خاتون عہدیدار سے ہاتھ ملانے سے انکار پر جرمنی نے مسلمان ڈاکر کی شہریت کی درخواست مسترد کردی

خاتون عہدیدار سے ہاتھ ملانے سے انکار پر جرمنی نے مسلمان ڈاکر کی شہریت کی ...
خاتون عہدیدار سے ہاتھ ملانے سے انکار پر جرمنی نے مسلمان ڈاکر کی شہریت کی درخواست مسترد کردی

  

لندن (مجتبیٰ علی شاہ) خاتون عہدیدار سے ہاتھ نہ ملانا مسلمان ڈاکٹر کو مہنگا پڑ گیا،تفصیلات کے مطابق 39سالہ لبنانی شہری کو جرمنی نے شہریت دینے سے انکار کر دیا، 39سالہ لبنانی شہری 13برس تک جرمنی میں مقیم رہا اور میڈیکل کی تعلیم مکمل کی مطلوبہ نمبرز سے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ جرمنی کی شہریت پانے کا اہل تصور کیا جا رہا تھا لیکن ماضی میں 2015کے دوران ایک تقریب میں اس نے خاتون عہدیدار سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا تھا جو اس کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر حائل ہو گیا۔

جرمن کے ریاستی حکام نے نوجوان ڈاکٹر کو شہریت دینے سے انکار کر دیا، لبنانی شہری 2002میں جرمن پہنچا اور وہاں قانونی طورپر رہائش اختیار کی، میڈیکل کی تعلیم حاصل کرتا رہا 10سال قبل اس نے شامی نژاد ایک خاتون سے شادی کرلی اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ کبھی کسی دوسری عورت کا ہاتھ نہیں تھامے گا، 2012 میں اس نے شہریت کیلئے کاغذی کارروائی کا آغاز کیا مگر متعلقہ حکام نے ماضی کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مصافحہ سے انکار کا واقعہ مرد اور خواتین کے مابین برابر کی ضمانت سے متفق نہیں اور آئین سے متصادم بھی ہے لہٰذا جرمن معاشرے میں اس کا انضمام نہیں ہو سکتا، مصافحہ ایک رسمی سا معاملہ ہے جس میں لوگوں کی معاشرتی حیثیت ‘ صنف یا دیگر ذاتی خصوصیات سے قطع نظر رونما ہوتی ہے مغربی ثقافت میں مصافحہ کی گہری جڑیں ہیں مگر لبنانی نوجوان کے مصافحہ سے انکار اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ جرمن معاشرے میں ضم نہیں ہو سکتا ۔

مزید :

بین الاقوامی -برطانیہ -