"نیب آرڈیننس لا کر حکومت نے تسلیم کر لیا ہے کہ ۔۔۔"قمر زمان کائرہ نے ایسا نکتہ اٹھا دیا کہ حکومتی قانون ساز پریشان ہو جائیں 

"نیب آرڈیننس لا کر حکومت نے تسلیم کر لیا ہے کہ ۔۔۔"قمر زمان کائرہ نے ایسا نکتہ ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ نےکہاہےکہ قومی احتساب بیورو (نیب)خورشید شاہ کے خلاف مزید ریفرنس اور تحقیقات کی ڈیمانڈ کر رہا تھا ،نیب خورشید شاہ کی گرفتاری پرعدالت کو مطمئن نہیں کرسکا ،جس کے خلاف جو الزام ہے ،نیب اس کے ثبوت عدالت میں پیش کرے،آرڈیننس لا کر حکومت نے تسلیم کر لیا ہے کہ اصلاحات کی ضرورت تھی کیونکہ نیب ٹھیک کام نہیں کر رہا تھا ۔

نجی ٹی وی کے پروگرام "لائیو ود نصراللہ ملک"میں گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہمارا بڑا سادہ سا ایشو ہے،ہم کہہ رہےہیں کہ سیدخورشید شاہ کو غلط کیس میں نامزد کیا گیا ہےاور نیب کے پاس کیس بنانے کی کوئی بنیاد نہیں ہے ،ابھی کل عدالت میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے بار بار پوچھا کہ آپ کا بنیادی الزام کیا ہے ؟نیب نے جو باتیں وہاں پربتائیں وہ بالکل اتنی بودی اورکمزور تھیں کہ جج صاحبان بار بار انہیں سمجھاتے رہے کہ آپ یہ کریں ،آپ یہ کریں ،اُنہوں نے کہا کہ ابھی آپ کی انویسٹی گیشن جاری ہے ،ان چیزوں کو ابھی دیکھ لیں ۔

سابق وفاقی وزیراطلاعات  کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ کو کسی آرڈیننس آنے سے کسی ریلیف کی بات نہیں ہے،25 مہینے کے بعد خورشید شاہ کو ضمانت ملی ہے ، خورشید شاہ کو ڈھائی سال جیل کاٹنے کی سز اُن کی وفا کے جرم پر ملی ، جس طرح خورشید شاہ کی ضمانت ہوئی ویسے ہی یہ کیس بھی ختم ہو جائے گا،ضمانت ریلیف نہیں ، تین سال جیل میں رہنے کے بعد خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی نیب پر بہت سے سوال اٹھاتی ہے،نیب کو اپنی غیر جانبداری بھی ثابت کرنا پڑے گی ،کیا کسی ایک سیاستدان پر ایک روپے کا کیس بھی ثابت ہوا؟ آج سوا تین سال بعد آپ کہہ رہے ہیں کہ عدالتیں سہی کام نہیں کررہیں ۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ سیف الرحمان کی تقرری کے وقت چیئرمین نیب کی تعیناتی کا طریقہ کار مختلف تھا ،پیپلز پارٹی نے18ویں ترمیم میں سے چیئرمین نیب کی موجودہ تقرری کا تعین کیا ، عوام کی رائے اور عوام کا دباؤآئین اور قانون سے زیادہ طاقتور ہے،نیب آرڈیننس کا مقصد چیئرمین کو توسیع دینا ہے،اگر ہم افراد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ملک اور ادروں کو چلانا چاہیں گے تو پھر ملک نہیں چلے گا ،اگر نیب اور عدالت سے انکا کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر نیب کے چیئرمین کو انتہائی نامناسب غیرقانونی اور غیر آئینی طریقے سے انکی ایکسٹینشن کا پراسز کیوں کیا گیا؟ یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ نہیں تو کیا ہے؟۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی نیت نیب کی اصطلاحات ہرگز نہیں،حکومت اگر مخلص ہوتی تو صدارتی آرڈیننس کی بجائے معاملہ پارلیمنٹ میں لاتی ،آج سارا میڈیا اور سول سوسائٹی بھی ہمارے ساتھ ہم آواز ہو کر کہہ رہی ہے کہ نیب درست نہیں کر رہی،پیپلز پارٹی نے کبھی کسی گملے کا سہارا نہیں لیا،ہم پاکستان کی عوام کے ووٹ کے سہارے آتے ہیں،ہم کبھی بھی کسی طاقتور کے اشارے پہ نہیں چلے بلکہ طاقتور قوتیں ہمیشہ ہمارے خلاف چلتی اور ہماری جماعت کو توڑتی رہی ہیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -