اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے  

 اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے  
 اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے  

  

 یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے  ہماری دنیا تبدیل کر کے رکھ دی ہے۔اچھے خاصے پر سکون ماحول کو ارتعاش انگیز بنا دیا ہے۔راتوں کو جلد سونے کے عادی افراد اب اس سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی بدولت راتوں کی راحت اور نیند قربان کر چکے اگرچہ متاثر ین سوشل میڈیا میں زیادہ تر نوجوان نسل شامل ہے مگر بزرگ بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں،ہو بھی کیسے سکتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی دنیا  اتنی وسیع، ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہے کہ ایک دفعہ کوئی اس میں غوطہ زن ہو گیا پھر واپسی ممکن نہیں ہے،یہ وہ نشہ ہے جو استعمال کے بعد زیادہ لذت افروز ہے۔ اور جسکی طلب اور تڑپ نے دن اور رات کا فرق ختم کر دیا ہے۔ بلا شبہ اس لذت میں ایک علت کا سبب بھی ہے جو نوجوان نسل کو کتب بینی کے شوق سے بہت دور لے گیا ہے۔تن آسانی اور سہولت نے محنت اور مشقت کو پرے دھکیل دیا ہے،ہم نے تو نا بالغ بچوں کے ساتھ بھی ظلم کیا ہے کہ انکے ہاتھوں میں کمسنی میں ہی جدید موبائل تھما دیا ہے،اس سے فیملی کا سٹیٹس تو ضرور بنتا ہے مگر اسکے نتائج بڑے خوفناک اور بھیانک آ رہے ہیں اور اب تو تیرہ چودہ سال کے بچے بچیاں اسی نیٹ اور موبائل کی بدولت گھر والوں سے بالا بالا شادیاں رچا رہے ہیں جو پوری سوسائٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ 

  سوشل میڈیا جس میں انٹرنیٹ، فیس بک،واٹس اپ، ٹویٹر اور انسٹاگرام وغیرہ شامل ہیں، میں معلومات کا اک جہاں آباد ہے اور اس میں ہر طرح کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ زبردست تفریحی، سائنسی،میڈیکل، جدید اور قدیم روایات، تاریح اور جغرافیہ،غرضیکہ ہر مزاج اور ہر عمر کے لوگوں کے لیے ہر طرح کا سامان موجود ہے۔اب یہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس بحر بے کراں سے دوا لے یا درد۔انفارمیشن کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر تحقیق و جستجو کے سفر پر گامزن ہو،یا اپنی نفسانی خواہشات کے زیر ہو کر اک ایسی دنیا میں کھو جائے کہ جس سے واپسی ممکن نہ ہو۔۔  اسی سوشل میڈیا کی بدولت بہت سی بے جوڑ شادیاں بھی انجام پارہی ہیں جو اکثر جعلی اور فرضی تصویر یں لگا کر ہو رہی ہیں اور جنکے انجام کو جاننے کے لیے کسی علم نجوم کا ماہر ہونا ضروری نہیں۔ سوشل میڈیا کے فائدے اور نقصان اپنی جگہ مگر اس نے بغیر کسی محنت اور مشقت کے ہم جیسے بہت سوں کو راتوں رات مفتی اور عالم بنا دیا۔ اب یار دوست اتنے تواتر اور اعتماد کے ساتھ بڑی خوبصورت اور دلکش پوسٹیں اور پیغام فارورڈ کرتے ہیں کہ دل اش اش کر اٹھتا ہے۔گروپوں اور فیس بک پر لگاے گیے اکثر پیغامات بغیر کسی تحقیق اور مناسب علم یا انفارمیشن کے ہوتے ہیں جو بعض اوقات شرمندگی اور ندامت کا باعث بھی بنتے ہیں۔ جہاں شاعری میں علامہ اقبال، فیض اور فراز تحتہ مشق بنتے ہیں وہیں کافی صوفی، بزرگ اور دانشور بھی شکار ہوتے ہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سب سے خطرناک فارورڈنگ گروپس ہیں جو بلا تحقیق ہر طرح کا مواد آگے بڑھا دیتے ہیں۔ 

سوشل میڈیا جہاں جدید ترین انفارمیشن اور ہر طرح کی تفریح کا سامان مہیا کرتا ہے اور بلاشبہ انسانی نالج  اور علم و آگاہی کے کئی اسباب مہیا کرتا ہے وہاں اس کا منفی استعمال بڑے خوفناک نتائج مرتب کرتا ہے۔ اب کسی بھی شریف آدمی کی پگڑی اچھالنا، توہین آمیز مواد شیئر کرنا، اور ہر طرح کی عصبیتوں کو ابھارنا سوشل میڈیا کی بدولت زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ فیک آئی ڈیز بنا کر کسی کے خلاف بھی تضحیک و تحقیر کے نشتر چلانا مشکل نہیں رہا۔ بدقسمتی سے پچھلے چند ماہ سے سیاسی طور پر برْی طرح منقسم قوم سوشل میڈیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے، ہر کوئی اپنی پسند کی ویڈیو، آڈیو اور ہر طرح کا جارحانہ اور متنازعہ مواد سوشل میڈیا پر شیئر کر رہا ہے۔ جس سے معاشرہ میں سکون، ٹھہراؤ، امن و آشتی، ہم آہنگی اور پیار و محبت کی بجائے نفرت انگیزی، عدم برداشت، غصّہ، الزام اور بہتان تراشی کا چلن عام ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جس سے یہ قوم مزید تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے جو کہ ملکی یکجہتی اور وحدت کے لیے زہرِ قاتل ہے، اب وقت آگیا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال سوچ سمجھ کر اور مثبت انداز میں کیا جائے تاکہ معاشرہ میں سکون اور برادرانہ ہم آہنگی کی فضا قائم رہے۔ ہمارے معاشرتی رویے نفرت اور عدم برداشت سے انسانی ہمدردی اور خدمت کی طرف مرکوز ہو سکیں۔                            

                                        دنیا کی جتنی اچھی باتیں ہیں وہ سوشل میڈیا پر share ہو چکی ہیں۔صبح سے رات گئے تک بہترین posts جن میں اعلی اخلاقی اقدار کا درس، قربانی اور نیکی کی سنی سنائی کہانیاں اور دلوں کو موہ لینے والے ناقابلِ یقین واقعات، غرض یہ سلسلہ ہر دم رواں دواں ہے۔میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ان خوبصورت اور دلکش باتوں اور کہانیوں پر عمل بھی کیا جائے اور اب اگر یہ بات share کی جاے کہ آج کتنے  غریبوں اور ناداروں کو کھانا کھلایا گیا، کسی مستحقِ اور غریب مریض کی تیمار داری کی گئی اؤر کسی کو دوائی  خرید کر دی،کسی غریب ہمسایہ کے گھر کھانے کی کوئی چیز یا پھل وغیرہ پہنچایا، کسی نادار اور مستحق طالب علم کی فیس ادا کی یا اسے کتابیں خرید کر دیں رفاع عامہ کے کسی کام میں کوئی حصہ ڈالا،کسی بیوہ اور  یتیم کی حق رسی کی اور انکے آنسو پونچھے،کسی دل شکستہ دکھی کی دستگیری کی،شادی بیاہ پر دیے جانے والے لفافے کسی بیمار کی تیمار داری کے موقع پر بھی دیے جائیں اور کچھ نہں تو اپنے گھر میں کام کرنے والے ملازم کو وہی گرم کھانا کھلایا جائے جو آپ کے بچے کھاتے ہیں،اسی طرح ہی ہم اپنے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اسوہ حسنہ پر  چلیں اور اس معاشرہ کو بہتر بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کر یں۔حالات کا ہر وقت رونا رونے سے بہت بہتر ہے کہ انہیں درست کرنے میں اپنا کوئی کردار ادا کر جائیں، یہ معاشرہ ہم نے ہی ٹھیک کر نا ہے۔بقول فراز :

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جاتے

مزید :

رائے -کالم -