عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور ختم نبوت کانفرنس

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور ختم نبوت کانفرنس

  

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام 22,23اکتوبر کو مسلم کالونی چناب نگر میں منعقدہ 39ویں سالانہ دوروزہ ختم نبوت کانفرنس،عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، نسلِ نو کی ایمان کی حفاظت کا ذریعہ اور اتحاد امت کا عملی مظاہرہ ہے۔

ختم نبوت کا عقیدہ دین اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی رشد وہدایت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع فرمایا تھا اسے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ؐ پر ختم فرما دیا اور ختم نبوت کے عظیم الشان محل کی تکمیل  حضرت محمد رسول اللہ ؐ پر ختم فرما دیا اور ختم نبوت کے عظیم الشان محل کی تکمیل حضرت محمد رسول اللہ ؐ کا وجود مسعود ہے۔

ختم نبوت کے اس عقیدہ پر قرآن کریم میں متعدد آیات موجود ہیں اور تقریباً دو سو سے زیادہ روایات ہیں جن سے عقیدہ ختم نبوت بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے، ایسے تواتر اور قطعیت کی نظیر کسی اور مسئلہ میں ملنا مشکل ہے۔

مذکورہ مسئلہ پر نہ صرف امت محمدیہ کا اجماع ہے، بلکہ تمام کتب سماویہ کا اور تمام انبیاء کرام کا اس پر اجماع ہے۔ عالم ارواح میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا اس پر عہدو پیمان ہے، جیسے توحید الٰہی تمام ادیان کا اجماعی عقیدہ ہے اسی طرح ختم نبوت کا عقیدہ بھی تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیاء کرام اور تمام ادیان سماویہ کا متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے۔ آغاز انسانیت سے لے کر آج تک اس پر ہمیشہ اتفاق رہا ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ؐ ہی ہیں اور سلسلہئ نبوت ورسالت آپؐ کی ذات گرامی پر ختم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتب سماویہ میں اس کی اَن گِنت پیشینگوئیاں کی گئیں، آپؐ کا نام، القاب، جائے ولادت اور آپ  ؐ کے دار ہجرت کی خبریں دی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ کے بیان کے سلسلہ میں تمام مخلوقات پر اور تمام اقوام عالم پر اپنی حجت پوری فرمادی اور اس عقیدہ سے کسی صاحب ایمان کو کسی زمانہ میں اختلاف نہیں رہا۔

دین اسلام میں جس طرح توحید باری تعالیٰ، رسالت او ر قیامت کے بنیادی قطعی اور اصولی عقائد پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح اس امر پر بھی ایمان لانا لازم ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ؐ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں، یوں تو مکمل قرآن کریم ختم نبوت کی دلیل ہے، کیونکہ قیامت تک کے لئے امتِ مسلمہ کے لئے راہِ نجات قرآن کو ماننا اور اس میں موجود احکامِ خداوندی پر عمل پیرا ہونا ہے۔ اگر آپ  ؐ کے بعد بھی کسی نبی کی بعثت متوقع ہوتی تو لازمی تھا کہ اس پر وحی الٰہی بھی نازل ہوتی تو پھر نجات کے لئے اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہوتا، ارشاد باری تعالیٰ ہے…………

ترجمہ: اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر جو آپ پر نازل ہوئی اور جو آپ سے پہلے نازل ہوئی اور یوم آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ (البقرۃ 5,4)

قرآن کریم کی ایک سو کے قریب آیات سے مسئلہ ختم نبوت بڑی صراحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے……

ترجمہ: محمدؐ  تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں اور لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کو ختم کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (سورۃ الاحزاب   40)

اس آیت کریمہ میں صراحت ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور تمام نبیوں کے بعد آپ کی بعثت ہوئی، گویا آپؑ کی آمد کے بعد کوئی نیا نبی پیدا ہی نہیں ہو سکتا اور آپ  ؐ کے بعد قیامت تک پیدا ہونے والے لوگ آپ  ؐ ہی کی امت میں داخل ہوں گے۔

مذکورہ آیت میں نبی اکرم ؐسے أبوت (باپ ہونے) کی نفی کر کے اس طرف اشارہ کر دیا گیا کہ آپ ؐ کے بعد اگر ہمیں کسی کو نبوت عطاء کرنا ہوتی تو ہم آپ  ؐ کے فرزندان گرامی کو زندہ رکھتے اور انہیں یہ منصب عالی عطاء فرماتے، مگر چونکہ آپ  ؐ پر سلسلہ نبوت ختم تھا اس لئے نہ آپ  ؐ کی اولاد نرینہ زندہ رہی،نہ ہی آپ  ؐ کسی بالغ مرد کے باپ کہلائے، یہی بات ایک حدیث میں بیان فرمائی……   ترجمہ:  اگر(حضور  ؐ کے بیٹے) ابراہیم ؓ زندہ رہتے تو وہ نبی ہوتے،یعنی آپ ؐ کے بعد اگر کسی قسم کی نبوت کی گنجائش ہوتی تو اس کے لئے گرامی قدر بیٹے کو زندہ رکھا جاتا اور وہی نبی ہوتے، لیکن ابراہیم ؓ اس وجہ سے بچپن میں دنیا سے رخصت ہو گئے کہ آپ  ؐ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، اگر ایسا نہ ہوتا اور وہ زندہ رہتے تو نبی بنتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو منظور تھا آپ ؐ پر نبوت کا دروازہ بند کرنا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ  ؐ کی نرینہ اولاد کو بھی بچپن میں دنیا سے اٹھا لیا۔

 حضرت محمد رسول اللہ ؐ نے اپنی ختم نبوت کا اعلان مختلف عنوان اور مختلف پیرایوں میں سینکڑوں مرتبہ، متعدد مواقع پر فرمایا ہے اور ختم نبوت کی روایات حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ نبی اکرم ؐ نے نبوت کو ایک محل کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے اپنی ختم نبوت کو اس طرح بیان فرمایا:

ترجمہ: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی عمارت بنائی ہو اور اس کو خوب سجایا ہو اور مزین کیا ہو مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی ہو، لوگ اس کے ارد گرد چکر لگانے لگے اور اس کے حسن تعمیر پر خوش ہونے لگے اور کہنے لگے کہ یہاں پر اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی، آپ ؐ نے فرمایا میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں ہی تمام نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔(مسلم  2، 248)

نبی اکرم ؐ  ختم نبوت کے محل کی آخری اینٹ ہیں، آپ  ؐ کی آمد کے بعد اس محل کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اب اس میں نہ کسی اضافہ کی گنجائش ہے اور نہ کمی کا امکان، ختم نبوت کے محل کی تکمیل کے بعد جو شخص کسی بھی انداز میں نبی بنائے جانے کا دعویٰ کرے گا وہ شخص جھوٹا اور کذاب ہے اور اس کا دعویٰ باطل ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -