عمران خان نا اہل، تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن فیصلے کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ جانیکا اعلان، ملک بھر میں احتجاج، پنجاب، خیبر پختونختوا کی اسمبلیاں توڑنے کا اختیار پی ٹی آئی چیئر مین کو دیدیا گیا

عمران خان نا اہل، تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن فیصلے کیخلاف اسلام آباد ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو نااہل قرار دیدیا۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں جمع کرایا گیا جواب درست نہیں تھا، عمران خان کرپٹ پریکٹس میں ملوث رہے ہیں، ان کی قومی اسمبلی کی نشست کو خالی قرار دیا جاتا ہے۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عمران خان صادق اور امین نہیں رہے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ فیصلے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کو تاحیات یا پانچ سال کے لیے نا اہل نہیں ہوئے بلکہ مذکورہ اسمبلی کی باقی ماندہ مدت کے لیے نا اہل ہوئے ہیں۔ سابق وزیراعظم کو ترسیٹھ ون پی کے تحت نا اہل کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان کی نااہلی کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس کے مطابق عمران خان نے جان بوجھ کر غلط گوشوارے جمع کرائے۔تحریری فیصلے کے مطابق عمران خان نے دانستہ طور پر تحائف کی تفصیلات گوشواروں کی تفصیلات میں جمع نہیں کرائیں، وکلا کے دلائل، دستیاب ریکارڈ اور ہماری فائنڈنگز کی مطابق عمران خان نااہل ہوچکے ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان آئین کے آرٹیکل 63(1) (p) اور الیکشن ایکٹ 2017  کی سیکشن 137، 167 اور 173 کے تحت نااہل ہیں،  اس فیصلے کے بعد عمران خان رکن قومی اسمبلی نہیں رہے اور وہ کرپٹ اقدام کے بھی مرتکب ہوئے۔تحریری فیصلے کے متن کے مطابق عمران خان نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں غلط گوشوارے جمع کرائے، عمران خان نے ملنے والے تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے اور ان کے پیش کردہ بینک ریکارڈ تحائف کی قیمت سے مطابقت نہیں رکھتا، عمران خان نے اپنے جواب میں جو مؤقف اپنایا وہ مبہم تھا۔الیکشن کمیشن کے تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ سال 2018-19 میں تحائف فروخت سے حاصل رقم بھی ظاہرنہیں کی، عمران خان نے مالی سال 2020-21 کے گوشواروں میں بھی حقائق چھپائے، عمران خان نے الیکشن ایکٹ کی دفعات 137، 167 اور 173 کی خلاف ورزی کی۔الیکشن کمیشن نے فیصلے میں عمران خان کی نشست خالی قرار دی اور کہا کہ عمران خان کی نااہلی آرٹیکل 63 ون پی کے تحت کی گئی، ان کی نااہلی الیکشن ایکٹ کی دفعات137 اور173 کے تحت ہوئی۔،الیکشن کمیشن نے عمران خان کیخلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ عمران خان نے غلط گوشوارے جمع کرائے جبکہ بعض تحائف اثاثوں میں ظاہر نہیں کئے گئے۔دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ جارہے ہیں، پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرے گی،فواد چوہدری نے کہا کہ ہمیں الیکشن کمیشن سے پہلے بھی کوئی امید نہیں تھی، الیکشن کمیشن نے شرم ناک فیصلہ دیا، الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ پاکستان کے اداروں پر حملہ ہے، الیکشن کمیشن ہوتاکون ہے یہ فیصلہ کرنے والا!۔انہوں نے کہا کہ عوام سے اپیل کرتاہوں اپنے حق کے لیے باہر نکلیں، آج پاکستان میں انقلاب کی ابتداء  ہو گئی ہے، پی ٹی آئی اور عوام اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا  کہا کہ الیکشن کمیشن سے اسی فیصلے کی توقع تھی۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میں مشاورتی اجلاس ہوا جس میں شیخ رشید، پرویزخٹک، شاہ محمود قریشی، شہزاد وسیم، اسد عمر،شیریں مزاری سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا اور پارٹی رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر عمران خان کو بریفنگ دی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے اسی فیصلے کی توقع تھی،  موجودہ الیکشن کمیشن پی ڈی ایم کی بی ٹیم ہے، الیکشن کمیشن کے بارے باربار اپنے خیالات کا پہلے ہی اظہار کرچکا۔ا الیکشن کمیشن فیصلے سے متعلق عمران خان وکلا سے مشاورت کریں گے۔عمران خان نے ہدایت کی کہ جیسے ہی فیصلے کی کاپی  عمران خان کو نااہل قرار دینے پر الیکشن کمیشن کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی، جس پرتمام شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکنان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے الیکشن کمیشن اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ کارکنوں نے ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے باہر احتجاج کیا، کئی،احتجاج کی ہدایت ملنے پر پی ٹی آئی ضلع پشاور کی قیادت نے موٹروے بند کردیا جو کئی گھنٹے تک بند رہا۔ عمران خان کی نا اہلی کے فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف مقامات پر دھرنے اوراحتجاجی مظاہرے کئے گئے، مشتعل کارکنان نے ٹائروں کو آگ لگا کر شاہراہوں کو بند کر دیا جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا،مظاہرین نے وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ہمایوں اختر خان کی سربراہی میں کارکنان نے بھٹہ چوک میں جمع ہو کر احتجاج کیا۔ کارکنان اپنی قیادت کے حق میں،وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف جیل روڈ کو بھی بلاک کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا جس سے جیل روڈ سمیت ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے بابو صابو کے مقام پر بھی احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے گاڑیوں کی قطارین لگ گئیں۔کلمہ چوک کے قریب میٹرو کے ٹریک کو بند کر دیا گیا ہے، فیروز پور روڈ، یوحنا آباد کے ساتھ سمن آباد پوائنٹ پر بھی مظاہرے کئے گئے،پی ٹی آئی کارکنان نے ٹھوکر نیاز بیگ میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا۔ پی ٹی آئی کے کارکنان وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے فیض آباد سے زیرو پوائنٹ ہائی وے بلاک کردی۔ کارکنوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال جانے والا راستہ بھی بند کر دیا۔۔دوسری طرف راولپنڈی میں تحریک انصاف کے کارکنان فیض آباد پہنچ گئے اور انہوں نے ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی۔۔دوسری طرف ملک کے دیگر شہروں رحیم یار خان، ساہیوال، گوجرانوالا، ملتان، فیصل آباد، کراچی سمیت دیگر شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے احتجاج  کیادریں اثنا  پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار دے دیا۔عمران خان کی زیر صدارت جاری اجلاس ہوا جس میں ملکی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پنجاب اورکیپی اسمبلیاں توڑنے پر بیشترپی ٹی آئی رہنماؤں نے اتفاق کرلیا تاہم اسمبلیاں تحلیل کرنے کا حتمی فیصلہ عمران خان کریں گے اجلاس میں کے پی اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے اور دونوں وزرائے اعلیٰ نے عمران خان کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار دے دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزرائے اعلیٰ کا کہنا تھاکہ آپ جب کہیں گے اسمبلیاں تحلیل کردیں گے۔پی ٹی آئی رہنما کے مطابق لانگ مارچ سے زیادہ ضروری اسمبلیاں تحلیل کرنا ہے، لانگ مارچ کا مقصد بھی نئے الیکشن ہیں، اگر اسمبلیاں تحلیل ہوں گی تو نئے الیکشن خودبخود ہوجائیں گے۔دریں اثنا  عمران خان نے کہا ہے کہ میں قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو الیکشن کمیشن کے جانبدار فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکلے اور احتجاج کیا انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی  فی الحال  احتجاج ختم کر کے لانگ مارچ کی تیاری پر توجہ مرکوز کریں۔اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت جا رہے ہیں، اس کیس میں ہر ایک چیز غیر قانونی نہیں نکلے گی کیونکہ ہمارے پاس تمام دستاویزات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے توشہ خانہ کا قانون توڑا، انہوں نے چار مہنگی گاڑیاں غیرقانونی طور پر نکالی تھیں۔عمران خان نے کہامجھے پہلے ہی پتہ تھا اس کا رزلٹ کیا آنا ہے، رات کو پارٹی اراکین کو بتادیاتھا کہ مجھے صبح نااہل کردیں گے، تمام اراکین کو واٹس ایپ کے ذریعے بتایاتھا۔ان کا کہنا تھاکہ سیاسی جماعتیں سکڑ کر فیملی پارٹیز ہوگئی ہیں، مجھے اور نوازشریف کو ایک طرف دکھایا جارہا ہے، نوازشریف چور ہے، اس کے بچوں کے پاس بڑے بڑے محلات ہیں، میں کرکٹ کھیلتا تھا، 34 سال پہلے میں نے فلیٹ لیاتھا، میں نے حلال کے پیسے سے فلیٹ خریدا تھا، اس کو بیچ کر پیسہ پاکستان لایا۔عمران خان کا کہنا تھاکہ میری جتنی بھی زندگی ہے ان چوروں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہے، الیکشن کمیشن مافیا کا حصہ ہے، جب تک زندہ ہوں ان کا مقابلہ کروں گا۔

عمران خان نااہل

مزید :

صفحہ اول -