I Love You

I Love You
I Love You

  



سلطان راہی کو مصطفی قریشی کہتے ہیں، ”من گئے جواناں، جے اسی سیراں تے توں سوا سیر ایں“ آج سیاست کے دوسیر نواز شریف، زرداری بھی مان گئے مولانا فضل الرحمن سوا سیر ہیں۔ ایسی ہتھیلی پر سرسوجمائی ہے کہ اپوزیشن تو اپوزیشن حکومت کے پھنے خان بھی ننھے خان نظر آرہے ہیں۔ وہ کنٹینروں کی آفرز وہ دیگوں کی دعوت سب کی طرح چپس کے پیکٹوں میں بھری گئیں مہم پھوکی نکل رہی ہیں۔ فضل الرحمن وزن میں تو بھاری تھے ہی سیاسی وزن میں تکڑی توڑ کر باہر نکل رہے ہیں، سنتا سنگھ سے کسی نے پوچھا اگر تمہاری بیگم کو جن چمٹ جائے تو؟ سنتا سنگھ بولا فیر میں کی کرنا، ”جن دی“ غلطی اے آپے بھگتے گا۔ پی ٹی آئی کے جن کو کس نے کہا تھا کہ شرفا برادرز اور زرداری اینڈ سنز کو چھوڑ کر مولانا کو چمڑے۔ بار بار ڈیزل کی تکرار کرے۔ ڈیزل سڑکوں پر آگیا اب جمہورت ضرور تلکے گی۔ بس اتنی اوقات ہے ہمارے جمہوری نظام کی۔ جس کے ایک لاکھ دو لاکھ کارکن ہوں ان میں دس بیس ہزار مسلح بھی ہوں تو سسٹم کی پینٹ ڈھیلی ہونے کے ساتھ گیلی ہونے لگتی ہے۔

وینٹی لیٹر پر پڑے اس جمہوری نظام کی پہلے ہی مصنوعی تنفس سے سانسیں چل رہی ہیں کسی نے آکسیجن کے پائپ پر پاؤں رکھا نہیں بے چاری جمہوریت آخری ہچکیاں لیتی نظر آنے لگتی ہے۔ آج مولانا جو گفتگو کر رہے ہیں کم و بیش ایسی ہی گفتگو بانی ایم کیو ایم اور خادم رضوی بھی کرتے رہے ہیں۔ خادم رضوی صاحب نے تو ہم کولات بھی نہیں ماری تھی۔ مولانا کی دو ٹانگیں سلامت ہیں وہ مار سکتے ہیں اور مار بھی رہے ہیں۔ حیرت ہے ہمارے شاہ سلمان کے ہوتے وہ مسلسل ”اکھ مٹکا“ لگا رہے ہیں اور ہمارے ادارے اساں جان کے میچ لئی اکھ وے گاتے پھر رہے ہیں۔ چلیں تصور کریں مولانا کا چھلانگ مارچ کامیاب دھرنے میں تبدیل ہوگیا۔ دھرنا حکومت گرانے میں کامیاب ہوگیا تو پھر آگے؟؟ آگے اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ جیسے چلتے چلتے فلم کی ریل ٹوٹ جائے۔ بس گھردر گھردر کی آوازیں رہ جاتی ہیں۔ سنتا سنگھ کی بیگم کہنے لگیں آپ یہ ٹی بیگ اٹھارویں مرتبہ استعمال کر رہے ہیں۔ سنتا سنگھ بولا جاہل عورت ایس تے ایکسپائری ڈیٹ 2023ء ہے۔

ہمارا سسٹم اس ٹی بیگ جیسا ہی ہے۔ قوم اس کی ایکسپائری 2023سمجھ کر گرم پانی میں شڑک شٹرک پی رہی ہے۔ ٹی بیگ میں تو اب اتنا دم خم نہیں کہ پانی کا رنگ ہی بدل دے، یہ نظام نجانے کب کا ایکسپائر ہو چکا لیکن کیا کریں،سیاسی جماعتوں کی شکل میں ملٹی نیشنل کمپنیاں میڈیا کے ذریعے اپنا مال بیچے جارہی ہیں، چلیں 2023ئتک اس ٹی بیگ کو استعمال کرنے تو دیں، چائے کا رنگ نہ بدلے ہوسکتا ہے کہ ٹی بیگ اتنا صاف ہو جائے کہ نونہالوں کیلئے چوسنی کا کام دینے لگے۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو تینوں فارمیٹ کی کپتانی سے الگ کردیا گیا ہے۔ میرا یقین ہے سری لنکا کے چھوٹے بچوں پر مشتمل کرکٹ ٹیم میں کوئی نہ کوئی فضل الرحمن ضرور چھپا ہوا تھا جسے ہماری ٹیم کی تمام کمزوریوں کا علم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے گھر میں گھس کر ہمیں مارا۔ وہ قذافی سٹیڈیم میں ایسے پروٹوکول کے ساتھ گھسے جیسے مولانا فضل الرحمن کو باحفاظت اسلام آباد لایا جارہا ہے۔ او بھائی کپتان کو فارغ کردیا لیکن کوئی سلیکٹرز سے سوال کریگا جوکوچ بھی خود ہے، سلیکٹر بھی خود اور مینجربھی خود۔ آپ کپتان کو اس کی مرضی کی ٹیم نہ دیں۔ وکٹ بناتے اس سے مشورہ نہ کریں۔ موٹے بھدے ان فٹ سفارشی کھلاڑی زبردستی کھلائیں اور ٹیم ہار جائے تو ہر بار کپتان کو فارغ کردیں۔ نیا کپتان چنیں پھر اسے وہی عطا رکے لونڈے کھیلنے کو دیں اور پھر اسے ناکامی کا ذمہ دار قرار دے دیں۔ کبھی سلیکٹرز بھی اپنی شکست تسلیم کریں اور آفریں کرکٹ شائقین پر مجال ہے۔ سلیکٹرز پر انگلی اٹھائیں۔ سردار بنتا سنگھ گھر پریشان آیا۔ بیگم نے پوچھا تو بولے بادشاہ نے اعلان کیا ہے کہ جو دوسری شادی نہیں کرے گا اسے قتل کردیا جائے گا۔ بیگم بولیں مبارک ہو اللہ نے توانوں شہادت لئی چن لیا۔ کپتان دوسری شادی کرے تب مارا جائے نہ کرے تب مارا جائے۔

شکریہ ہمارے پیارے شہباز شریف اپنے کمر کے درد کو صدوق میں بند کر کے چھلانگ مارچ میں شرکت پر آمادہ ہوگئے۔ انہیں یہ دکھا کس نے دیا، اس کی تفصیل کیلئے میاں نوازشریف کا ایک فرضی خط کافی ہے۔ فضل الرحمن کب سے میاں صاحب کی کوٹھری کی طرف منہ کرکے گا رہے تھے۔ چھٹی ذرا سیا ں جی کے نام لکھ دے، حال میرے دل کا تمام لکھ دے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شہباز شریف پر ان کی اپنی جماعت اور اس کے کارکنوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ انہیں مسلم لیگ کا بروٹس سمجھا جا رہا ہے۔ وہ قیادت کریں بھی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مرحوم اداکار ننھا کو ایک بار پی ٹی وی پر خبریں پڑھنے کی پیشکش ہوئی تو انہوں نے کہا میں پڑھ تو دونگا پر یقین کوئی نہیں کرے گا۔ انگلش کی کلاس میں سنتا سنگھ سے ٹیچر نے پوچھا خوبصورت لڑکی کو انگلش میں کیا کہتے ہیں وہ بولا I Love You۔ شہباز شریف اس نظام کے آئی لو یو ہیں۔

انہیں دیکھ کر بس یہی خیال آتا ہے۔ کتھئی سا بش کوٹ سوٹ پہن کر پھرنا اور دھرنوں لانگ مارچوں کی صعوبتیں برداشت کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے، پھر ایسے نظام میں جو ان کی پالش کی ہوئی جوتی کی ٹھوکر پر ھووہ کیوں ٹھکرائیں گے۔ ان کے لئے تو قومی خزانہ قومی وسائل اور ادارے بس آئی لا یو ہیں۔ مہمان نے سنتا سنگھ کے بیٹے سے پوچھا نو ضرب نو کتنے ہوتے ہیں، وہ بولا 78، اس سے پہلے مہمان کچھ کہتا سنتا سنگھ نے بیٹے کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے کہا شاوا پترا اور اسے ایک چاکلیٹ بھی دے دی۔ مہمان بولا یہ کیا کیا، سنتا سنگھ بولے پہلا نالوں بڑا فرق اے۔ پہلا ایہہ 105 کہنداسی۔ شہبازشریف کہتے ہیں وہ چھ ماہ میں، میں ملک کی اقتصادی حالت بہتر کردیں گے۔ انہیں بھی پہلے سے کافی فرق ہے پہلے وہ نوے دن میں ملک کی حالت درست کرنے کا کہتے تھے۔ ہاں جس کو وہ ملک کہہ رہے ہیں 22کروڑ کیڑے مکوڑے سمجھ رہے ہیں کہ اس سے مراد ان کا پاکستان ہے۔ او بھائی ہم نے قیام پاکستان سے اب تک جن سے یارانے ڈالے ہیں انہوں نے ہمارا صرف دودھ لیا ہے اور جادوئی منگے وہ غیر ممالک کے بنک اکاؤنٹ میں اگلتے رہے ہیں۔ اللہ ہماری خوش فہمیوں کو کروٹ کروٹ آرام نصیب کرے۔

بلے شاہ اساں جوگی ہوئے

ساڈے سپاں نال یارانے

ساڈا انگ انگ زہر چڑھیا

ساڈا درد کوئی نہ جانڑھے

مزید : رائے /کالم