کیا مذاکرات ہو رہے ہیں؟ کامیاب ہوں گے؟

کیا مذاکرات ہو رہے ہیں؟ کامیاب ہوں گے؟
کیا مذاکرات ہو رہے ہیں؟ کامیاب ہوں گے؟

  

 وزیراعظم محمد شہباز شریف، سابق وزیراعظم عمران خان اور فواد چودھری کے الگ الگ بیانات پر غور کریں اور ان کو پس منظر کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ کچھ تو ضرور ہے جس کی پردہ داری ہے۔ عمران خان اور فواد چودھری کے بیانات سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ پس پردہ بات چیت ہو رہی ہے اور اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین نئے انتخابات کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے اور فریق ثانی اس پر آمادہ نہیں، فواد چودھری نے وضاحت بھی کر دی کہ بات چیت کی کامیابی کا انحصار نئے انتخابات کے فیصلے پر ہے جبکہ وزیراعظم نے گزشتہ روز جس انداز سے بات کی اس سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی تیسرا فریق ہے جو دونوں متحارب گروپوں سے بات کررہا ہے کہ محمد شہباز نے کہا چار سال تک یہ چور اور ڈاکو کہتے رہے اور ہاتھ ملانے تک سے انکار کیا اور آج کہتے ہیں آؤ مذاکرات کرلیں۔ ان بیانات سے بات چیت کا تاثر ضرور ملتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تاحال فریقین کے اپنے اپنے موقف میں کوئی لچک پیدا نہیں ہوئی، حالانکہ تیسرے فریق کی تجویز ہے کہ اگلے سال اکتوبر، نومبر کی بجائے مارچ، اپریل پر سمجھوتہ ہو جائے، ذرائع کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم والے سخت موقف رکھنے کے باوجود اتنی لچک پیدا کر سکتے ہیں، لیکن عمران خان کا یہ مطالبہ یا تجویز نہین مانی جا سکتی کہ انتخابات فوری ہوں یا پھر آرمی چیف کا تقرر عام انتخابات کے نتیجے میں اکثریت حاصل کرکے برسراقتدار آنے والے کریں اور اس وقت تک موجودہ چیف ہی کو توسیع دے دی جائے، اس سلسلے میں پہلی بات تو اب ممکن ہی نہیں رہی کہ انتخابات نومبر کی اہم تاریخ سے پہلے ہو کر اس اہم تقرری کے لئے نئی حکومت آ جائے اور جہاں تک توسیع کا سوال ہے تو اتنی مختصر توسیع کرکے نیا عالمی ریکارڈ نہیں بنایا جا سکتا، اس لئے حکومت اس حوالے سے درست موقف کے ساتھ کھڑی ہے، البتہ انتخابات اگلے  سال مقررہ مدت پوری ہونے پر ہوں یا دوچار ماہ پہلے ہو جائیں اس پر بات ہی نہیں اتفاق بھی ہو سکتا ہے اور یہی وہ بڑی رکاوٹ ہے جو بظاہر نظر آ رہی ہے، اگرچہ بہتر تو یہی ہے کہ غیر مشروط طور پر باقاعدہ مذاکرات کئے جائیں اور ان میں یہ ممکن باتیں طے کر لی جائیں،یہ بالکل ممکن ہے لیکن تاحال فریقین کے سخت موقف سے یہ بھی ہوتا نظر نہیں آ رہا اور ملک میں بے چینی بھی ختم نہیں ہو رہی۔

جہاں تک نومبر والے اہم ر عہدے پر نئی تقرری کا سوال ہے تو اسے بلاوجہ متنازعہ بنا دیا گیا اور اپنے ہی سایہ سے خوف کھانے والی بات ہے کہ آج کی دنیا میں کسی ملک میں سابقہ عمل دہرایا تو جا سکتا ہے لیکن اس کی پذیرائی ممکن نہیں کہ آج وہ حالات نہیں ہیں، اس کا اندازہ میانمار سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں فوج نے کاروبار مملکت سنبھال تو لیا لیکن نئی حکومت کو شدید تر مشکلات کا سامنا ہے اور یہاں تو یہ بات طے ہو چکی ہوئی ہے کہ ایک حد سے تجاوز نہیں ہوگا ورنہ مداخلت کے حالات تو خود ہمارے محترم سیاستدان حضرات نے پیدا کر رکھے ہیں اور ان کو عرصہ ہو گیا ہے، اس لئے تعاون اور مدد تو ہو گی لیکن عملی مداخلت نہیں ہوگی، اس لئے ہمارے سیاست دان حضرات کو اپنا تنازعہ خود ہی طے کرنا ہوگا، اب تک جو کچھ کیا جا چکا وہ بھی بہت ہے اور موجودہ محاذ آرائی سے بھارتی خوش ہیں اور تمسخر اڑا رہے ہیں، حتیٰ کہ بھارتی وزیراعظم تو اب کہانیاں سنانے لگ گئے ہیں، جبکہ اندرون ملک انہوں نے انتہا پسندوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور وہ مسلمانوں کی عبادت میں بھی دخل دے رہے ہیں، اب ایک اور مسجد کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے، جبکہ ہمارے ملک کے موجودہ حالات کے بارے میں بھارتی میڈیا کا رویہ متعصبانہ تو دور کی بات ہے یہ باقاعدہ دشمنی والا ہے۔

یہ بات خود سیاسی فریق مانتے اور کہتے ہیں کہ ملکی استحکام ہی معاشی استحکام کی کنجی ہے، لیکن یہ استحکام پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اس میں زیادہ حصہ کپتان کی کی انا ہے کہ وہ اپنے کہے پر کھڑے ہیں اور یہ یقین کئے بیٹھے ہیں کہ عام انتخابات ہو جائیں تو ان کو دوتہائی اکثریت مل جائے گی اور پھر وہ کسی بھی نوعیت کی محتاجی اور رکاوٹ کے بغیر سب کو ”فکس اپ“ اپ کر سکیں گے، حتیٰ کہ وہ صدارتی نظام بھی لا سکیں گے، میرے خیال میں تو یہ سب مفروضہ اور غلط فہمی ہے۔ میں ایک سے زیادہ بار یہ عرض کر چکا کہ 1973ء کے آئین کی موجودگی میں نظام تبدیل نہیں ہو سکتا، البتہ طریقہ انتخاب میں متعلقہ قوانین میں مطلوبہ ترامیم کے بعد تبدیلی ہو سکتی ہے، اس لئے یہ بھی محل نظر ہے کہ حکمرانی توہو لیکن اختیارات نہ ہوں، آئین موجود ہے تو اختیارات بھی اس کے مطابق ہوں گے یہ ممکن نہیں کہ آئین تو وفاقی جمہوری ہو اور کوئی اسے شخصی طور پر استعمال کرے اگرچہ ہمارے ملک کی یہ روایت بھی ہے کہ برسراقتدار جماعت کا سربراہ ہی حکومتی سربراہ بھی ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بھی کئی بار کہا گیا کہ جماعتی اور حکومتی عہدے الگ الگ ہونا چاہئیں، ماضی میں یہ تجربہ بھی ہو چکا ہے، تاہم پارٹی سربراہ اگر حکومتی قائد بھی ہو تو کئی بار مطلق العنائی جیسا ماحول بن جاتا ہے اور اگر یہ صاحب عوام میں مقبول بھی ہوں، ذوالفقار علی بھٹو اور محمد نواز شریف کی صورت میں یہ تجربہ ہو چکا ہوا ہے اور گزشتہ حکومت کے چار سال بھی مظہر ہیں کہ عمران خان اختیار کل کے مالک تھے اور اب بھی جماعتی طور پر ان کی ”جمہوری آمریت“ قائم ہے کہ مشاورت کا ذکر کرتے ہیں لیکن آخری فیصلہ ان کا ہوتا ہے، اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر پھر واپس نہ جانے کا فیصلہ انہی کا ہے کہ ان کی جماعت کے کئی سرکردہ حضرات اب بھی یہ چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپس جائے لیکن عمران خان کا فیصلہ سخت ہے حتیٰ کہ قومی اسمبلی کے رکن ہوتے ہوئے (ان کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا) بھی انہوں نے قومی اسمبلی کے سات حلقوں کا انتخاب لڑا اور چھ میں کامیاب ہوئے لیکن واپس اسمبلی نہیں جانا چاہتے۔

انہی حالات کی روشنی میں میں عرض کروں گا کہ مقتدر اور ایوان سے باہر ان دونوں متحارب فریقوں کے درمیان مصالحت شاید ہی ہو اور قوم اسی مشکل سے گزرتی رہے، بہرحال ایک بات طے ہے کہ محترم عمران خان کم از کم نومبر والے مسئلہ میں تو کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ البتہ یہ امکان بہر صورت موجود ہے کہ عام انتخابات اگلے مالی سال کے بجٹ کے بعد ایک آدھ ماہ پہلے ہو جائیں، اس کا اندازہ عدالت عظمیٰ کی تازہ ہدایت سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزارت داخلہ کو حکم امتناع تو نہ مل سکا لیکن یہ ہدائت موجود ہے کہ حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے لئے قانونی اختیارات استعمال کر سکتی ہے۔ عدالت کی آبزرویشن ہے کہ ابھی ”حملہ“ ہوا نہیں، جب لانگ مارچ والے آئیں گے تو پھر عدالت دیکھے گی، چیف جسٹس نے تو کہہ دیا کہ عادلت موجود ہے تو رات کے وقت بھی کیس سنا جا سکتا ہے۔ ہماری تو ہر حال اور ہر صورت میں دعا ہے کہ اللہ سب کو ملکی بہبود کے حوالے سے درست رویہ اپنانے کی توفیق عنایت فرمائے۔

نوٹ: تازہ ترین اطلاع کے مطابق الیکشن کمیشن نے توشہ خان کیس میں ریفرنس پر محفوظ فیصلہ سنا دیا اور عمران کو نااہل قرار دے دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -