عمران خا ن کی نااہلی

عمران خا ن کی نااہلی

  

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو الزامات ثابت ہونے پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے19ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو جمعے کو سنا دیا گیا ہے۔ مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب درست نہیں تھا،انہوں نے دانستہ تحائف کی غلط تفصیلات گوشواروں میں ظاہر کیں،عمران خان کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے ہیں اس لیے انہیں آئین کے آرٹیکل 63 ون پی کے تحت نااہل کیا جاتا ہے اور اُن کی قومی اسمبلی کی نشست کو خالی قرار دے دیا گیا ہے۔ اُنہیں الیکشن ایکٹ کی دفعات 137، 167 اور 173 کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے اُن  کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ فیصلہ سنانے کے لیے الیکشن کمیشن نے عمران خان سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کر رکھے تھے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے عمران خان کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی کے پاس آئین کے آرٹیکل 63 (ٹو) کے تحت ریفرنس دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے مگر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثہ جات کے گوشواروں میں انہیں ظاہر نہیں کیا گیا اس لیے وہ بددیانت ہیں،لہٰذا انہیں آئین کے آرٹیکل 62 ون (ایف) کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے چار اگست کو الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 63 (ٹو) کے تحت ریفرنس بھیجا تھا جس میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کی سزا کی استدعا کی گئی تھی۔

ریفرنس دائر ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے قائدین کی جانب سے اِن الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ اُن خلاف توشہ خانہ ریفرنس بلا جواز اور بے بنیاد ہے،بدنیتی پر مبنی ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے، توشہ خانہ ریفرنس اختیارات کا ناجائز استعمال اور آئینی اختیارات کی توہین ہے۔چیئرمین تحریک انصاف کا موقف تھا کہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنا ہی غیر قانونی ہے، ریفرنس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہے اور نہ وہاں قابل سماعت ہے، توشہ خانہ تحائف کو اثاثوں میں کبھی نہیں چھپایا، وہ تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ فیصلہ سنائے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔ پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے اسلام آباد ہائی کورٹ جانے کا اعلان کیا جو صائب فیصلہ ہے،عمران خان کا موقف اپنی جگہ لیکن الیکشن کمیشن کا فیصلہ آ چکا ہے، ان کے لیے عدالتوں کے دراوازے کھلے ہیں جہاں انہیں قانونی جنگ لڑنی چاہئے اور اپنے موقف کو ثابت کرنا چاہئے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق عمران خان کو پانچ سال کے لیے نااہل کیا گیا ہے الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف کریمنل کارروائی کے آغاز کا بھی کہا ہے۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق یہ ون ٹائم نا اہلی ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن یہ فیصلہ دے ہی نہیں سکتا اور نہ ہی اس فیصلے کی کوئی حیثیت ہے۔ 

فیصلے کی تحریک انصاف اور حکومتی تشریحات اپنی جگہ لیکن ان سطور کے لکھے جانے تک اس پر بحث جاری تھی کہ عمران خان صاحب کی نا اہلی تاحیات ہے، پانچ سال کی ہے یا موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک کی ہے،تفصیلی فیصلہ آنے پر یہ ابہام بھی دور ہو جائے گا۔ فیصلہ آنے کے فوراً بعد تحریک انصاف قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کر چکی تھی لیکن تشویشناک امر یہ ہے اس اعلان کے باوجود اسلام آباد کے علاوہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بعض شہروں میں پی ٹی آئی کے مشتعل کارکنان کی جانب سے احتجاج کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں، ٹائر جلا کر سڑکوں پر ٹریفک بلاک کر دی گئی تھی، ٹی وی سکرینوں پر مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ جبکہ پولیس کی طرف مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے جانے کے مناظر دیکھے جا سکتے تھے، پی ٹی آئی کا احتجاج تا دمِ تحریرجاری تھا۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں، وہ ہمیشہ سے قانون کی عمل داری پر یقین کے داعی رہے ہیں، موجودہ حالات میں اُن کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، یہ لیڈر شپ کا امتحان ہے، ایسے وقت میں لیڈر شپ کو غصے میں آئے بغیر ٹھنڈے دِل و دماغ سے مشتعل کارکنوں کو کنٹرول کرنا چاہئے۔ عمران خان کی نااہلی بظاہر نہ تاحیات ہے اور نہ ہی پانچ سال کے لیے، قوی امکان ہے کہ یہ نااہلی موجودہ اسمبلی کی مدت تک ہی محدود رہے گی اس لیے ایسی اشتعال انگیزی کا کوئی جواز نہیں بنتا، احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن اسے قانونی دائر کار میں رہتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔ پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے مختلف سڑکوں اور موٹر وے کی بندش گنواتے رہے جو ”عوامی رد عمل“ کے نام پر تحریک انصاف جیسی ملک کی بڑی سیاسی جماعت کو نہیں جچتا، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کے بجائے صبر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کو نہ صرف تاحیات نااہل کیا گیا بلکہ ان کی نا اہلی سپریم کورٹ سے ہوئی اور ان کے پاس اپیل تک کا حق نہیں تھا جبکہ عمران خان کا کیس سیشن کورٹ بھیجا جائے گا جہاں ان کا ٹرائل چلے گا، سیشن سے کیس کا فیصلہ ہو جانے کے بعد بھی اُن کے پاس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے آپشن موجود رہیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہونے کے ناتے ملک کے آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے قانونی جنگ سڑکوں کے بجائے عدالتوں میں لڑیں۔ عمران خان اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور دھرنے دینے سے کچھ حاصل نہیں ہو پاتا، جمہوری نظام میں جیسے حکومت کرنے کا راستہ صرف اور صرف اسمبلیوں سے ہو کر گزرتا ہے ویسے ہی قانونی جنگ بھی صرف عدالتوں میں ہی لڑی جا سکتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -