سیاسی سرکس کا کنواں

سیاسی سرکس کا کنواں
سیاسی سرکس کا کنواں

  



تقریباً 36 برس ہو گئے ہیں کالم لکھتے ہوئے،ہزاروں کالم لکھے، اب کچھ دوستوں کا اصرار ہے کہ چنیدہ کالموں کا ایک انتخاب کتابی شکل میں سامنے آنا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے جب میں نے 1983ء سے کالم تلاش کرنا شروع کئے تو دماغ چکرا کر رہ گیا۔ کل کے اور آج کے کالموں میں مجھے بے انتہا مشابہت نظر آئی۔ بس ناموں کا فرق تھا،سب کردار بھی وہی اور ان کے اعمال بھی ایک دوسرے سے مماثل۔ یہ کیا ماجرا ہے، اب انتخاب کیسے ہو؟ سب کالم تو ایک جیسے لگ رہے ہیں، وہی واقعات، وہی مکالمے، وہی الزامات، وہی کہہ مکرنیاں اور وہی فتوے۔ پھر کیا صرف تاریخیں بدل دی جائیں کہ ایک کالم 1985ء میں چھپا اور دوسرا 2018ء میں، باتیں وہی ہیں۔ بس کہنے والے بدل گئے ہیں۔ یہ کیا ملک ہے، کیسی سیاست ہے، کیسے لوگ ہیں، کیسی ڈھیٹ فضا ہے کہ کیلنڈر پر سن تو تبدیل ہوتا ہے، باقی سب کچھ جوں کا توں رہتا ہے۔

کیا ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ آگے نہیں بڑھنا۔ کیا ہمارے اکابرین اسی طرح گزرے ہوؤں کے لفظوں کی جگالی کرتے رہیں گے۔ ان کی کہی ہوئی باتوں سے سرِ مو انحراف نہیں کریں گے۔ اور تو اور ہمارے ہاں کفر کے فتوے تک تبدیل نہیں ہوئے۔ آج بھی کسی کو یہودی، کسی کو کافر اور کسی کو قادیانی کہہ کر اپنے مقاصد پورے کئے جا رہے ہیں۔ مجھے تو اس کے لئے کسی اور سے گواہی لینے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔ میرے تو اپنے قلم سے نکلے ہوئے حرفوں نے بتا دیا کہ میں ایک ہی دائرے میں سفر کر رہا ہوں، جیسے سرکس کے کنوئیں میں موٹر سائیکل چلتی تو بہت تیز ہے مگر رہتی وہیں ہے اور بالآخر تھک کر رک جاتی ہے۔

اب اگر آج کی اپوزیشن کا آزادی مارچ یا دھرنا احتجاج دیکھ کر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اپوزیشن کی تحریک یاد آ رہی ہے تو کیا غلط ہے۔ صرف چہرے ہی تو بدلے ہیں،ذوالفقار علی بھٹو کی جگہ عمران خان ہدف ہے اور اپوزیشن کی سربراہی ایک مذہبی جماعت کے ہاتھوں میں ہے۔ کل مفتی محمود ہراول دستے میں تھے۔ آج مولانا فضل الرحمن ہیں، کل ضیاء الحق سے توقعات تھیں، آج جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہیں، کل ذوالفقار علی بھٹو یہود و ہنود کا ایجنٹ تھا، آج عمران خان ہے۔ کل ذوالفقار علی بھٹو پر توہین رسالت کے الزامات لگتے تھے، آج عمران خان پر الزام لگ رہے ہیں کہ وہ قادیانیوں کے ہاتھ میں کھیل رہا ہے۔ بات کل بھی غلط تھی، بات آج بھی غلط ہے، الزام کل بھی جھوٹا تھا،الزام آج بھی جھوٹا ہے، مگر بھلے جھوٹا ہو، کام تو چلا رہا ہے۔ سکہ کھوٹا چاہے ہو، اگر مارکیٹ میں اس کی ڈیمانڈ ہے، تو چلتا رہے گا۔

سو یہ سکہ آج بھی چل رہا ہے۔ صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ سیاسی جماعتیں بے دلی کے ساتھ یہ ضرور کہنے لگی ہیں کہ ہم اس تحریک میں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی حامی نہیں، حالانکہ سب کچھ ایک مذہبی جماعت کے پیچھے چھپ کر کیا جا رہا ہے، لیکن کوئی ماننے کو تیار نہیں۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی مارچ میں شامل ہونے سے انکاری ہیں، البتہ حمایت ضرور کرتی ہیں، جب وہ مارچ میں شامل ہی نہیں ہوں گی تو کیسے یہ دعویٰ کر سکتی ہیں کہ اس میں دینی مدرسوں کے بچے شامل نہیں ہوں گے، مذہبی کارڈ استعمال نہیں ہوگا، انتخابات میں تین فیصد ووٹ لینے والی جماعت اتنے کارکن کہاں سے اکٹھے کرے گی کہ مجمع لاکھوں تک پہنچ جائے۔

پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) کے خلاف اور مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی کے خلاف ”حکومت ہٹاؤ“تحریکیں چلاتی رہی ہیں۔ ایک ہی الزام کہ ملک کو لوٹ کھایا ہے، کرپٹ ہیں، ملک دشمن ہیں، بھارتی ایجنٹ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر ان الزامات کی لاج رکھنے کے لئے نیب کے تحت مقدمات بھی بنائے، این آر او بھی کئے، لیکن اپنی خو نہ چھوڑی، بس تبدیلی اس لئے آئی کہ ایک تیسرا فریق میدان میں آ گیا، جب تک نوازشریف کی حکومت تھی، آصف علی زرداری کا رخ انہی کی طرف تھا، عمران خان کی حکومت بنی تو انہیں میاں صاحب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونا پڑا۔ آج حریف اور حلیف بدل گئے ہیں، مگر الزامات وہی ہیں وہی کرپشن کے قصے کہانیاں اور وہی حکومت پر آمرانہ اقدامات اور جمہوریت کش اقدامات کے الزامات، وہی نہ جھکنے اور نہ بکنے کی باتیں اور وہی کرپٹ عناصر کو نہ چھوڑنے کے دعوے۔ ارے بھائی کچھ آگے بھی چلو، کچھ آگے بھی بڑھو، ملک کتنا کمزور ہو گیا ہے، معیشت کتنی ڈانواں ڈول ہے۔

سرحدوں پر کتنے چیلنجوں کا سامنا ہے، کشمیر ہاتھوں سے نکل رہا ہے، ملک کے اندر بیرونی دشمنوں کی سازشیں جاری ہیں، بد امنی کا عفریت پوری طرح مسلط ہو رہا ہے، اتنے بڑے بڑے چیلنجوں کے باوجود کوئی نہیں جو یہ سوچے کہ ہمیں اس وقت ایک ہونا ہے، یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہے، اپنے مشترکہ دشمن سے نمٹنا ہے، آپس میں ہی گھتم گُتھا ہونے کی تیاری ہے، سیاستدانوں کو کون لڑاتا ہے، کون انہیں باہم پیکار کرتا ہے، کون ان کے ذہنوں کو ماؤف کر دیتا ہے، آخر خرابی کہاں ہے کہ پاکستان میں تاریخ بدلنے کا نام نہیں لیتی، ایک ہی دائرے میں گھومتی ہے، جیسے یہ قوم تحرک سے نابلد ہے، اور اسے جب چاہو پرانی ڈگر پر ڈال کر بے وقوف بنا لو، ڈگڈی بجا کر نچا لو۔ڈھیٹ ہم اتنے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اپنی ماضی میں کہی ہوئی باتوں کو اپنی آنکھوں اور کانوں سے سن کر بھی غیرت نہیں پکڑتے، شرمندہ نہیں ہوتے۔ اس میں عوام اور قائدین دونوں ہی شامل ہیں۔ کل تک ہم جن باتوں کو غلط قرار دیتے تھے، ان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے، آج ان کے مبلغ اور مقلد بن جاتے ہیں۔

آج مولانا فضل الرحمن کے وہ ویڈیو کلپس بڑے تواتر سے دکھائے جا رہے ہیں، جو تحریک انصاف کے 2014ء میں دیئے گئے دھرنے کے ان کے بیانات پر مشتمل ہیں، جن میں وہ دھرنے کو پارلیمینٹ کی توہین قرار دیتے ہیں اور دھرنا دینے والوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت وہ پارلیمینٹ کے اندر تھے اور آج پارلیمینٹ کے باہر ہیں۔ اب یہ پارلیمینٹ ان کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے اور ان کا بس نہیں چلتا کہ اس پر ایسا شب خون ماریں کہ اس کے سارے ارکان تتر بتر ہو جائیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ بات پارلیمینٹ کی حرمت یا توقیر کی نہیں،بلکہ اپنے مفادات کی ہے۔ جس پارلیمینٹ کے ہم رکن ہوں، وہ عزت و تکریم کی حامل ہے، جس کے ہم رکن نہیں، اس کی عزت بھی دو ٹکے سے زیادہ نہیں، یہ وہ کھیل ہے جو کئی دہائیوں سے ایک ہی طرح کھیلا جا رہا ہے، کبھی اندر والے باہر کھڑے ہوتے ہیں اور کبھی باہر والے اندر آ جاتے ہیں، دونوں کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے، عوام کو بے وقوف بنانا۔ اچھا بھلا اس بری روایت کو توڑا گیا تھا۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ایک ایک بار اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی۔ خدا خدا کر کے جمہوریت کے مستحکم ہونے کا تاثر ابھرا۔

یہ تاثر بھی گہرا ہوا کہ اب ملک سے مارشل لاء کے بادل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھٹ گئے ہیں،اب غیر آئینی تبدیلی کی بات کوئی نہیں کرے گا اور وقت سے پہلے حکومتوں کو رخصت نہیں کیا جا سکے گا۔ مگر یہ کیا،یہاں تو یہ اصول اچانک تبدیل ہو گیا، کیا یہ اصول صرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے اپنے لئے بنایا تھا، کیا تحریک انصاف کی حکومت نہ بنتی تو یہ اصول جاری رہتا، کیا سب نے نہیں دیکھا تھا کہ تحریک انصاف 126 دن دھرنا دینے کے باوجود نوازشریف کی حکومت کو گھر نہیں بھیج سکی تھی، کیونکہ تمام سیاسی قوتیں اس کے ساتھ کھڑی تھیں، تو پھر اب کیوں وہی کھیل دوبارہ کھیلا جا رہا ہے، کیونکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی وقتی مفاد کے لئے اپنی ہی کھینچی ہوئی آئینی مدت پوری کرنے کی لکیر کو ایک ایسے شخص کے پیچھے لگ کر مٹانا چاہتی ہیں، جس کی پارلیمینٹ کے اندر نمائندگی آٹے میں نمک کے برابر ہے،دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اس ارض پاک میں واقعتاً کسی تبدیلی کی بنیاد پڑے، وہ تبدیلی جو ہمارے اندر سے ذاتی مفادات کے زہر کو نکال دے، ہمیں قومی سوچ اور قومی جذبے کے زیر اثر رہ کر سوچنے اور فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)

مزید : رائے /کالم