جدید تحقیق سے کاشتکاروں کوفائدہ ہوگا، حسین جہانیاں 

جدید تحقیق سے کاشتکاروں کوفائدہ ہوگا، حسین جہانیاں 

  

ملتان(سپیشل رپورٹر)صوبہ پنجاب میں غذائی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کے لئے زوننگ پر عملدرآمد ضروری ہے۔دور حاضر کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے جدید زرعی تحقیق کی اہمیت مسلمہ حقیقت ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بالخصوص موسمیاتی تبدیلیاں ایک چیلنج ہیں جن سے نبردآزما ہونے کے لیے زرعی تحقیق کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ انٹرنیشنل ویٹ کانفرنس2022 میں خطا ب کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ گندم ہماری ا(بقیہ نمبر3صفحہ6پر)

ہم ترین فصل ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید ریسرچ کی روشنی کو کاشتکاروں کی دیلیز تک پہنچایا جائے۔گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اُسی وقت ہوگا جب کاشتکار نئی اقسام کی کاشت کی طرف راغب ہوگا اور بروقت فصل کاشت کرے گا۔ وزیر زراعت پنجاب حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ انھوں نے گزشتہ سال بیج کی نئی اقسام کی منظوری کو ڈی این اے فنگر ٹیسٹنگ سے مشروط کیا تاکہ نہ صرف بریڈرز کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے بلکہ غیر معیاری بیج کی فروخت کو بھی روکا جا سکے۔ہماری فی ایکڑ پیداوار میں اسی وقت اضافہ ہوگا جب یونیورسٹیوں میں ہونے والی جدید تحقیق کاشتکاروں تک پہنچے گی۔اس وقت پنجاب کی اوسط پیداوار31من فی ایکڑ ہے اگر اس میں صرف دو من فی ایکڑکا اضافہ ہوجائے تو صوبہ پنجاب میں پیداوار 3.2ملین ٹن تک بڑھ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تصدیق شدہ بیج کا استعمال،زمین کی تیاری سمیت مختلف زرعی سفارشات سے کاشتکاروں کی راہنمائی کر کے فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امسال گندم بڑھاؤ مہم کے بہتر نتائج حاصل کرنے کیلئے کسانوں کو جدید طریقہ کاشت کی طرف راغب کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ گندم کی کٹائی کے دوران 20 سے 25 فیصد گندم ضائع ہوجاتی ہے۔ زرعی ماہرین کو کٹائی کے دوران گندم کے ضیاع کو کم کرنے کیلئے جدید رجحانات کو پروان چڑھانا ہوگا۔ انہوں نے زرعی سائنسدانوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ملک کو درپیش زرعی چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔ اس موقع پر وائس چانسلرزرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمدخاں نے کہا کہ  موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی کے تعاون سے زرعی یونیورسٹی میں گندم کی اعلی کوالٹی کی اقسام پرکام جاری ہے جس سے فی ایکڑ پیداوارمیں اضافہ ہوگا۔ گرمی کی شدت اور پانی کی کمی سے گندم کا دانہ سکڑ جاتا ہے اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمیں پچھلے سال دس ارب ڈالر کی اشیاء ضروریہ درآمد کرنا پڑیں جوکہ ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کاشتکاروں کے حقیقی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی حل تلاش کرنا ہوگا۔اس موقع پرڈین ایگریکلچر زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد سرور خاں،ڈاکٹر ذوالفقار علی،امریکہ سے ایگریکلچر کمرشلائزیشن ایکسپرٹ ڈاکٹر جینی الٹن، سڈنی یونیورسٹی آف آسٹریلیا سے ڈاکٹر ہربنس بریانہ، سمیت دیگر ماہرین نے بھی اظہار خیال کیا۔ کانفرنس میں گندم کی پیداوار میں اضافے، فصل کو لگنے والی بیماریوں سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -