وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

  



اسلام میں عورت کا مقام کیا ہے اس موضوع پر اختلافی بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ مرد کو ایک نسبت سے عورت پر فضیلت حاصل ہے۔ عورت اور پردہ اسلام کا وہ دوسرا موضوع ہے جو مسلم اور غیر مسلم اقوام میں متنازعہ فیہ ہے۔ اسلام میں کسی عدالتی مقدمے میں عورت کی گواہی آدھی کیوں ہے اور والد کی وفات پر بیٹی کا موروثی حصہ بیٹے سے آدھا کیوں ہے اس باب میں بھی شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ قرآن کی آیات، صریح، صاف اور شفاف ہیں۔ یہ حقیقت کہ کوئی عورت پیغمبر نہیں بن سکی ظاہر و باہر ہے لیکن یہ حقیقت اور بھی ظاہر و باہر ہے کہ عورت ہر پیغمبر کی ماں ہے…… یہی وہ نکتہ ہے جس کو غیر مسلم اقوام نہیں سمجھتیں اس لئے ان کی تاویلیں مسلم قوم سے جداگانہ ہو جاتی ہیں۔

میں آج ہی AFP(فرانس) کی ایک خبر پڑھ رہا تھا جس کی شہ سرخی تھی:”خلا میں چہل قدمی کے باب میں امریکہ نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے اور ایک ایسی ٹیم خلا میں بھیجی ہے جس میں کوئی مرد نہیں، ساری کی ساری عورتیں ہیں“۔ خلا میں ’سیر‘ کرنے والی ان عورتیں کے نام بھی دیئے گئے ہیں اور ان کی تصاویر بھی خبر کا حصہ ہیں۔

1969ء میں چاند کی سطح پر اترنے والا پہلا انسان ایک امریکی مرد تھا۔ اب کوششیں ہو رہی ہیں کہ کوئی امریکی عورت بھی سب سے پہلے چاند پر اتر کر ایک ویسا ہی ریکارڈ قائم کر دے۔ لیکن خلا میں سب سے پہلی عورت امریکہ نے نہیں، روس نے بھیجی تھی اور وہ 1963ء میں بھیجی گئی۔ اس کا نام ویلینٹینا ترشکوا (V. Tereshkova) تھا۔دوسری خلا نورد عورت بھی رشین تھی جو 1982ء میں خلا میں بھیجی گئی۔

اس کا نام سوتلانہ ساوِٹس کایا (S.Savitskaya) تھا اور اس کے دو سال بعد 1984ء میں اسی خاتون نے اپنے خلائی سٹیشن سے باہر نکل کر خلا میں چہل قدمی بھی کی تھی…… امریکہ نے پہلی عورت 1983ء میں خلا میں بھیجی جس کا نام سیلی رائڈ (Sally Ride) تھا۔ اب امریکہ نے پروگرام بنایا ہے کہ وہ صرف خواتین خلا نوردوں پر مشتمل ٹیم خلا میں بھیجے گا جو سپیس سٹیشن سے باہر نکل کر خلا میں سیر کریں گی اور پھر واپس سٹیشن کے اندر چلی جائیں گی۔ ناسا (NASA) کے ایڈمنسٹریٹر سے جب پوچھا گیا کہ چاند پر اترنے اور خلا میں چہل قدمی کرنے میں مردوں کو اولیت کیوں دی گئی تھی اور اب خواتین کی طرف یہ خصوصی ’التفات‘ کیوں برتا گیا ہے تو اس نے جواب دیا: ”یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ خواتین کا دماغ مردوں سے مختلف ہوتا ہے۔ اس نسوانی دماغ کی مہارتیں (Skills) اور ’خصوصیتیں‘ مختلف ہیں۔ خواتین کی طرزِ فکر بھی مردوں سے جداگانہ ہوتی ہے۔ اور اپنی انہی دماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر وہ مردوں کے مقابلے میں اپنی جسمانی کمزوریوں کی تلافی کرتی ہیں!“……

ناسا 2024ء میں چاند پر جو انسانی مشن بھیجے گی اس میں خاتون اور مرد دونوں شامل ہوں گے اور دونوں چاند کی سطح پر اکٹھے اتریں گے۔ یعنی آج سے 5برس بعد پہلی عورت چاند پر قدم رکھے گی۔ امریکہ دنیا کو یہ بتانا چاہتاہے کہ اس کی ڈکشنری میں عورت اور مرد انسانی گاڑی کے دو برابر پہیے ہیں۔ کسی ایک کو دوسرے پر کوئی فوقیت نہیں۔ رہی یہ بات کہ مرد کو ہر شعبہ ء زندگی میں اولیت کیوں دی جاتی ہے یا دی جاتی رہی ہے تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر کوئی فرق ہے بھی تو وہ ٹائم کا فرق ہے۔ ٹائم کے آگے پیچھے ہونے سے مرد اور عورت کی روائتی مساوات، معکوس نہیں ہو جاتی۔

یورپ بالعموم اور امریکہ بالخصوص جنس (Gender)کے لحاظ سے کسی مرد کو کسی عورت پرکوئی فوقیت نہیں دیتا۔ دونوں کی تخلیقی ذمہ داریاں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن حقوق و فرائض برابر ہیں۔ ہر وہ کام جو مرد انجام دے سکتا ہے، عورت بھی انجام دے سکتی ہے۔ نسلِ انسانی کی افزائش کے لئے دونوں مل کر ’کوشش‘ کرتے ہیں۔ کوئی مرد یا کوئی عورت تنہا کسی بچے کی پیدائش کا سبب نہیں بن سکتی۔ برابری کا مغربی تصور، مشرق کے تصور سے بالکل جدا ہے۔ ویسے تو آج مشرق میں چین بھی ہے اور جاپان بھی۔ لیکن ان دونوں اقوام کو مشرق کی ان روایات و اقدار کا پیروکار تصور نہیں کیا جاتا جو برصغیر کی اقوام سے خاص ہیں اور جو جنوب مشرقی ایشیا او رمشرقی وسطیٰ سے مزید خاص سمجھی جاتی ہیں۔ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 125کروڑ مرد و زن پر مشتمل ہے اور اس آبادی میں زن و شو کے سٹیٹس کا جو تصور ہے اس کا اظہار اس تحریر کے آغاز میں کر چکا ہوں۔ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے یہ فرق واضح کر دیا گیا ہے۔

اسلام کی ساری تاریخ کا مطالعہ کر لیجئے۔ اگر آپ کو یہ کہا جائے کہ مسلم امہ میں VIP مردوں اور خواتین کی ایک فہرست مرتب کریں تو اس میں خواتین کا حصہ، مردوں کے مقابلے میں کم ہو گا…… کوئی محترم قاری اگر اس ضمن میں میری تصحیح فرمانا چاہیں تو میں ان کا ممنون ہوں گا…… حکومت، سیاست، معاشرت، علم و ادب، شعر و سخن، فنونِ لطیفہ، عمرانی اور غیر عمرانی علوم، فلسفہ و حکمت، تقریر و تحریر، الغرض کسی بھی شعبے میں خواتین کا حصہ مردوں کے مقابلے میں کم ہو گا۔ ہاں ان مردوں کو ان علوم و فنون میں یدِ طولیٰ حاصل کرنے اور فن کی بلندیوں تک لے جانے میں خواتین کے بالواسطہ (Indirect) رول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عورت، ہر عظیم مرد کی پشت پناہ رہی ہے۔ وہ ایثار اور قربانی کا ایک ایسا مرقع ہے جو اپنی گمنامی میں مرد کی ناموری کا باعث بنتی ہے۔وہ نمود و نمائش کی خوگر نہیں۔ اس کی گود ایک ایسا گہوارہ ہے جس میں پرورش پا کر مسلم امہ زمین سے اٹھتی ہے اور آسمان تک چلی جاتی ہے۔ وہ تقدیم و تاخیر کی پرواہ نہیں کرتی، وہ رہنمائی کا فریضہ رہ نوردی کی سہولتوں کی صورت میں ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی مسلم قوم کے اکابرین کی فہرست تیار کی جاتی ہے تو اس میں اس کا نام اور مقام اول اور دوم کی پروا نہیں کرتا۔ یہ مقابلہ غیر مسلم اقوام میں پیش پیش رہتا ہے۔ وہاں کا معاشرہ مرد شاونزم کا شاکی رہتا ہے اور اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ مغربی معاشرے میں ہر وہ کام جو مردوں کے لئے خاص سمجھا جاتا رہا ہے وہ اب آہستہ آہستہ اپنی خاص خصوصیت کھو رہا ہے۔

اب ذرا جنگ و جدال کی طرف آیئے…… مسلم افواج نے 7،8 سو سال تک دنیا بھر کی افواج کو نیچا دکھایا۔ لیکن مسلم آرمی میں خواتین کا رول زخمیوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی تک محدود تھا۔کسی مسلم آرمی میں ہمیں مسلمان خواتین کا ایسا کوئی الگ دستہ نظر نہیں آتا جس نے مردوں کے شانہ بشانہ میدان جنگ میں کسی حربی کردار میں شرکت کی ہو۔ لیکن جب 20ویں صدی کی عالمی جنگوں میں افواج کو نفری کی کمی کا سامنا ہوا تو اتحادی اور محوری فورسز نے خواتین کو بھی وردی پہنا دی۔ لیکن پھر بھی ان کا رول زیادہ تر لاجسٹک سپورٹ (انصرام و انتظام) تک محدود رہا۔ دوسری جنگ عظیم میں جب جنگ کا دورانیہ زیادہ بڑھ گیا، جانی نقصانات بے اندازہ ہو گئے تو خواتین کو نیم عسکری کرداروں میں بھی انڈکٹ کر لیا گیا۔ ان میں میڈیکل کا شعبہ پیش پیش تھا۔ ایک اور شعبہ جو بالخصوص عورتوں کے لئے منتخب کیا گیا وہ انٹیلی جنس کا شعبہ تھا۔ اس شعبے کے بعض تقاضے مرد افگن تھے۔ کوئی جاسوس خاتون جب دشمن کے ہتھے چڑھ جاتی تو اس کا حشر نشر کر دیا جاتا۔ تاہم اسی جنگ کے اواخر میں ائر فورس، نیوی اور میرین فورسز میں خواتین کی انڈکشن ایک معمول بنا دی گئی۔

اگر اگست 1945ء میں جوہری حملہ، اس جنگ کا خاتمہ نہ کر دیتا تو اتحادی اور محوری افواج میں خواتین کا حصہ اور زیادہ ”مرد افگن“ ہو جاتا۔

اگست 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تو فوج میں خواتین کا رول بیشتر طبی ذمہ داریوں کو محیط تھا۔ خواتین ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف نے آزادی کے اولین برسوں میں فوج کے میڈیکل شعبے میں بڑا کام کیا۔ لیکن اس دوران مغربی ممالک کی افواج میں بھی نہ صرف یہ کہ خواتین کو اپنے ملک کے اندر رہ کر فوج کے مسلح، نیم مسلح اور انصرامی شعبوں میں خدمات انجام دینے پر مامور کیا گیا بلکہ امریکہ نے سمندر پار جو جنگیں لڑیں ان میں بھی خواتین کا حصہ سپورٹنگ رول سے باہر نکال کر لڑاکا اور نیم لڑاکا فرائض کی انجام دہی میں زیادہ سے زیادہ کر دیا۔ پاکستان آرمی میں روائتی تدریسی اور طبی فرائض کے علاوہ ان شعبوں میں بھی خواتین نے حصہ لینا شروع کیا جو پہلے مردوں کے لئے خاص تھے مثلاً انصرامی شعبے، دفتری فرائض اور کلریکل جاب وغیرہ…… نیم مسلح فورسز حتیٰ کہ ایس ایس جی تک میں خواتین کو ایسے ہی شعبوں میں انڈکٹ کیا جانے لگا۔

برطانوی فوج کی ”انٹرنیشنل کیمبرین پٹرول ایکسرسائز“ جس میں کئی برسوں تک پاکستان کی ٹیم گولڈ میڈل حاصل کرتی رہی اس میں دنیا کے جن دوسرے ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا ان میں خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ ایکسرسائز جسمانی قوتوں کا سخت امتحان لیتی ہے اور کسی عورت کا اس طرح کی ایکسرسائز میں حصہ لینا بجائے خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی طرح امریکہ کی سپیشل فورسز اور رینجرز میں بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد حصہ لیتی ہے۔تاہم پاکستان آرمی میں جرنیل کے رینک تک پہنچنے والی خواتین کا تعلق صرف میڈیکل کور سے ہے۔ ہماری فضائیہ میں لڑاکا طیاروں کے پائلٹوں میں اب خواتین بھی شامل ہو رہی ہیں۔ پاکستان نے دوسرے ممالک کی افواج کی دیکھا دیکھی حالیہ برسوں اس لڑاکا فضائی شعبے میں خواتین کی انڈکشن کا ایک نیا بلکہ خوشگوار تجربہ کیا ہے۔اب خواتین نہ صرف کھیلوں میں بیرون ملک جا کر پاکستان کا نام روشن کر رہی ہیں بلکہ مسلح افواج کے بعض لڑاکا اور خدماتی شعبوں (Arms and Services) میں بھی پیش پیش ہیں۔ یہ خواتین، اپنی مسلم ثقافت اور روایات کی پاسداری کے ساتھ ساتھ مردوں کے شانہ بشانہ واقعی گاڑی کے دوسرے پہیے کے توانا وجود کا احساس دلا رہی ہیں۔

میں کچھ ماہ پیشتر امریکن آرمی میں ایک خاتون کو ایک انفنٹری ڈویژن کی GOC (جنرل آفیسر کمانڈنگ) ہونے کی خبر دیکھ کر حیران ہوا۔ اس خاتون کا سروس پروفائل بھی وہی تھا جو ایک پروفیشنل مرد سولجر کا ہوتا ہے…… مثلاً ویسٹ پوائنٹ اکیڈمی میں بطور کیڈٹ نمایاں حیثیت کا حامل ہونا، بٹالین میں پوسٹ ہونے کے بعد یونٹ کے تمام شعبوں (آپریشنل، لاجسٹک، ایڈمنسٹریٹو) میں حصہ لینا، آؤٹ ڈور ایکسرسائزوں میں مردوں کے برابر جسمانی آزمائشوں پر پورا اترنا، مختلف پروفیشنل کورسوں میں امتیازی حیثیت حاصل کرنا، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں امتیازی اہلیت کا ثبوت دینا، بٹالین اور بریگیڈ لیول کے مناصب میں انسٹرکشن، کمانڈ اور سٹاف کے عہدوں پر باری باری فائز ہونا، ہائر کمانڈ کے لئے کوالی فائی کرنا اور اس کے بعد ایک انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ حاصل کرنا ایسی صلاحیتیں ہیں جو قبل ازیں مردوں کی جاگیر تصور کی جاتی تھیں۔

لیکن آخر میں بات پھر وہیں آکر رک جاتی ہے کہ اس طرح کی کتنی خواتین ہوں گی جو ان اعلیٰ مناصب پر فائز ہونے کی اہل ہوں گی؟…… امریکن افواج اور یورپ کی دوسری افواج(آرمی، نیوی، ائر فورس اور میرین) میں خواتین کے حصے کا غالب گراف دیکھیں تو حیرت ضرور ہوتی ہے لیکن مغربی معاشرے کے تار و پود اور مشرقی معاشرے کے اجزائے ترکیبی میں جو بدیہی فرق ہے اس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی سماجی رِدا میں عورت کا ایک نازک لیکن اہم حصہ ہے۔ ہمیں اسی حصے کی فکر کرنی چاہیے اور اسی میں ہماری ترقی کا راز مضمر ہے۔

مزید : رائے /کالم