فن لینڈ کا ایجوکیشن سسٹم اور اس کی خصوصیات

فن لینڈ کا ایجوکیشن سسٹم اور اس کی خصوصیات
فن لینڈ کا ایجوکیشن سسٹم اور اس کی خصوصیات

  



یورپ کا ایک ملک فن لینڈ جس کی آبادی صرف 55لاکھ ہے۔ اس مختصر سی آبادی والے ملک کے پاس دنیا کا بہترین ایجوکیشن سسٹم موجود ہے۔ فن لینڈ کے ایجوکیشن سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ PISA (Programe for International Students Assessment) جو کہ دنیا کا سب سے بڑا ٹیسٹ ہوتاہے۔ 2000ءسے 2012ءتک فن لینڈ کے بچے اس ٹیسٹ میں ٹاپ کرتے رہے، جس نے پوری دنیا کو حیران کردیا۔ فن لینڈ کے بہترین ایجوکیشن سسٹم کی کچھ خصوصیات یہ ہیں:

فن لیںڈ میں سات سال کی عمر میں بچے کو سکول میں داخلہ ملتا ہے۔ اس سے پہلے بچوں کو صرف ہوم بیسڈ ایجوکیشن دی جاتی ہے۔

1953ءسے فن لینڈ کے سکولز بچوں کو خود کھانا دیتے ہیں۔ سکولز کا کھانا بچوں کی صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہوتا ہے۔

ضروری نہیں ہر کلاس کلاس کے اندر ہی ہو، کلاس کو آﺅٹ ڈور بھی منعقد کروایا جاتا ہے۔ پرائمری کلاس تک کوئی یونیفارم اور کوئی فکس Arrangment Sitting نہیں ہوتا۔

کوشش کی جاتی ہے کہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ خوش رکھا جائے تاکہ ان کے سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوسکے۔

فن لینڈ میں ہوم ورک کا کوئی تصور نہیں ہے۔ یہاں جو بھی کام کروایا جاتا ہے وہ کلاس روم میں ہی ختم کروایا جاتا ہے۔

یہاں ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا کے فورم بھی Explore کیے جاتے ہیں۔

فن لینڈ کے سکولز میں ہر 45 منٹ بعد 15منٹ کی بریک دی جاتی ہے تاکہ بچوں کو Freshہونے کا موقع مل سکے اور وہ اپنی پڑھائی پر توجہ دے سکے۔ بچوں کی پڑھائی کا دورانیہ 4 سے 6 گھنٹے ہوتا ہے۔ بچوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ سکولز میں کوئی سکِل سکھائی جاتی ہے مثلاً لکڑی، لوہے وغیرہ تاکہ یہ سکِل ان کی عملی زندگی میں کام آسکے۔

آخر میں فن لینڈ کے ایجوکیشن سسٹم کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ فن لینڈ نے اپنا ایجوکیشن سسٹم Phenomenoa Based Learning پر منتقل کردیا ہے۔ اس سسٹم میں بچوں کو روایتی ایجوکیشن دینے کے بجائے انہیں World Real کی پرابلم دی جاتی ہے اور ان سے ان کا حل نکلانے کا کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچے تعلیم حاصل کرنے کے بعد Confuse نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنی تعلیم کے دوران ہی دنیا کے حقیقی مسائل سے آشکار ہوتے ہیں۔ فن لینڈ کے اس ایجوکیشن سسٹم کے بعد اب آپ اپنے ملک کے نظام تعلیم کو دیکھ لیں کہ ہم کس طرف جارہے ہیں اور کس طرح رٹا لگانے والوں کی فوج تیار کررہے ہیں جن میں قابلیت کا شدید فقدان ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ