سینیٹ مواصلات کمیٹی نے این ایچ اے میں بلوچستان کا کوٹہ 6 فیصد سے بڑھانے کی سفارش کردی

سینیٹ مواصلات کمیٹی نے این ایچ اے میں بلوچستان کا کوٹہ 6 فیصد سے بڑھانے کی ...
سینیٹ مواصلات کمیٹی نے این ایچ اے میں بلوچستان کا کوٹہ 6 فیصد سے بڑھانے کی سفارش کردی
سورس: File Photo

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ مواصلات کمیٹی نےنیشنل ہائی وے اتھارٹی(این ایچ اے)میں بلوچستان کاکوٹہ چھےفیصد سےبڑھانے کی سفارش کردی،چیئرمین کمیٹی کا وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کی اجلاس سے مسلسل غیر حاضری پر اظہار برہمی،معاملے پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو خط لکھنے کا فیصلہ۔

سینیٹر پرنس احمد عمر احمد زئی کی زیرصدارت سینیٹ کی مواصلات کمیٹی کا اجلاس ہوا،سینیٹر دنیش کمار نے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کے کمیٹی اجلاس سے عدم شرکت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ میرے سامنے مراد سعید نے چیئرمین کمیٹی سے اجلاس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی تھی،وزیر مواصلات  کی گردن میں سریا ہے، اس لیے وہ کمیٹی میں نہیں آرہے۔چیئرمین کمیٹی پرنس احمد عمر زئی نے کہا کہ ہوسکتا ہے وزیر مواصلات کی کوئی مصروفیت ہو،جب سے کمیٹی اجلاس شروع ہوئے مراد سعید نے شرکت نہیں کی۔

کمیٹی اجلاس میں این ایچ اے میں خالی آسامیوں کا معاملہ زیر غور آیا،این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ این ایچ اے میں 2184آسامیاں ہیں جبکہ 2800 لوگ کام کر رہے ہیں،این ایچ اے میں 18 افسر ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں جس میں ایک ممبر فنانس اور ایک ممبر ایڈمن ہے۔کمیٹی ارکان نےاین ایچ اےمیں خواتین کے کوٹہ پر بھرتیاں مکمل کرنے کی سفارش کر دی،کمیٹی اجلاس میں این ایچ اے میں بلوچستان کے کوٹے کا معاملہ زیر غور آیا، سیکریٹری این ایچ اے نے کمیٹی حکام کے بتایا کہ این ایچ اے میں بلوچستان کا کوٹہ چھ فیصد ہے،کمیٹی ارکان نے این ایچ اے میں بلوچستان کیلئے نوکریوں کے کوٹے پر اظہار تشویش کرتے ہوئےاین ایچ اے میں بلوچستان کا کوٹہ چھ فیصد سے بڑھانے کی سفارش کردی۔

سینیٹر کامل علی آغا نے استفسار کیا کہ این ایچ اے اتنا بڑا ادارہ ہے پھر بھی اسکے ممبرز بھی ڈیپوٹیشن پر ہیں؟ این ایچ اے میں ڈرائیور بھی ڈیپوٹیشن پر ہیں؟ کیا ڈرائیور مل نہیں رہے تھے؟کمیٹی اجلاس میں شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کا معاملہ بھی زیر غور آیا،این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ جگلوٹ سکردو روڈ بننے سے تین گھنٹے میں سکردو سے گلگت جایا جاسکے گا، یہ منصوبہ 31 ارب روپے لاگت کا ہے جو رواں سال نومبر کے اختتام تک مکمل ہو جائیگا۔سینیٹر کامل علی آغا نےکہاکہ ایبٹ آباد سے آگے شاہراہِ قراقرم کا 80کلومیٹر کا حصہ سفر کے قابل نہیں، ایبٹ آباد سی پیک کا گیٹ وے ہے، اگر یہی حالت ہے تو سی پیک کا معاملہ تو پھر گھمبیر ہے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ موٹرویز پراشیا کی قیمتوں کا تعین ہی نہیں کیا جاتا، اشیا کی قیمتوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے،پرنس احمد عمر احمد زئی نے کہا کہ اگلے اجلاس میں اشیا کی قیمتوں پر بات کریں گے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -