اللہ والوں کے قصّے۔۔۔قسط نمبر 37

اللہ والوں کے قصّے۔۔۔قسط نمبر 37
اللہ والوں کے قصّے۔۔۔قسط نمبر 37

  

حضرت امام شافعیؒ جب تیرہ سال کی عمر کو پہنچے تو آپ نے بیت اللہ شریف میں لوگوں سے فرمایا’’ جو کچھ پوچھنا چاہتے ہو ، مجھ سے پوچھو۔ ‘‘اور جب آپ پندرہ سال کے ہوئے تو آپ نے فتویٰ دنیا شروع کردیا۔ حضرت احمد بن حنبلؒ آپ کا بہت احترام و خدمت کیا کرتے تھے اور جب کسی نے یہ اعتراض کیا کہ آپ جیسے اہل علم کے لیے ایک کم عمر شخص کی مدارات کرنا مناسب نہیں۔ آپ نے جواب دیا۔ ’’ میرے پاس جس قدر علم ہے اس کے معانی و مطالب سے وہ مجھ سے زیادہ باخبر ہے اور اسی کی خدمت سے مجھے احادیث کے حقائق معلوم ہوتے ہیں اور اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو ہم علم کے دروازے ہی پر کھڑے رہ جاتے اور فقہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بندرہ جاتا ۔ اس دور میں وہ اسلام کا سب سے بڑا محسن ہے۔ وہ فقہ معانی اور علوم لغت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اور حضور اکرمؐ کے اس قول کے مطابق کہ ہر صدی کی ابتدا میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا کہ اہل علم اس سے علم دین حاصل کریں گے اور اس صدی کی ابتداء امام شافعیؒ سے ہوئی ہے۔ ‘‘

***

اللہ والوں کے قصّے۔۔۔قسط نمبر 36پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ابوالجوال مغربی ؒ فرماتے ہیں کہ میں اور ایک صالح شخص بیت القدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک جوان ہمارے پاس آنکلا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ اس کے گرد شہر کے بچے جمع ہیں اور ڈھیلے پتھر اور کنکریاں مار رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دیوانہ ہے۔

جوان مسجد میں گیا اور پکار کر کہا۔ ’’ اے اللہ ! مجھے اس دنیا سے راحت دے ۔ ‘‘ اس پر میں نے اُس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ۔ ’’ یہ بات تو نے دانائی کی کہی، یہ حکمت کی بات تو نے کہا سے سیکھی۔ ‘‘

اُس جوان نے مجھے جواب دیا۔ ’’ جو شخص خاص اللہ کے واسطے خدمت و عبادت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُسے حکمت کی نادر باتیں سکھا دیتا ہے اور عصمت کے اسباب سے اس کی تائید فرماتا ہے اور مجھے جنون نہیں بلکہ اضطراب و خوب ہے۔ ‘‘

اتنا کہنے کے بعد اس نے چند اشعار درد اور شوق کے پڑھے۔ میں نے کہا۔ ’’ یہ اشعار تو تم نے خوب پڑھے جس نے تمہیں مجنوں کہا۔ اُس نے سخت غلطی کی۔ ‘‘

یہ سن کر میری طرف دیکھ کر رویا۔ پھر بولا ۔ ’’ کچھ جانتے ہو کہ اخوانِ طریقت کس طرح مرتبہ وصل کو پہنچے۔ ‘‘

اور جب میں نے اس بات کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا۔ ’’ انہوں نے اپنے اخلاق کو تمام نجاستوں سے پاک کرکے تھوڑے سے رزق پرقناعت کی اور محبت الٰہی سے تمام آفاق میں متحیرّ پھرے اور راستبازی کی آزاد اور خوفِ الٰہی کی ردأ سے آراستہ ہوئے اور اس دنیائے فانیہ کو دارِ باقی کے عوض فروخت کردیا اور میلان اور عزم اختیار کیا۔ پھر ان کی یہ حالت ہوئی کہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بیابانوں میں رہے اور مخلوق سے غائب ہوگئے۔ ان کی شان یہ ہے کہ اگر وہ حاضر بھی ہوں تو اُن کو کوئی نہ پہچانے اور اگر غائب ہوں تو کوئی ان کو نہ ڈھونڈے اور جومرجائیں تو کوئی ان کے جنازہ پر نہ آئے۔ ‘‘

وہ یہ کہہ کر چلا گیا اور میں اسکی باتوں سے دنیا کو بھول گیا۔

***

حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ ابتدائی دور میں ایک کنیز کی محبت میں گرفتار ہوگئے اور محبت کا عرصۃ طول پکڑ گیا۔ چنانچہ سردیوں کی ایک رات میں آپ صبح تک اس کے مکان کے سامنے انتظار میں کھڑے رہے اور جب سحر نمودار ہوئی تو رات کے بے کارجانے کا بے حد ملال ہوا اور دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر میں یہ رات عبادت میں گزارتا تو اس بیداری سے وہ لاکھ درجہ بہتر تھا۔ پس اسی تصور سے آپ نے تائب ہو کر عبادت دریافت کو صدق دلی کے ساتھ اپنا مشغلہ بنا لیا۔

***

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -اللہ والوں کے قصے -