سراج الحق نے قوم سے ایسی اپیل کر دی کہ مولانا فضل الرحمان سمیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت سر پکڑ لے

سراج الحق نے قوم سے ایسی اپیل کر دی کہ مولانا فضل الرحمان سمیت پیپلز پارٹی ...
سراج الحق نے قوم سے ایسی اپیل کر دی کہ مولانا فضل الرحمان سمیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت سر پکڑ لے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سابقہ اور موجودہ حکومتوں میں کوئی فرق نہیں،قوم ایک ظالم کے خلاف دوسرے ظالم کا ساتھ نہ دے، ناانصافی پر خاموش رہنا بھی ناانصافی کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، پاکستان اللہ تعالیٰ کی نعمت مگر 73برسوں میں ہم یہاں اللہ کا نظام نافذ نہیں کرسکے،آج عدالتوں میں قرآن کا نظام نہیں،پارلیمنٹ کےماتھےپرکلمہ طیبہ لکھاہواہےمگر وہاں قانون سازی اسلام کےمخالف ہوتی ہے،بھوک، غربت، نفسیاتی امراض، مہنگائی اور بےروزگاری کی وجہ یہ ہےکہ ملک میں قرآن و سنت کانظام نہیں،سودی معیشت،مخلوط نظام تعلیم،امن و سکون سے خالی معاشرہ اور دیگر امراض دین سے دوری کی علامت ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے خود کہا کہ پاکستان میں 70لاکھ نوجوان نشے میں مبتلا ہیں،موجودہ حکمرانوں نے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا، پندرہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں تین بار اضافہ ہوا، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں سو سے تین سو فیصد بڑھیں، ادویات کی قیمتیں 14بار بڑھائی گئیں، گورنر سٹیٹ بنک نے لندن میں بیٹھ کر کہا کہ روپے کی قدر کم ہونے سے اوورسیز پاکستانیوں کو بڑا فائدہ پہنچا،وزیرخزانہ کہتے ہیں کہ قوم مہنگائی برداشت کرے،وزیراعظم فرما رہے ہیں کہ سکون قبر میں ہی آئے گا،غیرسنجیدہ حکمران فہم اور فراست سے خالی ہیں،اس حکومت نے کشمیر کا سودا کیا،غیر ترقیاتی اخراجات بڑھائے،وی آئی پی کلچر میں اضافہ ہوا،قوم سے اپیل ہے کہ وہ خاموشی کے بجائے ناانصافی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جائے اور جماعت اسلامی کا ساتھ دے، جماعت اسلامی کے پاس ایک واضح منشور ہے،ہمارے کسی لیڈر کا نام پاناما یا پنڈوراپیپرز میں نہیں آیا،ہماری کوئی شوگر مل نہیں،جماعت اسلامی کو موقع ملا، تو اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے معیشت کو بحران سے نکالیں گے اور پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالیں گے۔

سراج الحق نے کہا کہ جمعہ کا دن امت مسلمہ کے لیے سعادت کا دن ہے،ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی ضرورت ہے،قوم کو متحد ہو کر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنی ہو گی،رزق کی فراوانی، امن اور سکون صرف اور صرف اسلام میں پناہ لینے میں ہے،دین اسلام پوری انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہے، اللہ کے نزدیک صرف ایک ہی نظام ہے اور وہ نظام اسلام ہے،ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم گزشتہ سات دہائیوں میں ملک میں اس نظام کو نافذ نہیں کرا سکے۔

انھوں نےکہاکہ آج مہنگائی اورغربت ہرگھرمیں ناچ رہی ہےاسکےباوجود کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس عظیم الشان ریاست سے نوازا، پاکستان 22کروڑ باصلاحیت لوگوں کا ملک ہے،ہم گندم، چنا، گنا اور کپاس پیدا کرنے والے دس بڑے ملکوں میں شامل ہیں،ہماری لائیوسٹاک بہترین کوالٹی کی ہے اور ہم دنیا میں لائیوسٹاک کےحوالےسےپانچواں بڑاملک ہیں،پاکستان پانچ دریاؤں کی سرزمین اور چارموسموں کی نعمت سےمزین ہے،یہاں 65فیصدذہین ترین اور باصلاحیت نوجوان ہیں،ہمارے مزدور اور کسان محنتی اور جفاکش ہیں، مگر اس سب کے باوجود آج ملک کا حال سب کے سامنے ہے۔ 

امیر جماعت نے کہا کہ ملک کے مسائل کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں مغرب کا نظام نافذ ہے، تینوں بڑی پارٹیاں جو ملک پر مسلط ہیں، ان کی سیاست کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ ہے،لوگ ایک ظالم کے خلاف دوسرے ظالم کا ساتھ نہ دیں۔ انھوں نے کہا کہ ربیع الاوّل کے مہینے کا تقاضا ہے کہ حضور پاک ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگیوں پر نافذ کیا جائے اور بعد میں اس پیغام کو اپنے اردگرد اور انسانیت میں عام کیا جائے،ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہم ناانصافی اور ظلم پر خاموشی اختیار کر کے روزِ قیامت اللہ اور اس کے رسولﷺ کا سامنا کر سکیں گے، ہمیں اپنی زندگیوں کا جائزہ لینا ہو گا، ہمیں اپنے ماحول، اپنے گھر اور اردگرد سب لوگوں کو سیرت رسولﷺ سے آشنا کرانا ہے،جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد افراد کی دنیاوی اور اخروی نجات ہے، ظلم اور ناانصافی، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف اور ملک میں قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے 31اکتوبر کو اسلام آباد میں بھرپور مظاہرہ کریں گے، قوم سے اپیل ہے کہ وہ ہمارا دست و بازو بنے۔

مزید :

قومی -