سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا اعلان

سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا اعلان
سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا اعلان

  



نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت نے سیاچن گلیشیئر کو سیاحوں کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا ، یادرہے کہ  بیس ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع سیاچن گلیشیئر پاکستان اور بھارت کے درمیان دنیا کا یہ بلند ترین اور سرد ترین میدان جنگ ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چین کے ساتھ ملحق حقیقی کنٹرول لائن کے قریب شیوک ندی پر تعمیر ہونے والے اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم پل 'کرنل چیوانگ رینچین پل‘ کا افتتاح کرنے کے بعد کہا، ”سیاچن گلیشیئر کو اب سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ سیاچن کے بیس کیمپ (12300فٹ کی بلندی) سے کمار پوسٹ (15600فٹ کی بلندی) کے پورے علاقے کو سیاحت کے غرض سے کھول دیا گیا ہے۔ ا س سے لداخ میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا اور عام لوگوں کو یہ اندازہ بھی ہوسکے گا کہ بھارتی فوج کے جوان اور انجینیئر انتہائی خراب موسم اور نامساعد حالات کے باوجود ملک کی کس طرح حفاظت کرتے ہیں۔"

رپورٹ کے مطابق 1984ء کے بعد سے پاکستان اور بھارت کی فوج اپنی اپنی پوزیشن پر موجود ہیں۔سیاچن انتہائی مشکل ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہ علاقہ سال بھر برف سے ڈھکا رہتا ہے اور درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔  بھارت کو یہاں اپنے فوجیوں کو رکھنے پر یومیہ چھ کروڑ روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں، موسم یہاں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سیاچن گلیشیئر کو سیاحت کے لیے کھولنے کے اصل مقصد اسٹریٹیجک پہل ہے کیوںکہ سیاحت کو کسی علاقے پر اپنی دعویداری ثابت کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

مزید : قومی /بین الاقوامی