چاہییں.

کشمیر کے مسئلے پر آزادکشمیر کی تمام جماعتیں ایک ہیں اور غیر مشروط طور پر متفق اور متحد ہیں. کوئی قابل ذکر اختلاف نہیں. قائد اعظم کے بعد آنے والے سیاستدانوں نے کشمیر میں تنظیمی اتحاد کی بجائے اس کو منقسم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا جو کہ قائد اعظم کے افکار کے منافی عمل ہے. لیکن اس سب کے باوجود جہاں کشمیر کی بات آتی ہے وہاں کوئی تقسیم نہیں.

شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ میں بہت بہتر طریقے سے مسئلہ کشمیر کا اظہار کیا لیکن وہ اگر کشمیری قیادت سے مل کر ان کا نکتہ نظر بھی لے لیتے تو مزید بہتر ہوتا. سعودی عرب جس نے ہر معاملے اور ہر مشکل میں کشمیر اور پاکستان کا ساتھ دیا ہم اس کی خدمات کو کبھی بھی نہیں بھلا سکتے .

انہوں نے کہا کہ ہم ن لیگ کے نہال ہاشمی کے فوج کے بارے میں بیانات کی سخت مذمت کرتے ہیں . فوج جو کہ پاکستان میں نہیں بلکہ اقوام عالم میں اپنی کارکردگی کی بنا پر ایک مقام رکھتی ہے. ہمیں اس کے بارے میں اس طرح کی سوچ والے پست ذہن لوگوں کو عبرتناک سزا دینی ہوگی۔

آزاد کشمیر کی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے انئوں نے کہا کہ کشمیر میں میرٹ اور ترقیاتی کاموں میں کوئی کام نہیں ہو رہا بلکہ اگر کوئی اس مسئلے کو اجاگر کرے اس کے لیے مسائل پیدا کیے جاتے ہیں اس کی مثال سردار خالد ابراہیم کے ساتھ ہونے والا سلوک آپ سب کے سامنے ہے.

مقررین نے سردار عتیق کو رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کا مستقل رکن بننے پر مبارکبا د بھی دی.دیگر مقررین جنہوں نے خطاب کیا ان میں سردار اشفاق، غلام نبی بٹ، سردار اقبال یوسف، سردار ابرار، چودھری خورشید متیال, راجہ شمروز، راجہ زرین شامل ہیں .

تقریب کے اختتام پرمہمان خصوصی نے شرکا کے سوالات کے جوابات بھی دئیے اور میڈیا کے نما ئندگان سے بھی نشست کی . پاکستان جرنلسٹ فورم کے صحافیوں کی اچھی تعداد موجود تھی. میڈیا کی طرف سے کوریج پر خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا گیا.

مزید :

عرب دنیا -