تمباکو نوشی وبغیر دھوئیں کے تمباکو اشیاء کیخلاف توجہ دلاؤ نوٹس جمع

تمباکو نوشی وبغیر دھوئیں کے تمباکو اشیاء کیخلاف توجہ دلاؤ نوٹس جمع

  

پشاور(سٹی رپورٹر) ممبر صوبائی اسمبلی بصیرت خان شنواری نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے محکمہ صحت کی توجہ ایک اہم مسئلے کی جانب دلوائی ہے. توجہ دلاؤ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریبا ہر سال ایک لاکھ 10 ہزار لوگ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں سے ایک اندازے کے مطابق تیس ہزار ایسے افراد بھی ہیں جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے لیکن دوسرے کے سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔بصیرت خان شنواری نے اپنی توجہ دلاؤ نوٹس میں لکھا ہے کہ خیبر خیبر پختونخوا میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نسوار ویلو اور دیگر مضر اشیاء کا استعمال کرتی ہے جس سے منہ کے کینسر اور دیگر مہلک امراض تیزی کے ساتھ صوبہ میں پھیل رہے ہیں جب کہ بدقسمتی سے ان کی روک تھام, تیاری اور فروخت پر نگرانی کا کوئی موثر نظام اور قانون موجود نہیں۔توجہ دلاؤ نوٹس کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں عوامی جگہوں پر تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا مسودہ 2016 سے التواء کا شکار ہے. حال ہی میں اس قانونی مسودہ کو محکمہ قانون سے منظوری کے بعد محکمہ صحت کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جا سکے۔ممبر صوبائی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت خیبرپختونخوا اور محکمہ صحت عوامی صحت کو بہتر بنانے میں سنجیدہ ہے تو مجوزہ مسودہ قانون میں نسوار، ویلو اور بغیر دھوئے استعمال ہونے والی تمباکو کی کی تمام مصنوعات کو مجوزہ قانون میں شامل کرے کرے اور اس کی تیاری اور فروخت کو قانونی دائرہ کار میں لائے.

مزید :

پشاورصفحہ آخر -