کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزیاں

کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزیاں

  



لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے تین سیکٹرز پر بھارتی جارحیت کا پاک فوج نے دندان شکن جواب دیا، جس میں 9 بھارتی فوجی مارے گئے اور متعدد زخمی ہو گئے۔ دشمن کو اپنے فوجیوں کی لاشیں اور زخمی اٹھانے کے لئے سفید جھنڈے لہرانے پڑے۔ بھارت کے فوجیوں نے سول آبادی کونشانہ بنایا جس سے فوجی جوان سمیت 6 شہری شہید ہو گئے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ اپنے شہریوں کا تحفظ کریں گے ایل او سی کی خلاف ورزی پر بھارتی فوج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں گے، انہوں نے بتایا کہ بھارتی فوج نے جورا (وادی نیلم) شاہ کوٹ اور نوسہری (ضلع مظفر آباد) میں بلا اشتعال فائرنگ کی، پاک فوج نے اس کا موثر جواب دیا۔

بھارت نے کنٹرول لائن پر پاکستان کے خلاف جو غیر علانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے اس میں ہر روز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے مقبوضہ کشمیر میں ڈھائی ماہ سے جو کرفیو نافذ ہے اور اس کی وجہ سے پوری وادی بڑے جیل خانے کا جو منظر پیش کر رہی ہے اس پر پوری دنیا کا میڈیا چیخ و پکار کر رہا ہے، لیکن مودی سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ کشمیر کے حالات بہتر کرنے کی بجائے کنٹرول لائن کا محاذ مسلسل گرم کیا جا رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں شدت پیدا کی جا رہی ہے تاکہ دنیا کو یہ تاثر ملے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نہیں، لائن آف کنٹرول کی صورت حال اصل مسئلہ ہے، بھارت پاکستانی فوجیوں کے ساتھ ساتھ شہری آبادیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ بڑے طویل عرصے سے یہ سلسلہ جاری ہے اور کسی طرح رکنے میں نہیں آتا۔ پاک فوج کو بھی اس جارحیت کا جواب دینا پڑتا ہے، سویلین آبادیوں کو مسلسل خوف و ہراس کا شکار کیا جا رہا ہے۔

اب تو خود بھارت کے اندر سے ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت کی اس جارحیت کے دومقاصد ہیں ایک تو کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانا اور دوسرے بھارت کے اندرونی مسائل پر پردہ پوشی۔ کانگرس کے رہنما اکھلیش سنگھ نے بھارتی آرمی چیف کے سرجیکل سٹرائیک کے دعوؤں کو بھی جھوٹا قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہر الیکشن سے پہلے مودی پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کرتا ہے اور آرمی چیف ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔ حالانکہ سرجیکل سٹرائیک سرے سے نہیں ہوئی ہوتی اور اسے الیکشن سٹنٹ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور انتخابی مہم میں اسے کیش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہماری سیاست اب سرجیکل سٹرائیک پر چلے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی باتیں کرنے کا مقصد اندرونی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔ آج ہریانہ اور مہاراشٹر کی ریاستوں میں الیکشن ہو رہا ہے جس کے ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا۔

سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامے بھارتی فوج کئی سال سے کر رہی ہے کوئی ایک ڈیڑھ برس قبل جب یہ دعوی کیا گیا تھا تو اگلے ہی روز پاکستان میں مقیم غیر ملکی نامہ نگاروں کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرایا گیا جہاں سرجیکل سٹرائیک کے سرے سے کوئی آثار ہی نہیں تھے۔ بھارت کی تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے اس نام نہاد سرجیکل سٹرائیک پر اپنے سیاستدانوں کو بریفنگ دی تو کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ بس یہ کہاکہ جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں وہ مان لیں، مخالف جماعتوں نے بھارتی فوج کے اس رویئے کو بھی ہدف تنقید بنایا پھر پلوامہ واقعہ کے بعد بھارتی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالاکوٹ پر جو حملہ کیا اس میں متضاد اور مضحکہ خیز دعوے کئے گئے۔ شروع میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کے کیمپ پر حملہ کرکے 350دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے ہیں لیکن حملے کے اگلے ہی روز جن لوگوں نے اپنی آنکھوں سے متعلقہ علاقے کا معائنہ کیا انہیں وہاں دہشت گردوں کے کیمپ نظر آئے نہ کوئی لاش نہ لاشوں کے ٹکڑے جو فضائی حملے میں عموماً اڑ جاتے ہیں، الٹا ایک بھارتی پائلٹ کو زندہ گرفتار کرلیا گیا جسے خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد ہی رہا کردیا گیا، لیکن بھارت کے فوجی افسر اور وزیر خارجہ سمیت بہت سے سیاست دان مسلسل ایسے ناقابل یقین دعوے کرتے رہے، پھر آنجہانی سشما سوراج کو بالآخر تسلیم کرنا پڑا کہ کوئی دہشت گرد ہلاک نہیں ہوا تھا۔ اب پھر سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کا کانگرسی رہنماؤں نے پول کھول دیا ہے۔

کشمیر کی کنٹرول لائن پرجنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اس وقت سے جاری ہیں جب 2014ء کے لوک سبھا کے انتخابات کے لئے انتخابی مہم جاری تھی اور بی جے پی اور کانگرس دونوں جماعتیں بڑھ چڑھ کر پاکستان کے خلاف بیان بازی کر رہی تھی۔ دونوں کا خیال تھا کہ پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے ووٹر انہیں ووٹ دے گا کیونکہ بھارتی ووٹروں کے ذہن میں پاکستان کے خلاف زہر بھرا جارہا تھا اس وقت حکومت کانگرس کی تھی اس نے بھی کنٹرول لائن کا محاذ گرم رکھا اور نریندر مودی نے وزیراعظم بن کر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ تیز کر دیا، کیونکہ لوک سبھا کے ضمنی اور ریاستی انتخابات جیتنے کے لئے پاکستان دشمنی کی فضا برقرار رکھنا ضروری تھا جب بھی کسی ریاست میں انتخابات ہونے ہوتے تھے مودی کی زبان پاکستان کے خلاف شعلے اگلنے لگتی تھی اب دو دن پہلے انتخابی جلسے میں انہوں نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی ہے اور دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم پر پاکستان کا پانی روک بھی لیا ہے۔ ان سارے اقدامات کا مقصد بھارتیوں کی پاکستان دشمنی کو انگیز کرکے ان سے ووٹ حاصل کرنا ہے۔

بھارتی مقاصد جو کچھ بھی ہوں پاکستان کی افواج منہ توڑ جواب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے جنگ کا دائرہ وسیع ہوگا اور خطے کا امن خطرے سے دوچار ہو جائے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ بھارتی جارحیت کو آخر کب تک برداشت کیا جائے گا، کسی نہ کسی وقت تو اس کا جواب دینا ہی پڑے گا۔ شہری آبادی کا تحفظ ضروری ہے اور خوف کی فضا کو زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رکھا جاسکتا، ایسے میں عالمی اداروں کا فرض ہے کہ وہ مودی کی جارحیت پسندی کو روکیں اور وہ کنٹرول لائن پر گولہ باری کا جو کھیل کھیل رہی ہے انہیں اس سے روکا جائے، کشمیر کے حالات اب کشمیریوں کے لئے ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصے کے کرفیو نے ان کا پیمانہ صبر لبریز کر دیا ہے یہ آتش فشاں پھٹ پڑا تو خطے کا امن بھک سے اڑ جائے گا۔ عالمی اداروں کو اس سے پہلے کوئی موثر اقدام کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ