عمران خان کی نااہلی  پر عوامی ردعمل کیا ہوگا؟

عمران خان کی نااہلی  پر عوامی ردعمل کیا ہوگا؟

  

نعیم مصطفےٰ

پاکستان کے مختلف علاقوں سے صرف پانچ روز قبل قومی اسمبلی کی 6نشستوں پر ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ سابق وزیراعظم عمران خان کو الیکشن کمیشن پاکستان نے توشہ خانہ ریفرنس میں نااہل قرار دے دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے جمعتہ المبارک کے روز اس حوالے سے متفقہ فیصلہ سنایا۔  جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، ان کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب درست نہیں تھا، وہ کرپٹ پریکٹس میں ملوث رہے ہیں، ان کی قومی اسمبلی کی نشست کو خالی قرار دیا جاتا ہے۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔توشہ خانہ ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی نے بھجوایا تھا۔دوسری جانب تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ مسترد کر تے ہوئے ہائی کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور سابق وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے عمران خان سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آج یہ فیصلہ ہوا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، یہ صرف عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ آج پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے خلاف فیصلہ سنایا گیا۔

پی ٹی آئی نے فیصلے پر فوری اور سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طنز کیا کہ الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر کو پی ڈی ایم میں شامل کیوں نہیں جاتا؟ ہمیں الیکشن کمیشن سے پہلے بھی کوئی امید نہیں تھی۔ آج پاکستان میں انقلاب کی ابتدا ہوگئی ہے، ان ایوانوں کو الٹا کر ہی ملک کے آئین کو بچایا جاسکتا ہے۔شہباز گل نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ فیصلہ میاں نواز شریف نے لکھا اور ان کے ذاتی ملازم نے اس پر محض دستخط کرکے سنایا، عوام اس فیصلے کو ہر لحاظ سے مسترد کرتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے  تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور بشری' بی بی کوملنے والے غیرملکی تحائف کی تعداد اور ادا کی گئی رقم کی تفصیلات بھی جاری کی گئیں جن میں بتایا گیا ہے کہ 

٭مجموعی طور پر 13 کروڑ89 لاکھ 49 ہزار 400 روپے مالیت کے تحائف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ملے جنہیں تین کروڑ78 لاکھ 84 ہزار50 روپے کے عوض خرید ا گیا۔ 

٭عمران خان نے 2019ء کے بعد سرکاری دستاویزات میں کوئی تحفہ ظاہر نہیں کیا۔ 

٭غیرملکی تحائف حاصل کرنے کے لئے مروجہ قوانین کی دھجیاں اڑائی گئیں اور لوٹ مار کا بازار گرم کیاگیا۔ 

٭عمران خان، بشریٰ بی بی اورسابق وزرا نے تحائف چھپائے،جبکہ  ادائیگی کے بغیر تحائف بھی حاصل کرلئے۔

٭حیرت انگیز طور پر سابق وفاقی وزراء و مشیروں  اسد عمر، غلام سرور، عمر ایوب خان اور مرزا شہزاد اکبر بیگ کو ملنے والے تحائف کے حوالے سے کوئی معلومات ریکارڈ پر موجود نہیں۔ 

٭عمران خان کے دوست عمر فاروق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی، حفیظ شیخ، شیخ رشید، شاہ فرمان، سینیٹر فیصل جاوید، حماد اظہر، ملک امین اسلم، شوکت ترین اور سید ذلفی بخاری بھی عمران خان کے ساتھ سعودی عرب کے دورے کرچکے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی ملنے والے تحائف ظاہر نہیں کئے اور رقوم ادا کئے بغیر تحائف گھر لے گئے۔ 

٭یہ اقدام قانون کی حکمرانی، ریاست مدینہ کے اصولوں، مروجہ قوانین اور خود عمران خان کے دعووں کی کھلی نفی ہے۔ 

٭سابق وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے جتنے دورے کئے، ہر دورے میں ملنے والے تحائف کے ساتھ ہی اسی قسم کی مجرمانہ حرکت کی گئی۔ 

٭سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے ملنے والے تحائف کو دانستہ چھپاکرقانون کی خلاف ورزی کی گئی۔ 

٭عمران خان اور بشریٰ بی بی نے ملنے والے تحائف قانون کے مطابق ظاہر نہیں کئے بلکہ انہیں دانستہ طور پر چھپایا گیا۔ 

٭تحائف پہلے فروخت کئے اورمنافع کمانے کے بعد پھر خریداری کی سرکاری رقم اْس میں سے ادا کی گئی۔ 

٭یہ بطور وزیراعظم اختیارات اور عہدے کا ناجائز استعمال بھی ہے۔ 

٭20 فیصد کی رقم ادا کرکے گھڑیاں خرید لی گئیں۔ 

توشہ خانہ کی دستاویزات سے ہونے والے انکشافات کی تفصیل میں کہا گیا ہے کہ 

٭ توشہ خانہ وفاقی حکومت کی کابینہ ڈویژن کا ایک ذیلی محکمہ ہے۔ 

٭عمران خان نے میڈیا میں آنے والی ایک قیمتی گھڑی کے علاوہ 3 مزید گھڑیاں بھی فروخت کیں جن سے مجموعی طور پر انہوں نے 3کروڑ60 لاکھ روپے کا منافع کمایا۔ 

٭خلیجی ملک کے شاہی خاندان کی طرف سے ملنے والی قیمتی گھڑی عمران خان نے 52 لاکھ روپے میں فروخت کر دیں۔ 

٭سات لاکھ 54 ہزار روپے ادا کرنے کے بعد اس تحفے پر عمران خان نے 45 لاکھ روپے منافع کمایا اور رقم جیب میں ڈال لی۔الیکشن کمیشن نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ دوست ممالک کے تحفے فروخت کرنے پر پاکستان کے خارجی معاملات میں سبکی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

توشہ خانہ ریفرنس کے پس منظر  پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سال رواں کے دوران پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد اتحادی حکومت کے ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے چار اگست کو الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 63 (ٹو) کے تحت ریفرنس بھیجا تھا جس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہلی کی سزا دینے کی استدعا کی گئی تھی۔مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے عمران خان کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی کے پاس آئین کے آرٹیکل 63 (ٹو) کے تحت ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے مگر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثہ جات کے گوشواروں میں انھیں ظاہر نہیں کیا، اس طرح وہ ”خائن“ اور ”بددیانت“ ہیں، لہٰذا انہیں آئین کے آرٹیکل 62 ون (ایف) کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔یاد رہے کہ توشہ خانہ ریفرنس میں فیصلہ 19 ستمبر کو محفوظ کیا گیا تھا۔اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے عمران خان سمیت تمام فریقین کو نوٹس بھی جاری کر رکھے تھے۔ آئینی طور پر الیکشن کمیشن اس ریفرنس پر چار نومبر سے پہلے فیصلہ سنانے کا پابند تھا۔سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے ریفرنس بھجوائے جانے کے فوری بعد پی ٹی آئی کے قائدین کی جانب سے ان الزامات کی مسلسل تردید کی جاتی رہی اور کہا گیا کہ یہ محض بدنیتی اور انتقامی کارروائی پر مبنی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

عمران خان کی سیاست سے نا اہلی تک کے سفرپر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ  پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان  1992 میں جب ورلڈکپ جیت کر آئے تو قوم کے ہیرو بن کر ابھرے اور بھرپور عالمگیر شہرت پائی۔عوام کی بڑی تعداد سمیت جو سیاسی اکابرین مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے انداز حکمرانی سے متفق نہیں تھے  عمران  خان کو اپنا ہیرو قرار دینے لگے۔ابتداء میں عمران خان کے اقرباء نے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھ کر عمران خان کو چیئرمین بنادیا۔اسی بناء پر تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل عمران خان یہ کہتے رہے کہ میں سیاست میں نووارد نہیں بلکہ 20-22 سال سے میدان سیاست کا کھلاڑی ہوں۔پی ٹی آئی نے 2018 کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دی اور عمران خان وزیراعظم بن گئے۔ وہ کس قدر کامیاب حکمران ثابت ہوئے اس پر متضاد آراء سامنے آ رہی ہیں، ان کے حمایتی دن رات تعریف میں رطب اللسان ہیں تو مخالفین الزامات کی بوچھاڑ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تک بھی کہا گیا کہ پی ٹی آئی کو جن طاقتوں نے سہارا دے کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا تھا  انہوں نے ہی پونے چار سال بعد حکومت ختم کر دی۔ یہ الگ بحث ہے کہ اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان کی عوامی پذیرائی میں بے پناہ اضافہ ہوتا گیا اور بعض معاملات میں عدالتوں سے انہیں بڑا ریلیف بھی ملا لیکن مخالفین تاحال عمران خان کو مظلوم ثابت کرنے کی راہ میں مسلسل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔دوسری جانب سابق وزیراعظم اپنی حکومت کے خاتمے کو بیرونی مداخلت اور اندرونی سازش قرار دیئے جا رہے ہیں اس بیانیے کو عوامی مقبولیت بھی حاصل ہوئی ہے اور اقتدا ر سے علیحدگی کے بعد تحریک انصاف نے جو رابطہ عوام مہم چلائی اس میں لوگوں کی بڑی تعداد ہمنوا بنی دکھائی دی۔ تاہم یہ سوال بڑا اہم ہے کہ الیکشن کمیشن کا توشہ خانہ ریفرنس فیصلہ تحریک انصاف یا خود عمران خان کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب کرے گا، نااہلی کے فیصلے کے حوالے سے ممکنہ چیلنج پر عدالتی حکم کیا آتا ہے  اور پی ٹی آئی کی نئی قیادت کا انتخاب مقصود ہوا تو کون سے نام سامنے آتے ہیں، یہ امور تو کچھ عرصے بعد ہی طے ہوں گے لیکن یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ شاہ محمود قریشی کو عمران خان کے متبادل کے طور پر سامنے لایا جا سکتا ہے۔ 

سابق وزیراعظم عمران خان نے تو ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کی 6 نشستوں پر کامیابی کے بعد خیبرپختون خوا میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران واضح طور پر پیش گوئی کی تھی کہ مجھے نااہل کرنے کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے، عوام یہ فیصلہ قبول نہیں کریں گے اور میری لوگوں سے اپیل ہے کہ جب میں لانگ مارچ کی کال دوں تو ایسا ردعمل ظاہر کریں کہ سلیکٹڈ حکمرانوں کے ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی بھرپور احتجاج کے حوالے سے مسلسل بیانات دیتے چلے آ رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت تو کئی روز سے مسلسل لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور صوبائی ترجمان بیرسٹر سیف نے یہاں تک کہا ہے کہ ہم مکمل تیار ہیں کپتان کی طرف سے تاریخ کا اعلان ہوتے ہی لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ آنے کے بعد خیبرپختونخوا میں بالخصوص اور پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بالعموم پی ٹی آئی کارکن سراپا احتجاج بن گئے، فیض آباد راولپنڈی، ڈیرہ اسماعیل خان،پشاور، سوات اور کراچی سمیت دیگر شہروں میں سخت ردعمل دیکھنے میں آیا جبکہ لاہور میں لبرٹی چوک، ڈیفنس سوسائٹی، مینار پاکستان،شاہدرہ  اور اندرون شہر سمیت دیگر مقامات پر شہریوں کی بڑی تعداد اکٹھا ہونا شروع ہو گئی تھی، بعض مقامات پر گھیراؤ جلاؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے اور کہا جا رہا تھا کہ عمران خان کی صدارت میں ہونے والے ہنگامی مشاورتی اجلاس کے فیصلے کے تحت آئندہ کے لائحہ عمل پر فوری عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی یا عمران خان اس فیصلے کے خلاف عوام کو کس حد تک موبلائز کرتے ہیں اور وفاقی حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان ہونے کی صورت میں کس کس صوبے سے کتنے کتنے لوگ سڑکوں پر آتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے بھی کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے بھرپور تیاریاں کر لی ہیں اور وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے اس بارے میں سخت اقدامات کی ہدایت بھی کر دی ہے۔ ایک اہم معاملہ پنجاب حکومت کا ہے کہ پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) اس فیصلے کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے اور کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے اس کا تادم تحریر انتظار ہے۔

 توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ

خیبرپختونخوا اور پنجاب میں احتجاج شروع،لانگ مارچ کی کال بھی متوقع

تحریک انصاف نے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے سمیت تمام آپشن کھلے رکھے ہیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -