”بیگم مجھے مبارکباد دو کہ مجھے آپریشن رد الفساد میں منتخب کرکے بلوچستان بھیجا جارہا ہے “پاک فوج کے انتہائی بہادر کرنل کا اپنی اہلیہ کو فون،جواب میں بیگم نے کیا جواب دیا ،آپ بھی جانئے

”بیگم مجھے مبارکباد دو کہ مجھے آپریشن رد الفساد میں منتخب کرکے بلوچستان ...
”بیگم مجھے مبارکباد دو کہ مجھے آپریشن رد الفساد میں منتخب کرکے بلوچستان بھیجا جارہا ہے “پاک فوج کے انتہائی بہادر کرنل کا اپنی اہلیہ کو فون،جواب میں بیگم نے کیا جواب دیا ،آپ بھی جانئے

  

تحریر۔محمد طاہر تبسم درانی

پاک فوج کے آفیسر مشکل وقت آنے پر اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے ۔وہ دوسری افواج کی طرح اپنے جونیئرز کو آگے نہیں بھیجتے بلکہ خود لیڈ کرتے ہوئے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں، وہ شہادت کو ترجیح دیتے ہیں۔یہی فرق افواج پاکستان کو دنیا کی دیگر افواج سے منفرد کرتا ہے ۔کرنل سہیل عابدکا یہی طرہ امتیاز تھا۔وہ جب بھی کسی بڑے مشن پر گئے اسکو اپنی خوش نصیبی سمجھ کر اس میں شرکت کرتے۔یہی جذبہ انہیں شہادت کی منزل تک لے گیا ۔

کرنل سہیل کے والد وہاڑی کے نواحی گاﺅں 91-WB کے نمبر دار جبکہ ایک بھائی راجہ شیراز گل وکالت کے پیشہ سے منسلک اورچھوٹا بھائی یونین کونسل نمبر پانچ کا ممبر ہے ۔کرنل سہیل عابد نے پرائمری سے ایف اے تک کی تعلیم وہاڑی سے ہی حاصل کی جبکہ گریجوایشن انہوں نے اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز ایچ نائن سے مکمل کیا۔1990ءمیں 90 پی ایم اے لانگ کورس کے بعد پاک فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر شمولیت اختیار کی۔

کرنل سہیل عابد  کی کارکردگی کے سب گواہ تھے۔وہ حُسن ِکارکردگی کا ایوارڈجنرل راحیل شریف صاحب سے وصول کر چکے تھے ۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُن کے خاندان میں یہ تیسری شہادت ہے ۔اُن کے دادا صوبیدار میجر راجہ احمد حسین عباسی نے جنگ دوئم مصر میں جام ِ شہادت نوش کیا تھا۔ ان کے چچا کیپٹن ظفر اقبال عباسی (جن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وہاڑی کے قریبی ریلوے اسٹیشن کو اُن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے)نے 1949ءمیں کشمیر کے محاذ پر جام ِ شہادت نوش کیا تھا اور حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ جرا¿ت کا اعزاز اپنے نام کیا۔ یہاں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ یہ پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے ستارہ جرات حاصل کیا تھا ۔

کرنل صاحب بلوچستان ملٹری انٹیلی جنس ایم آئی میں خدمات سر انجام دے رہے تھے،جب انہوں نے کلی الماس میں اُن محفوظ ٹھکانوں کا پتہ لگایا جہاں یہ ظالم سفاک درندے تخریب کاری کے لیے منصوبہ سازی کررہے تھے۔یکم رمضان المبارک کو جام شہادت حاصل کرنے والے اس بہادر سپوت کی قربانی کو قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔ جب کرنل سہیل عابدکا جسد خاکی اُن کے آبائی گاﺅں لایا گیا تو اُس بہادر باپ کی بہادری پر رشک آنے لگتاہے جو بیٹے کی قربانی پر آنسو نہیں بہا تا بلکہ اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے کہ میرے بیٹے کو اللہ نے عظیم الشان مرتبہ عطا کیا۔ یہ میرا ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا بیٹا ہے۔بھائیوں کو اپنے بھائی کی قربانی پر ناز، کہ اُن کے بھائی نے وطن عزیز کی خاطرجان کا نذرانہ پیش کر کے اپنی آخرت سنوار لی اور اللہ کے قریبی بندوں میں اپنا نام لکھوا لیا۔وطن کے اس سپوت نے کتنے سہاگ اجڑنے سے بچا لیے ملکی سالمیت پر جان نچھاور کر کے امن کی شمع روشن کر نے میں اپنا حقیقی کردار ادا کر دیا۔

کرنل سہیل عابدپچھلے چھ ماہ سے بچوں اور گھر والوں سے دور ملک و قوم کی خدمت کر رہے تھے ، کرنل سہیل کے بچے ماں سے ناراض تھے اورضد کر رہے تھے کہ اس عید پر بھی ہمارے والد ہمارے ساتھ عید نہیں منائیں گے جبکہ والدہ بچوں کو کہتی ہے کہ ابھی آپ کے پاپا سے بات ہوئی ہے وہ اس عید پر ہمارے ساتھ ہونگے ۔ بچے والدہ کی بات پراطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں لیکن والدہ کی نم آنکھیں ابھی بھی اپنے خاوند کے انتظار میں لگی ہوئی ہیں ۔پھر اُن کے خاوند کا فون آتا ہے ، کرنل سہیل عابد بہت خوش تھے اُن کی آواز میں کمال کا جذبہ تھا۔ وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں ” دیکھو مجھے مبارکباد نہیں دو گی ،مجھے اللہ نے بلوچستان میں آپریشن ردالفساد کے لیے بطور انچارج سلیکٹ کر لیا ہے “ وہ ایک شجاع اور جری انسان تھے، بیوی کو تو عارضی جدائی بھی گوارہ نہ تھی اور آج تو وہ ہمیشہ کے لیے لمبی جدائی دے کر چلے گئے تھے۔ کرنل عابد نے کہاتھا” آج میں بہت خوش ہوں“ اہلیہ یہ سن کر ایک دم سے سکتے میں آگئیں۔ و ہ پہلے ہی چھ ماہ سے اپنے سر کے تاج کے انتظار میں تھی، پھر اس خبر نے انہیں بالکل خاموش کر دیا ،کہ پھر سے آواز آئی مبارک باد نہیں دو گی ۔کانپتے ہونٹوں پر قابو پایا اور لب کشائی کرتے کہا“مبارکباد ہو “ اور دل پر ہاتھ رکھ کر فون بند کر دیا۔

اس روز بچوں کو کھانا دینے اور سلانے کے بعد اپنے خاوند سے بات کرنے کو جی چاہ رہا تھا ، لیکن فون مسلسل بند جا رہا تھا کافی کوشش کے بعد اپنے کمرے میں آکر سو جاتی ہیں۔اگلی صبح ، سحری کے تیاری میں مصروف چپاتی توے پر ڈالتی ہیں کہ فون کی گھنٹی بجتی ہے ، السلام وعلیکم ، پھر دوسری طرف سے کچھ سنتی ہیں کہ آنکھوں سے نہ رکنے والی جھڑی جاری ہو جاتی ہے ۔آنکھیں رم جھم برسنے لگتی ہیں ، جسم لاغر ہو جاتا ہے ، ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں اور وہ وہیں گِر جا تی ہیں ۔ کرنل سہیل کی والدہ ذکر و اذکار میں مصلّے پر مصروف یہ ماجرا دیکھ رہی ہوتی ہیں ۔پھر وہ فون اٹھاتی ہیں اور اگلے لمحے یہ کلمات کہتی ہیں ” یا اللہ قبول فرمانا، اے اللہ قبول فرمانا“ اور آنسو زمین پر گرتے چلے جاتے ہےں۔

کرنل سہیل عابد شہید جو آپریشن ردالفساد کے انچارج تھے ،انہیں خبر ملتی ہے کہ دہشتگردوں کے پاس جدید اسلحہ اور بارود ہےَ ۔وہ ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوتاہے۔ یہ خود کش بمبار ملک میں بہت بڑی تباہی مچانا چاہتے تھے ۔اس آپریشن میں دشمنوں کو بھاری نقصان پہنچا ۔آپریشن میں سلمان بادینی جو کہ سو سے زیادہ لوگوںکو قتل کرنے میں ملوث تھا ، جس کے سر کی قیمت حکومت وقت نے بیس لاکھ روپے رکھی تھی ،اُسے بھی واصل ِ جہنم کیا گیاتھا۔ آپریشن میں دو خود کش بمبار وں کو بھی جہنم کی راہ د کھائی ،فائرنگ بہت شدید تھی لیکن پاک فوج کے جوانوں کے جذبہ حب الوطنی کو آگے بڑھنے کو نہ روک سکی ۔ پورے آپریشن میں کرنل سہیل عابد فرنٹ سے لیڈ کر رہے ، کہ اچانک ایک گولی اُن کے سینے میں آ لگی جس سے وہ بُری طرح زخمی ہوگئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 16 مئی 2018ءکو جام شہادت نوش کر گئے۔اس آپریشن میں کرنل سہیل عابد بڑی بہادری سے لڑتے رہے ، آپریشن کے دوران اے ٹی ایف (ATF) کے شدید زخمی ہونے والے حوالدار ثناءاللہ بھی شہادت کے منصب پر فائض ہوئے ۔کرنل سہیل شہیدعابدکا بیٹا احمد سالار اور تین بیٹیا ں ہمیشہ کے لیے اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہوگئیں اور بیوی نے اپنے سر کے تاج کو وطن عزیز پر قربان کر دیا۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ شہید کے درجات بلند فرمائے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔

کرنل سہیل کی شہادت کی خواہش کتنی طاقتور تھی ان کی اپنی لکھی نظم میں ان کا یہی جذبہ دیکھئے

میری وفا کا تقاضا کہ جاں نثار کروں

اے وطن تری مٹی سے ایسا پیار کروں

میرے لہوسے جو تیری بہار باقی ہو

میرا نصیب کہ میں ایسا بار بار کروں

خون دل سے جو چمن کو بہار سونپ گیا

اے کاش اِ ن میں خود کو شمار کروں

مری دعا ہے سہیل میں بھی شہید کہلاﺅں

میں کوئی کام کبھی ایسا یادگا ر کروں

مزید :

دفاع وطن -