متحدہ عرب امارات کیلئے ترکی جاسوسی کرنیوالا شخص پکڑا گیا لیکن بدلے میں کیا کچھ لیتا رہا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

متحدہ عرب امارات کیلئے ترکی جاسوسی کرنیوالا شخص پکڑا گیا لیکن بدلے میں کیا ...
متحدہ عرب امارات کیلئے ترکی جاسوسی کرنیوالا شخص پکڑا گیا لیکن بدلے میں کیا کچھ لیتا رہا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی

  

انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن ) اردنی شہری محمو د عیش  الاستال ایک صحافی کا روپ دھا ر کر متحدہ عرب امارات کے لیے ترکی کی جاسوسی کرتے پکڑا گیا، وہ بطور صحافی گیارہ سال تک کام کرتا رہا جس کا مقصد  ترکی کی ملکی اور عالمی سیاست کی جانکاری حاصل کرکے یواے ای میں اپنے متعلقہ ذمہ داران تک پہنچانا تھا۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق 45 سالہ الاستال نے مجموعی طور پر 11 سال امارات کے لیے کام کیا اور اس کے بدلے میں چار لاکھ ڈالر (چھ کروڑ اڑتالیس لاکھ روپے سے زائد) کی رقم وصول کی ، گزشتہ سات سال سے وہ ترکی میں مقیم تھا جو مسلمان بھائی چارہ کے نام پر ایک ادارے کیساتھ تحقیقاتی صحافی کے طور پر وابستہ تھا، اسے ہدف دیا گیا تھا کہ بھائی چارے کے ممبران جو ترکی میں مقیم ہیں، ان کیساتھ ساتھ عرب اور امارات میں مقیم ان لوگوں کی بھی معلومات فراہم کریں جو اپنے ممالک سے بھاگے ہوئے ہیں۔ 

اس کی اضافی ذمہ داریوں میں ترک سیاست کی انٹیلی جنس اور ان لوگوں کی معلومات فراہم کرنا تھیں جو متحدہ عرب امارات کے لیے کام کرسکیں ، پکڑا جانیوالا شخص ایک مخصوص سافٹ ویئرکے ذریعے رابطہ رکھتا تھا جو اس کے موبائل اور لیپ ٹاپ میں اماراتی انٹیلی جنس افسران نے انسٹال کیا تھا، ملزم ستائیس سو ڈالر ماہانہ وصول کرتا تھا  اور 2013ء میں ترکی منتقل ہونے سے قبل اسے گیارہ ہزار ڈالر ادا کیے گئے تھے ، 2015ء میں ترکی میں فلیٹ کی خریداری کے لیے پچاس ہزار ڈالر بھی دیئے گئے تھے ۔ رپورٹ کے مطابق الاستال مبینہ طورپر اماراتی انٹیلی جنس میں چار لوگوں سے رابطے میں تھا جن کے کوڈ نام ابو رشید، ابو علی ، ابو سہیل اور ابو فارس سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص نے الاستال کا ذمہ داری سونپی اور دوسرے شخص سے بھی وہ چار سال قبل ترکی کے شہر استنبول میں ہی ملاقات کر چکا ہے ۔ اس شخص کو ستمبرمیں پکڑا گیا تھا لیکن اس کی تازہ تفصیلات گزشتہ روز سامنے آئی ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -