ماواں ٹھنڈیاں چھانواں

ماواں ٹھنڈیاں چھانواں
ماواں ٹھنڈیاں چھانواں

  



نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اگر میری ماں زندہ ہوتی اور مَیں عشاء کی نماز شروع کر چکا ہوتا،اِس دوران وہ مجھے اپنے حجرے سے پکارتیں اے محمد! تو خدا کی قسم! مَیں نماز چھوڑ کر ان کے پاس حاضر ہوتا اور اس کے قدموں سے لپٹ جاتا“۔

یہ حدیث ماں کی عظمت بیان کرنے کے لئے کافی ہے،لیکن پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماں کی عظمت کے حوالے سے اور بھی بہت کچھ فرمایا ہے،جو ہمارے لئے مشعل ِ راہ ہے کہ ہم اپنے والدین کی کس طرح اور کس لگن سے خدمت کریں تو اللہ کے ان بندوں میں شامل اور شمار ہو سکتے ہیں، جنہیں وہ پسند کرتا ہے۔حضرت معاویہ بن حیدہ ؓ سے روایت ہے کہ مَیں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَیں کس کے ساتھ احسان کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اپنی والدہ کے ساتھ۔مَیں نے عرض کیا:پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اپنی والدہ کے ساتھ۔:پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اپنے والد سے، پھر مرتبہ کی ترتیب سے اپنے قریبی رشتے داروں سے۔ (ترمذی، ابو داؤد)

ماں کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لئے کوہِ طور پر چڑھنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی ”اے موسیٰ علیہ السلام اب تم ذرا سنبھل کر میرے پاس آنا“ کیونکہ تمہارے لئے دُعائیں کرنے والی ہستی اب دُنیا میں نہیں رہی۔مَیں یہ بات پورے وثوق سے لکھ رہا ہوں کہ ہر ماں کی زندگی ترتیب، تنظیم اور توازن سے عبارت ہوتی ہے۔وہ سب بھائی بہنوں کو برابر کی توجہ دیتی اور سب کا برابر کا احساس کرتی ہے۔ماں دراصل دُعاؤں کی مشین ہوتی ہے۔وہ جب بھی مصلے پر بیٹھتی ہے،جب بھی کوئی نماز پڑھتی ہے،جب بھی کوئی ختم شریف ہوتا، جب بھی کوئی تہوار ہوتا ایک ایک بچے کا نام لے کر دُعائیں کرتی تھیں۔شب ِ برأت اور عیدوں پر تو اس غیر متبدل ہستی کے سجدے مزید لمبے ہو جاتے، دُعاؤں کے لئے ہاتھ مزید بلند ہو جاتے تھے۔ مَیں یہ بات بھی پورے وثوق سے لکھ اور کہہ سکتا ہوں کہ آج جو کچھ بھی ہوں اپنی والدہ کی دُعاؤں کی بدولت ہوں، کیونکہ جب بھی کبھی کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے تو ماں کی دُعائیں ہی ہیں،جو بچے کو آفات، مصائب، مشکلات اور مسائل سے محفوظ رکھتی ہیں۔ انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی کا نام ماں ہے۔ ماں، جس کو ربِ ذوالجلال نے تخلیق کا اعجاز عطا کر کے اپنی صفت سے روشناس فرمایا۔ ماں کا وجود محبت کا وہ پیکراں سمندر ہے کہ جس کی وسعت کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا،کیونکہ ایسا کوئی پیمانہ بنا ہی نہیں،جو اس وسعت کو ناپ سکے۔ عباس تابش کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش

مَیں نے ایک بار کہا تھا،مجھے ڈر لگتا ہے

ماں کی عظمت کے بارے میں کچھ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے اور ایسا کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ماں شفقت، خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی محبت، ٹھنڈک، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔یوں لگتا ہے بندہ کڑی دھوپ سے ٹھنڈی چھاؤں میں، کسی گھنے سایہ دار درخت کے نیچے آ گیا ہو۔اس کا دست ِ شفقت شجرِ سایہ کی طرح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دِلاتا ہے اور اس کی گرم گود سردی کا احساس نہیں ہونے دیتی۔

یہ ساری باتیں اِس لئے یاد آ رہی ہیں کہ گزشتہ دِنوں مَیں بھی ان لوگوں میں شامل ہو گیا ہوں جن سے یہ نعمت چھن چکی ہے۔یکم اکتوبر کی رات اپنی ماں کے بغیر میری پہلی رات تھی۔اپنے تئیں ہم نے ان کی بہت خدمت کی، لیکن آج بھی دِل چاہتا ہے کہ کاش وہ زندہ ہوتیں تو پہلے سے بڑھ کر ان کی خدمت کرتے۔چون پچپن برس کے شب و روز آنکھوں میں گھومتے رہے۔ماں کی اصل قدرو قیمت کا اندازہ اُس وقت ہوتا ہے جب وہ ہم سے بہت دور خاموش بستی میں چلی جاتی ہے۔ والد صاحب(اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے،ان کی قبر کو کشادہ اور منور کرے) تیس سال پہلے ہمیں داغ مفارقت دے گئے تھے۔ اب ہم اایک اور گھنی چھاؤں سے محروم ہو گئے ہیں، جن کے والدین زندہ ہیں وہ ان کی دِل وجان سے خدمت کریں۔والدہ کی خدمت تو کرنی ہی چاہئے،لیکن والد کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ یہ ہستی بھی اولاد کے لئے بہت سی تکلیفیں سہتی اور مشکلات کو برداشت کرتی ہے۔

مزید : رائے /کالم