ٹریفک میں نظم و ضبط

ٹریفک میں نظم و ضبط
ٹریفک میں نظم و ضبط

  



یہ خاکسار بھی انہی لوگوں میں شامل ہے جو نئے پاکستان کے اونٹ کے بیٹھنے کے منتظر ہیں۔ لیکن میں ان لوگوں میں نہیں ہوں جو ابھی سے کپتان کی حکومت پر لعن طعن کر رہے ہیں البتہ میں چاہتا ہوں کہ حکومت درج ذیل کام ترجیحی بنیادوں پر کرے۔ٹریفک: ملک کے اندر ٹریفک کی صورت حال پر میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جہاں ٹریفک کنٹرول سے ہم کئی قیمتی جانیں بچا سکتے ہیں۔، کئی جھگڑوں اور مقدمات سے بچ سکتے ہیں۔ وہیں ملک کی سمت اور لوگوں کی سوچ کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اور یہ کام ناممکن ہے نہ بہت زیادہ مشکل، اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ ناممکن ہے تو یہ ناچیز اس کو موجودہ حکومت کی بقایا مدت میں ممکن بنا کر دکھا سکتا ہے۔ میری تجاویز پر غور فرمائیں

1: کسی بھی صوبے کے بڑے شہروں سے آغاز کیجیے۔ سب سے پہلے شہر کی آبادی کے تناسب سے اس شہر میں ڈرائیونگ سکول بنائے جائیں (یہ کام کسی نجی ادارے سے لیا جائے تو بہتر ہوگا) اور پھر اعلان کیا جائے کہ تمام پرانے لائسنس منسوخ کیے جاتے ہیں ایک سال کے اندر لائسنس کی تجدید کروانا لازمی قرار دیا جائے اور نئے لائسنس بنانے کا کام بھی صرف انہی اسکولوں کے حوالے کیا جائے۔ جہاں پہ ضابطے اور انسانیت کا سبق پڑھایا جائے پھر عملی ڈرائیونگ سکھائی جائے۔

2: جب تک کوئی بندہ تھیوری اور عملی ڈرائیونگ پاس نہ کر لے اس وقت تک اس کو لائسنس جاری نہ کیا جائے۔ تمام ڈرائیوروں کے لیے ابتدائی تعلیم لازمی قرار دی جائے یا کم از کم پڑھنا اور ٹریفک کے اشارے سمجھنا لازمی ہو۔

3: ایک یا ڈیڑھ سال میں یہ کام مکمل ہو جائے گا یعنی اب سڑک پر وہی ڈرائیور آئے گا جو تربیت لے چکا ہوگا، اب اس تربیت اور قانون پر عملدرآمد کا وقت ہوگا، ہمارے ملک میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بہت کم جرمانے اور سزائیں ہیں۔ ان کو ایک ہزار گنا بڑھایا جائے، یعنی کم ز کم جرمانے کی حد پانچ ہزار روپے ہو اور لائسنس پر ایک داغ لگایا جائے جب یہ داغ پانچ تک پہنچ جائیں تو لائسنس منسوخ کر کے 6 ماہ کی سزا دی جائے۔ سنگین غلطی پر لائسنس اسی وقت ضبط کر کے گاڑی کو بھی بند کر دیا جائے گاڑی کو کچھ دنوں کے لیے بند کیا جائے اور لائسنس کو کم از کم چھ ماہ تک منسوخ رکھا جائے

4: ٹریفک کے قوانین وزیراعظم سے لیکر عام آدمی تک سب پر یکساں لاگو کیے جائیں اور کسی سفارش کی پرواہ نہ کی جائے، اس کے لیے پولیس کو بھی خصوصی تربیت دی جائے۔

5: ریلوے پھاٹک اور اس طرح کی دوسری جگہوں پر بھی ٹریفک کنٹرول کے لیے پولیس ہونی چاہیے۔

الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کی بھرپور مہم چلائی جائے اس کے علاوہ تعلیمی اداروں اور مساجد کے اندر ٹریفک کے حوالے سے آگاہی مہم چلا کر لوگوں کو ٹریفک قوانین کے متعلق بتایا جائے اور اس پر عمل درآمد کروانے کی ترغیب دی جائے۔ ٹریفک کے بعد دوسرا محکمہ جس کی فوری تربیت بہت ضروری ہے۔وہ ہے پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے۔ کسی بھی ملک میں نظم و ضبط پیدا کرنے امن و امان کو قائم رکھنے میں پولیس کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔کیونکہ انہوں نے ہی دوسرے اداروں میں کرپشن کو روکنا اور لوگوں کو فوری ریلیف دلانا ہوتا ہے اگر ان کی اپنی کوئی تربیت نہ ہو، اپنے حلف کی پرواہ نہ ہو تو وہ دوسرے اداروں اور انسانوں کی اصلاح کیونکر کر سکے گی؟؟ پولیس کی تربیت کیسے ہو، اس پر اگلے کالم میں پوری تفصیل سے بتاوں گا۔

مزید : رائے /کالم