ٹرانسجینڈر ایکٹ کے رولز کیخلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی 

 ٹرانسجینڈر ایکٹ کے رولز کیخلاف درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کے رولز کیخلاف دائردرخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی،عمران جاوید کی طرف سے مدثرچودھری ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکررکھا تھا کہ کوئی بھی رول آئین سے متصادم نہیں بنایا جاسکتا عدالت نے استفسارکیا کہ وہ اس معاملے میں کیسے متاثرہ فریق ہیں، وکیل نے کہا کہ ٹرانسجینڈر کے حوالے سے جو رول بنائے گئے ہیں اس سے اس کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں، فاضل جج نے کہا کہ ٹرانسجینڈر ایکٹ کیخلاف درخواست پہلے ہی عدالت مفاد عامہ کے تحت سن رہی ہے، عدالت نے وکیل کی درخواست واپس لینے کی استدعا نے منظور کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی،درخواست گزار کا موقف تھا کہ ٹرانسجینڈر رولز کی شق 3اسلامی شرعیہ اور آئین پاکستان سے متصادم ہے، آئین پاکستان کے تحت کوئی بھی قانون اسلامی شرعیہ اور آئینی حدود کے برعکس نہیں بنایا جا سکتا،ٹرانسجینڈر رولز کی شق 3کے تحت جنس کی تبدیلی کااختیار نادرا کو دے دیاگیا،شق تین کے تحت کوئی بھی مرد یا عورت جنس کی تبدیلی کا شناختی کارڈ بنوا سکتا ہے،شناختی کارڈ کے لیے کسی میڈیکل کی ضرورت نہیں ہے،عدالت سے استدعاہے کہ شق 3کے تحت جنس کی تبدیلی کا نادرا کو دیاگیا اختیار ماورائے قانون قرار دیتے ہوئیکالعدم قرار دیاجائے۔

نمٹا دی

مزید :

صفحہ آخر -