روز ویلٹ ہوٹل کتنے میں بیچنے کی تیاری کی جارہی ہے ؟ حکومتی منصوبہ سامنے آ گیا 

روز ویلٹ ہوٹل کتنے میں بیچنے کی تیاری کی جارہی ہے ؟ حکومتی منصوبہ سامنے آ گیا 
روز ویلٹ ہوٹل کتنے میں بیچنے کی تیاری کی جارہی ہے ؟ حکومتی منصوبہ سامنے آ گیا 

  

راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن )پی آئی اے کے سی اسی او نے کہاہے کہ پی آئی اے کے نیو یارک میں روز ویلٹ ہوٹل کو فروخت نہیں کیا جارہا لیکن وہ تزین آرائش اور مستقبل کے یوٹیلٹی منصوبوں کیلئے 31 دسمبر تک بند رہے گا ، میسرز ڈیلوٹی کی جانب سے جانچی گئی ہوٹل کی موجودہ مارکیٹ ویلیو یا مالیت 662 ملین (66کروڑ 20 لاکھ) ڈالر ہے۔

 سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوابازی کا اجلاس سینیٹر مشاہد اللہ خان کی زیر صدارت ہوا جس میں بریفنگ دیتے ہوئے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا بین الاقوامی ٹینڈرنگ کے عمل کے ذریعے قومی مشیر کی بھرتی کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے ذریعے نجکاری کمیشن سے رابطہ کیا گیا تھا تاکہ عمارت کو مسمار اور ایک نئی عمارت کی تعمیر یا موجودہ احاطے کی تزئین و آرائش سمیت تمام دستیاب آپشنز پر غور کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بعد میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا تزئین و آرائش یا مرمت کا کام انجام دیا جائے گا یا تعمیر نو کے لیے موجودہ عمارت کو منہدم کیا جائے اور ایک نیا بلند و بالا ہوٹل تیار کیا جائے جس کے لیے مقامی قوانین سازگار ہیں۔اجلاس میں پی آئی اے کو منافع بخش ادارے میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

نیویارک میں اہم مقام پر واقع 19منزلہ روزویلٹ ہوٹل 1978 میں اس کے اپنے منافع سے شراکت داری کی بنیادی پر حاصل کیا گیا تھا اور یہ پی آئی اے کی تنوع حکمت عملی کا حصہ تھا۔سی ای او نے کہا کہ 1999 میں پی آئی اے نے اپنے وسائل اور حکومت سے کسی قسم کی امداد کے بغیر 36.5 ملین (3کروڑ 65 لاکھ) ڈالر کے عوض 100 فیصد حصص حاصل کر لیے تھے۔

انہوں نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ اس پراپرٹی میں ایک ہزار سے زائد کمرے ہیں جس کا رقبہ 43 ہزار 313 مربع فٹ ہے اور اسے دنیا کی سب سے بہترین ہوٹل مینجمنٹ کمپنی، امریکا کی 'انٹر اسٹیٹ ہوٹل اینڈ ریزورٹس' چلاتی ہے، کمیٹی کو بتایا گیا کہ میسرز ڈیلوٹی کی جانب سے جانچی گئی ہوٹل کی موجودہ مارکیٹ ویلیو یا مالیت 662 ملین (66کروڑ 20 لاکھ) ڈالر ہے۔

قرض، یونین کے مسائل، خستہ حال عمارت، انفرا اسٹرکچر، کمروں اور عوامی علاقوں کی حالت کی وجہ سے ہوٹل کی مالی حیثیت بنیادی طور پر بہت زیادہ خراب تھی اور ہوٹل کو مرمت اور اپ گریڈ کیے جانے کی ضرورت تھی، پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا کہ کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے ہوٹل کا کاروباری مزید متاثر ہوا اور اس سے سالانہ 60 لاکھ ڈالر تک نقصان ہو سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی آئی اے 13 سالہ پرانے طیارے چلارہی ہے جبکہ دیگر ایئر لائنز 3 سال پرانے طیارے چلارہی ہیں۔

اجلاس میں سینیٹرز منظور احمد کاکڑ، سید مظفر حسین شاہ، محمد اسد علی خان جونیجو، نعمان وزیر خٹک، سجاد حسین طوری، محمد خالد حسین بزنجو اور ایوی ایشن ڈویڑن اور پی آئی اے کے سینئر عہدیدار شریک تھے۔

مزید :

قومی -