کیپٹن (ر) صفدر کی مقدمے سے بریت کی استدعا مسترد، عدالت نے فیصلہ سنادیا

کیپٹن (ر) صفدر کی مقدمے سے بریت کی استدعا مسترد، عدالت نے فیصلہ سنادیا
کیپٹن (ر) صفدر کی مقدمے سے بریت کی استدعا مسترد، عدالت نے فیصلہ سنادیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقامی عدالت نے نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو  5 نومبر تک کیلئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا۔

اشتعال انگیز تقریر اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں کیپٹن (ر) صفدر کو لاہور میں جویشل مجسٹریٹ رانا آصف علی کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ انہیں پیر اور منگل کی درمیانی شب لاہور میں داخل ہوتے ہوئے راوی پل سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے نواز شریف کی صحت کی خرابی پر اشتعال انگیز تقریر کی اور لوگوں کو بھڑکاتے رہے۔

کیپٹن (ر) صفدر کو عدالت میں پیش کیا گیا تو سرکاری وکیل نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور کہا کہ ان سے تحقیقات کرنی ہیں۔ دوسری جانب کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ نے اپنے موکل کی بریت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کیپٹن (صفدر) کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن نہیں کیا، کوئی تحریری آرڈر جاری نہیں کیا گیا، ان کے موکل کے خلاف کیس فوری طور پر خارج کیا جائے۔

کیپٹن (ر) صفدر نے عدالت کو بتایا کہ انہیں جب پکڑا گیا تو پتا ہی نہیں چلا کہ کون گرفتار کر رہا ہے اور کیوں گرفتار کیا جارہا ہے، مجھے لگا کہیں مجھے مسنگ پرسن میں تو نہیں ڈالا جا رہا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو تھوڑی ہی دیر بعد سنادیا گیا ۔ عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر کے جسمانی ریمانڈ کی سرکاری اپیل مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا۔ عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر کی مقدمے سے بریت کی درخواست بھی مسترد کردی۔ عدالت نے نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجواتے ہوئے انہیں دوبارہ 5 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید : Breaking News /قومی