مٹہ،ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کی ہڑتال 29 ویں روز میں داخل

مٹہ،ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کی ہڑتال 29 ویں روز میں داخل

  



مٹہ(نمائندہ پاکستان) پورے خیبر پختونخواہ میں ایک دن بعد ڈاکٹروں کے ہڑتال کا ایک مہینہ پورا ہوجائے گا،کوئی پرسان حل نہیں نکل سکا۔ڈاکٹروں کے ہڑتا ل کے وجہ سے غریب عوام چکی کے دلدل میں پیس رہے ہیں مگر ایک مہینہ گزرنے کے باوجود نہ تو حکومت نے اس مسئلے کا کوئی پرسان حل نکلوایا اور نہ تو ڈاکٹرحضرات اپنے کئے پر غم زدہ یا شرمندہ ہیں بس اگر کوئی خوار و زار اور ذلیل ہورہے ہیں تو وہ ہے خیبر پختونخواہ کے غریب عوام۔ عوام روزانہ کی بنیاد پر اپنے مریضوں کو دور دراز کے علاقوں سے علاج معالجے کے غرض سے ان سرکاری ہسپتالوں کو لاتے ہیں جو کہ پچھلے ایک مہینے سے ویران پڑے ہیں اور ایک سنسان کربلا کے میدان کی طرح منظر پیش کررہے ہیں۔غریب عوام صبح سے لیکر دوپہر یا سہ پہر تک ڈاکٹرز کے انتظار کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اوتھک کر یا توساتھ لائے ہوئے مریض انہی ہسپتالوں میں دم تھوڑ کرواپس اپنے گھروں کوچلے جاتے ہیں اور یا پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جہاں پر یہی ڈاکٹر حضرات خوشی خوشی سے انہی غریبوں کابے رحمی سے چمڑا ادھیڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ڈاکٹروں نے اس احتجاج کے شروع ہوتے ہی پرائیویٹ ہسپتالوں میں اپنے فیسوں،لیبارٹریز،ٹیسٹ اور آلٹراساونڈ کے اخراجات میں اپنے مرضی کے مطابق بھاری بھرکم اضافہ کیاہوا ہے اور اپنے سرکاری مہینے کی تنخواہیں اسی طریقے سے غریب عوام کے جسموں سے خون نچھوڑ کر پورا کردیتے ہیں۔دوسری طرف حکومت خاموش تماشائی بن گیا ہے بس غریب عوام کی ا س بے بسی کاخاموشی سے تماشا دیکھ رہا ہے،نہ تو اس مسئلے کا کوئی پرسان حل نکلوا سکتا ہے اور نہ انہی ڈاکٹروں کے شرایط کو منوا سکتا ہے تاکہ یہی ڈاکٹرز واپس سرکاری ہسپتالوں کا رخ کریں اور غریبوں کا یہ مسئلہ حل ہوجائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر