” دروازہ اچھی طرح بند کر دیں ۔۔۔“ وزیراعظم نے کابینہ میٹنگ کا ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد کن لوگوں کو میٹنگ روم سے نکال دیا اور پھر بند کمرے میں وزراءسے ایسی کیا بات کہی کہ سناٹا چھا گیا؟ اندرونی کہانی نے تہلکہ مچا دیا

” دروازہ اچھی طرح بند کر دیں ۔۔۔“ وزیراعظم نے کابینہ میٹنگ کا ایجنڈا مکمل ...
” دروازہ اچھی طرح بند کر دیں ۔۔۔“ وزیراعظم نے کابینہ میٹنگ کا ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد کن لوگوں کو میٹنگ روم سے نکال دیا اور پھر بند کمرے میں وزراءسے ایسی کیا بات کہی کہ سناٹا چھا گیا؟ اندرونی کہانی نے تہلکہ مچا دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بعض وفاقی وزراءکی مبینہ کرپشن پر کابینہ کے پچھلے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کیا کہا؟ معمہ حل نہیں ہو سکا ہے کیونکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کسی وزیر کیخلاف کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی تحقیقات کا حکم دیا اور اس حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

دوسری جانب نجی ٹی وی جیو نیوز نے تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا ہے جس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ناصرف کرپشن کے حوالے سے بات کی بلکہ اس سے قبل انہوں نے میٹنگ روم میں سے کچھ لوگوں کو باہر نکالا اور دروازے کو اچھی طرح بند کروا دیااور اس کے بعد ہی ساری گفتگو کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو روز قبل ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس اس لئے بھی اہم تھا کہ وزیراعظم نے تمام وزراءسے مجموعی طور پر 60 دنوں کی کارکردگی رپورٹ اور آئندہ 40 دنوں کا پلان مانگ رکھا تھا۔ وزیراعظم نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ وہ 100دنوں میں کچھ کر دکھائیں گے مگر بظاہر ان کے سامنے صورتحال بہت مختلف ہے لہٰذا انہوں نے میٹنگ کے آخری لمحات میں وفاقی سیکرٹریز اور دیگر حکام سے کہا کہ اگر ایجنڈا مکمل ہو گیا ہے تو وہ باہر چلے جائیں۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی سیکرٹریز اور دیگر حکام کو باہر بھیجنے کے بعد وزیراعظم نے میٹنگ روم میں موجود ایک جونیئر وزیر سے کہا کہ وہ دروازہ اچھی طرح بند کر دیں جس پر کمرے میں مکمل خاموشی چھائی رہی اور پھر دروازہ بند ہونے کے بعد وزیراعظم نے خود ہی گفتگو شروع کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا کیونکہ میں نے اپنی 22 سالہ جدوجہد میں ایک ہی بات کی کہ کرپشن برداشت نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزراءکے حوالے سے کرپشن پر شکایات سامنے آئیں تو برداشت نہیں کی جائیں گی اور اس کیساتھ ہی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ مجھے کچھ شکایات مل بھی رہی ہیں۔ اس پر میٹنگ روم میں مکمل طور سناٹا چھا گیا اور پھر ایک وزیر کی جانب سے کہا گیا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ کن کیخلاف اور کیا شکایات مل رہی ہیں جس پر وزیراعظم نے کہا کہ جن لوگوں سے متعلق شکایات ملی ہیں ان کی تحقیقات کرائی جائیں گی اور وہ حکومت کیساتھ پارٹی میں بھی نہیں رہیں گے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -