گڈ بائے سرفراز احمد۔۔۔

گڈ بائے سرفراز احمد۔۔۔
 گڈ بائے سرفراز احمد۔۔۔

  



بالآخر سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے۔سرفراز کو ہٹا دیا میں اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ ان کو باقاعدہ ایک مضبوط منصوبے کے تحت ہٹایا گیا ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان سے بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان نے ملاقات کی اور سرفراز کو زور دیا کہ وہ خود کپتانی سے دستبردار ہو جائیں لیکن سرفراز نے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا اور پھر ہوا وہی جس کی باز گشت سری لنکا کے خلاف ہونے والی سیریز میں سنائی دے رہی تھی۔پاکستان ایک آسان ٹیم سے آسانی سے ہار گیا،کیا اس میں بھی کچھ کھلاڑیوں کی سازش تھی؟کیا اس شکست میں کوئی مضبوط لابی کار فرما تھی؟

اس ملک میں سب کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ کھلاڑیوں نے اس سیریز میں وہ کھیل پیش نہیں کیا جو ان کا خاصہ ہے۔بہر حال جیت سب کی ہوتی ہے اور ہار کسی ایک کے کھاتے میں جاتی ہے سو قربانی کا بکرا کپتان ہی بنا جب کہ پوچھنا تو چیف کوچ اور چیف سلیکٹر سے بھی چاہیے تھا۔مصباح تو اپنے ڈیبیو میں ناکام ہو گئے نا ان سے اچھی ٹیم بنائی جا سکی اور نہ اس ٹیم کو کھلوایا گیا بقول پی سی بی کارکردگی ہی سب سے بڑی کسوٹی ہے۔جس بنا پر سرفراز کو نا صرف اپنی کپتانی بلکہ تقریباً اپنی کر کٹ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

اس میں اب شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ سرفراز کی ٹیم میں اب کوئی جگہ بنتی ہے کیونکہ اب یہ بھی بات سامنے آچکی ہے کہ ان کی جگہ رضوان کوچانس دیا جارہا ہے اور انہیں نائب کپتان کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔آپ کو شاید یاد ہو کہ اظہر علی کو ان کی کارکردگی کی بنا پر ٹیم سے نکالا گیا تھا لیکن ہمارے سسٹم میں نکالے گئے کھلاڑی کپتان بن کر واپسی کرتے ہیں۔اظہر علی بلاشبہ ایک با صلاحیت کھلاڑی ہے لیکن ہر کھلاڑی کا ایک وقت ہوتا ہے جو گزر گیا سرفراز کو اس طرح ہٹانا نہیں بنتا تھا کہ وہ کسی بھی فارمیٹ کے لیے موزوں نہیں رہے۔

ہماری قوم کی بد قسمتی ہے کہ ہم جب کسی کو سر پر سوار کرتے ہیں تو پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں اور پٹختے ہیں تو پھر ایسا ہی کرتے ہیں جیسا سرفراز کے ساتھ ہوا۔اندر کے لوگ بتاتے ہیں کہ سابق چیف کوچ وقار یونس کی سرفراز احمد سے کبھی نہیں بنی بلکہ مصباح الحق بھی سرفراز احمد کے حوالے سے نرم گوشہ نہیں رکھتے لہٰذا جو کچھ ہوا وہ ہونا ہی تھا۔ٹیسٹ فارمیٹ کے کپتان اظہر علی بنا دیئے گئے اور ٹی 20 کے کپتان بابر اعظم بن گئے۔ون ڈے فارمیٹ کی کپتانی ابھی ہو امیں معلق ہے۔دورہ ء آسٹریلیا میں دونوں کا امتحان ہو گا اور اچھی کارکردگی دکھانے والے کو ون ڈے کا کپتان بھی بنا دیا جائے گا اس صورتحال میں بابر اعظم مجھے کامیاب ہوتے نظر نہیں آتے کیونکہ ان کی باڈی لینگوئج کپتانوں والی ہے ہی نہیں۔

وہ ایک اچھا کھلاڑی ضرور ہے لیکن ایک اچھا کپتان پیدائشی ہوتا ہے اس کے اعصاب کا ڈھیلا پن بتاتا ہے کہ وہ بڑا کپتان نہیں بن سکتا بلکہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ کپتانی کا پریشر کہیں اس کی پرفارمنس کو بھی نہ لے ڈوبے،اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو لیکن لگتا ایسا ہی ہے۔ہم نے اس کو نیشنل ٹی 20 میں پنجاب کی کپتانی کرتے دیکھا اس کے ایک فیصلے نے جیتا ہوا میچ ہروا دیا ریگولر باؤلر کو روک کر ایک ایسے باؤلر کو گیند دے دی جس کو ہم نے صرف بیٹنگ کرتے دیکھا ہے جس کا نتیجہ ہار کی صورت برداشت کرنا پڑا۔آسٹریلیا جیسے اہم ملک کا دورہ اور بابر اعظم کپتان اللہ ہو اکبر۔

جو بچہ ابھی اردو بھی درست نہیں بول سکتا ہے وہ کسی انگریز کی بات کیا سمجھے گا یا کیا جواب دے گا۔لگتا ہے رضا کچلو کی ذمہ داری مزید بڑھا دی جائے گی کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ کیا بکواس ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ٹیم میں پھر پلیئر پاور اور گروپنگ شروع ہو چکی ہے جس کو روکنے میں پی سی بی اور چیئرمین احسان مانی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ویسے بھی احسان مانی ایک ناکام چیئرمین ثابت ہوئے ہیں اور ان کے ساتھی برطانیہ سے آئے وسیم خان نے تو بالکل ہی لٹیا ڈبو دی نوٹ وصول کر رہے ہیں کام ٹکے کا بھی نہیں۔

مزید : رائے /کالم