مشکل وقت گزر جائے گا

مشکل وقت گزر جائے گا
مشکل وقت گزر جائے گا

  



پاکستان آج کل شدید ترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف تو اپوزیشن حکومت کے پچھلے بیانات اور غیر حقیقی نعروں کو بنیاد بنا کر روزانہ ہدف تنقید بنا رہی ہے.تو دوسری جانب معاشی بدحالی سے نکلنے کے لیے ہمارے وزیراعظم آئے دن کسی نہ کسی ملک کے دورے پر پہنچے ہوتے ہیں جہاں سے عوام کے لیے مزید قرض کی خبر سنائی جاتی ہے, لیکن یہ بات کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ بھی تو قرض ہی ہے جو آج نہیں تو کل ادا کرنا پڑے گا. ایک طرف ملک کو مقروض کرنے کی بنیاد پر پچھلی حکومتوں پر لعن طعن کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب مزید قرض لے کر قرض کی دلدل کو مزید گہرا کیا جارہاہے۔ قرض لینا کوئی بری بات نہیں،کیونکہ برے حالات کسی ملک پر بھی کسی بھی وقت آ سکتے ہیں اور وقتی طور پر قرض لیا جاسکتا ہے، مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ 1947ء سے ہم قرض کے پہاڑوں تلے دبتے چلے جارہے ہیں اور قرض لینے کی کوئی معقول وجہ اور اس کا ملک و قوم کے لئے سود مند ثابت ہونے کا کوئی ٹھوس پروگرام وضع کرنے کے بجائے حکومت صرف خوشی کے شادیانے بجاتی نظر آتی ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کا محلِ وقوع اس خطے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ایک طرف چین ہے جو ایک نئی ابھر تی ہوئی معیشت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔دوسری جانب, افغانستان عرصہ دراز سے کشیدہ حالات سے گزر رہا ہے۔ پہلے بڑی طاقت روس کی افغانستان میں مداخلت تھی تو اب امریکہ افغانستان کے ساتھ الجھا ہوا ہے۔ پاکستان کے مشرق میں واقع ہندوستان جو بظاہر ایک بہت بڑے رقبے پر پھیلا ہوا تو ہے مگر پاکستان کے ساتھ اتنے بڑے تنازعات میں بھی الجھا ہوا ہے.اس کے ساتھ ساتھ ایران ہے، جوپاکستان کے مغرب میں واقع ہے مگر اس کے تعلقات بھی پاکستان کے ساتھ کچھ مثالی نہیں ہیں، مگر اب ایران اور امریکہ کے بگڑتے تعلقات سے پاکستان کی اکانومی پر منفی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

پاکستان ایک ایسے سینٹرل پوائنٹ پر واقع ہے جس سے ایک تو بڑی بڑی معیشتوں کے مفادات وابستہ ہیں تو دوسری جانب دنیا کے اہم ترین قدرتی وسائل تک رسائی بھی حاصل کی جاسکتی ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنی اہمیت کا حامل ملک, معاشی بحران کی دلدل میں کیسے پھنس گیا؟ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک وجہ مس مینجمنٹ ہے کہ ہم اپنے وسائل اور قوت کا صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر پارہے۔ ہماری حکومتیں اس کا درست تعین نہیں کر پاتیں کہ کون سا کام کس جگہ اور کس وقت کرنا ہے, اپنے وسائل کس چیز پر اور کس وقت خرچ کرنے ہیں،مگر یہ بات انتہائی معنی رکھتی ہے. ہماری سستی,غفلت اور نااہلی کی وجہ سے کام بعد میں تو کرنا پڑتا ہی ہے مگر مس منجمنٹ کے باعث اس پر بہت زیادہ وسائل خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ ہمارے ہاں نئی سڑک تعمیر ہونے کے بعد محکموں کو خیال آتا ہے کہ بجلی کے کھمبے لگنا تھے, گیس اور سیوریج کی پائپ لائنیں بھی زیر زمیں نسب ہونی تھیں.

یہاں سیلاب آنے اور فصلوں کے تباہ ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے اور پھر کسی کو خیال آتا ہے کہ نہروں اور دریاؤں کے پشتے مضبوط کرنے تھے۔دوسرا عنصر آبادی ہے، جس کی بات کی جائے تو ہمیں آبادی پر کنٹرول تو ضرور کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں آبادی بڑھنے پر رویا جاتا ہے، مگر یاد رکھا جائے کہ معاشی بحران کی اصل وجہ آبادی نہیں،بلکہ انٹرنیڈ پاپولیشن ہے، جیسا کہ جنگ کے بعد جاپان کی معیشت تہس نہس ہو چکی تھی اور قدرتی وسائل بھی نہ ہونے کے برابر تھے. نظر یہی آ رہا تھا کہ جاپان اب صدیوں تک دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکے گا، مگر جاپان نے 10سے 15 سال کے مختصر عرصے میں اپنی معیشت کو مستحکم کر لیا اور دنیا میں ابھر کر سامنے آیا اور دنیا کو اپنی ترقی سے حیران کر دیا۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا!بحران سے نکلنے کی وجہ یہ تھی کہ جاپان کی آبادی اس پر بوجھ نہ بنی،کیونکہ اس کی آبادی ہنرمند تھی, اس کی آبادی اپنے ہنر کی وجہ سے مشکل وقت میں سہارا بنی، اس ہنرمند آبادی کی وجہ سے ہی جاپان اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا ہو سکا اور کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی ایسا کام کر دکھایا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔

مائیکروسافٹ کا مالک بل گیٹس جب میدان میں اترا تو بالکل خالی ہاتھ تھا،مگر آج اپنے ہنر کی وجہ سے اپنے ملک کے لیے ہر سال اربوں ڈالر کما رہا ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اگر کسی کو ہنر سکھا ہی دیا جاتا ہے تو اس کو وہ راستہ نہیں دکھایا جاتا جس سے وہ اپنے ہنر کا فائدہ اٹھا سکے،یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں بل گیٹس اورمارک زکر برگ جیسے لوگ پیدا ہی نہیں ہو پاتے۔ اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ معاشی بحران کی اصل وجہ آبادی نہیں، بلکہ غیر تربیت یافتہ اور غیر ہنرمند آبادی ہے، کیونکہ اگر آبادی ہی اصل مسئلہ ہوتی تو آج چین دنیا کی مضبوط ترین معیشت نہ ہوتا۔

پاکستان میں معاشی بحران کی ایک اور بڑی وجہ دہشت گردی ہے۔ بڑی بڑی معیشتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے دہشت گردی کرواتی ہیں جس کا خاتمہ کرنے کے لیے پاکستان کی فوج اور دیگرادارے دن رات جدو جہد کر رہے ہیں۔ دہشت گردی پاکستان کی معیشت کو دیگر عناصر سے دوگنا نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک تو دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملکی سیاحوں کا آنا نہ ہونے کے برابر رہ گیا تودوسرا پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے انٹرنیشنل لیول کی کھیلوں کا انعقاد بھی بند ہوگیا ہے،الٹا اس کے خاتمے کے لیے پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ معاشی بحران کی ایک اور بڑی وجہ جمہوری حکومتوں کی تسلی نہ ہونا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں چار بار مارشل لاء نافذ کیا گیا، جس کے بعد پالیسیوں میں تضاد کی وجہ سے ملکی معیشت کو شدید قسم کا جھٹکا لگا، جبکہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں ایک بار بھی مارشل لاء نافذ نہیں ہوا اور ہمارے ہی جیسے اندرونی حالات ہونے کے باوجود بھارت کی معیشت ہم سے زیادہ مضبوط ہے.

یہاں یہ یاد رکھا جائے کہ معاشی بحران سے جہاں ملکوں کے ملک اجڑ گئے، وہیں جرمنی جیسے ملک بھی تھے جنہوں نے معیشت کے بحران کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا اور بحران پر قابو پالیا,اور قابو بھی ایسا پایا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔معاشی بحران کے اثرات سے بچنے کے لیے کسی بھی قوم کا کردار سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے،اگر ہم اپنے مذہب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے مذہب اسلام میں اخوت و بھائی چارے پر بہت زور دیا گیا ہے،مگر آج نفسانفسی کے اس عالم میں ہم ان احساسات اور جذبات سے کوسوں دور تباہی کے کناروں پر کھڑے ہیں، آج بحیثیت قوم ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھا مے رکھنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے وطن کے ہر شخص اور ادارے کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ مثلاً ہمارے ملک کے تعلیمی ادارے جو نجی طور پر طلبہ و طالبات کو پڑھا رہے ہیں ان کا فرض بنتا ہے کہ ایسے والدین جو ملک میں موجودہ معاشی بحران سے مجبور ہیں اور اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کر سکتے، بجائے اس کے کہ ان کے بچوں کو فیس کے باعث سکولوں،کالجوں سے نکالا جائے۔

ان کو رعایت دی جائے، کیونکہ یہی نوجوان نسل اس ملک کا اصل سرمایہ ہے،ایسا نہ ہو کہ چند روپیوں کی خاطر یہ نو جوان زیور علم سے محروم ہو جائیں اور کل کو پاکستان کے لیے رحمت کے بجائے زحمت ثابت ہوں۔ اس بحران سے نکلنے کے لئے ملک کے ہر چھوٹے بڑے ادارے کو قربانی دینا ہوگی، مگر پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ وہ قربانی نہیں جو ہمارے بڑوں نے حصول پاکستان کے وقت دی تھی اور ملک کے استحکام کی خاطر قربانیاں دینا تو عظیم قوموں کی نشانی ہے جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

مزید : رائے /کالم