اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کو گالیاں نکالنے والی یہ لیڈی ڈاکٹر اب کہاں اور کس حال میں ہے؟ جان کر کوئی بھی شہری کبھی ایسا کام نہ کرے

اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کو گالیاں نکالنے والی یہ لیڈی ڈاکٹر اب کہاں ...
اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کو گالیاں نکالنے والی یہ لیڈی ڈاکٹر اب کہاں اور کس حال میں ہے؟ جان کر کوئی بھی شہری کبھی ایسا کام نہ کرے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی دارالحکومت میں بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی پر ڈپلومیٹک انکلیو میں داخل ہونے سے روکنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کو دھمکیاں دینے والی خاتون کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیدیا ہے۔ ڈاکٹر شہلا شکیل سیٹھی کو پولیس نے اسلام آباد کی سرکاری ہاؤسنگ سوسائٹی سے گرفتار کیا جس کے بعد انہیں جسٹس عدنان رشید کے روبرو پیش کیا گیا جنہوں نے خاتون کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 رزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

ڈاکٹر شہلا کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں درج تمام دفعات قابلِ ضمانت ہیں۔ وکیل کے مطابق ان کی موکلہ بیرون ملک سے کافی عرصے بعد پاکستان آئی ہیں، لیکن پولیس اہلکاروں نے رہنمائی کرنے کے بجائے دباؤکا ماحول بنادیا۔ ملزمہ کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ان کی موکلہ دل کی مریضہ ہیں اور دباؤمیں ذہنی حالت مفلوج ہوجاتی ہے۔ عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی جانب سے دائر درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

جج عدنان رشید کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر ملزمہ کا طبی معائنہ کرائیں، اگر طبی معائنے میں ملزمہ کو صحت مند قرار دیا جائے تو جیل بھجوا دیں اور اگر ڈاکٹر تجویز کرتے ہیں تو سپتال میں داخل کرادیں۔ جج نے پولیس حکام کو وکیل صفائی کو واقعے کی ویڈیو کلپ دکھانے کی بھی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ 17 اکتوبر کو پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ ڈپلومیٹک انکلیو کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس افسر کی جانب سے تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کروایا گیا تھا۔ مذکورہ پولیس افسر نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر شہلا نامی خاتون نے بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی کے ساتھ ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر جانے کی کوشش کی اور روکنے پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ نہ صرف بدتمیزی کی بلکہ انہیں گاڑی اوپر چڑھانے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے خاتون شہلا شکیل کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دے دیا۔ وزیرمملکت نے پولیس کو واقعے کی تفتیشی رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نئے پاکستان میں کوئی وی آئی پی نہیں، ہر کوئی قانون کے تابع ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جوفرض شناسی سےکام کر رہے ہیں، حکومت ان کے پیچھے کھڑی ہے۔

مزید :

قومی -جرم و انصاف -علاقائی -اسلام آباد -