شیشہء جاں آئینے سے نازک ہے               (3)

        شیشہء جاں آئینے سے نازک ہے               (3)
        شیشہء جاں آئینے سے نازک ہے               (3)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

   تدریس کے دنوں میں ڈاکٹر توصیف تبسم کے طفیل گورڈن کالج راولپنڈی کی رونقیں دو ایک مرتبہ پروفیسرز مَیس کی دیوار پھاند کر نواحی شہر واہ کی حدود میں بھی داخل ہو ئیں۔ جیسے1980 ء کی دہائی کے آغاز میں نیشنل بُک فاؤنڈیشن نے احمد ندیم قاسمی کے منتخبہ افسانے انگریزی میں شائع کیے تو اوّلین تعارفی تقریب کا انعقاد کالج کے دیومالائی سابق پرنسپل اور دانشور خواجہ مسعود کے زیرِ صدارت واہ کی کنٹونمنٹ لائبریری میں ہوا۔ مذکورہ کتاب اور کئی شعری مجموعوں کے مترجم اور ہمارے پروفیسر سجاد شیخ قرب مکانی کی بدولت خواجہ مسعود کی فوکسی میں سیٹلائٹ ٹاؤن سے آئے۔ ہاں، توصیف تبسم اور منفرد نظم گو آفتاب اقبال شمیم دونوں کو، جن کی ابتدائی ملازمت واہ میں تھی، پرانے دوست اور ہمکار آصف ہمایوں قریشی اور وائس پرنسپل مطیع اللہ خان کے ہمراہ تقریب میں لے جانے کا اعزاز مجھے مِلا تھا۔

 تقریب میں پڑھے گئے مضامین، ترجمہ نگاری کے فن پہ ہونے والی فکر انگیز گفتگو اور خواجہ مسعود کی زبان سے قومیتی پہچان کے تمدنی حوالے، یہ احوال کبھی آئندہ۔ فی الوقت اِتنا کہ کالج کے اندر ہوں یا باہر، توصیف تبسم کی طرح اُن کے ہم نشین بھی خوشدلی کی فضا کو برقرار رکھنے پہ تُلے رہتے۔ یہی دیکھ لیں کہ واہ کینٹ میں توصیف صاحب کے بیٹے کی بارات ہے۔ معروف غزل گو شہزاد احمد، مقبول سوز خواں سید ناصر جہاں اور پنجابی کے نظیر اکبر آبادی، پروفیسر انور مسعود کی موجودگی میں آفتاب اقبال شمیم ایک عجیب سا مطالبہ کر دیتے ہیں کہ یار، شاہد ملک آج انور مسعود کے سامنے اِن کے شعر پڑھنے کی نقل اتارو۔ ”سر، مَیں بھانڈ نہیں، کچھ اَور بھی ہوں۔“ اِس لُوز بال کا پڑنا تھا کہ شہزاد احمد نے بلّا گھما دیا۔ کہا: ”ہم نے آپ کے ورکنگ آورز میں تو ٹائم نہیں مانگا۔“

 یہ توصیف تبسم کی قربت کا فیض ہے کہ ایک دفعہ مَیں بھی شہزاد احمد کی بولنگ پہ چھکا لگا چکا ہوں۔ نئی صدی سے کچھ پہلے ہمارے بی بی سی کے ساتھی اور جامعہ ملیہ دہلی میں پروفیسر آف جرنلزم عبید صدیقی ورلڈ کپ کا فائنل دیکھنے لاہور آئے ہوئے تھے۔ الحمد پبلیکیشنز کے صفدر حسین نے بطور شاعر عبید کے اعزاز میں ایک محفل آراستہ کی۔ تقریب کی نظامت کرتے ہوئے شہزاد احمد نے مہمان کا تعارف نپے تُلے الفاظ میں کرایا اور پچھلی صف میں مجھ پر نظر پڑتے ہی کہنے لگے کہ ”آج عبید کی بدولت بہت دنوں بعد شاہد ملک سے بھی ملاقات ہو گئی۔“ اِتنا تو صحیح تھا، لیکن انہوں نے ایک اور تعارفی جملہ شروع کر دیا: ”ویسے ادب کے ساتھ شاہد ملک کا تعلق۔۔۔“ پھر سکتہ سا آ گیا جیسے کچھ کہنا چاہیں مگر بے دھڑک نہیں۔ میرے منہ سے نکلا:”شہزاد صاحب، ایویں معمولی تعلق اے۔۔۔ تہاڈے جناں۔“

 اِس ’ہتھ چھُٹ‘ ٹونٹی ٹونٹی کے برعکس تو صیف صاحب بیٹنگ وکٹ پر بھی شاہد آفریدی کی بجائے حنیف محمد کی پیروی میں زیادہ تر رولنگ شاٹ ہی کھیلتے۔ مجھے گورڈن کالج میں دوسرا برس ہوگا جب ہمارے پرنسپل، ڈاکٹر عزیز محمود زیدی نے، جو خود بھی اِسی ادارے میں پڑھے تھے، اپنی میزبانی میں سارے تدریسی سٹاف کو باضابطہ چائے پر مدعو کیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں پرنسپل کے سالانہ ڈنر جیسی اِس روایت کی طویل وقفے سے بحالی پر ہر کوئی خوش تھا۔ چائے پر نو متعینہ اساتذہ سے اپنا تعارف کرانے کی توقع بھی کی جاتی ہے۔ تعیناتی تو میری بھی تازہ تھی لیکن کالج سے بطور طالب علم وابستگی کے پیشِ نظر مصنف اور ریڈیو آرٹسٹ شوکت تھانوی یاد آ ئے جنہوں نے جلد دفتر آنے کی تلقین سُن کر اسٹیشن ڈائریکٹر سے کہا تھا کہ ”وقت پر آنا کچھ کم ظرفی سی لگتی ہے۔“ 

 کہانی پھر توصیف تبسم کی طرف آ رہی ہے، مگر پہلے ایک باریک سا نکتہ کہ تدریسی ساتھی اور پھر فارن سروس کے رُکن بابر ہاشمی نے نوجوانی کی ترنگ میں ایک بار کہا تھا ”ملک صاحب، آپ ریورس گئیر میں گاڑی بہتر چلاتے ہیں۔“ مَیں نے بھی شوکت تھانوی کی طرح تعارف کی کم ظرفی سے نمٹنے کے لیے ایک منصوبہ بنا لِیا۔ یہی کہ جب نام پکارا جائے تو اسٹیج پر جاؤں اور اپنی بجائے پرنسپل صاحب کا تعارف کرا دوں۔ احتیاط یہ کہ کارروائی منظوم ہو تاکہ فریقین کی عزت رہ جائے۔ دیکھیے نا، ڈاکٹر عزیز محمود جو دنیا میں نہیں رہے، اپنی صلح جو طبیعت کے باوجود تھے تو بریگیڈیر ٹی ایم کے بھائی۔ اِس پیش بندی میں توصیف تبسم میرے ہمراز تھے کیونکہ شاعری کی اصطلاح میں سب سے پہلے یہ نظم انہیں عطا کی گئی اور اُنہی کے ایک مجوزہ اضافے نے اِسے چار چاند لگا دیے۔

 جوبلی ہال کی بیس منٹ میں اپنی باری پہ مائکروفون مقابل آتے ہی رسمی تعارف نہ کروانے کی وجہ بتائی۔ پھر منجھے ہوئے ایکٹروں کی طرح مسکراتے ہوئے یہ جملہ کہا:”اِس محفل میں البتہ بعض ایسے بزرگ موجود ہیں کہ اپنی بجائے اُن کا تعارف کرا دینا ضروری خیال کرتا ہوں، جیسے پرنسپل صاحب۔“ کرسیء صدارت پر تشریف فرما ڈاکٹر عزیز محمود زیدی نے میری طرف حیرت سے دیکھا، جیسے گھبرا گئے ہوں۔ ”آپ کے بارے میں نظم ہے۔“ ”اچھا، میرے بارے میں ہے؟“ عرض کی: ”ہلکی پھلکی سی ہے۔“ ”اچھا۔۔۔ اچھا، سُنا دیں۔“ مائیک پر آواز گونجی:’’سامعین ِ کرام، مَیں مزاحیہ شعر نہیں کہتا، مگر آج کی یہ نظم ضمیر جعفری صاحب کے انداز میں کہی ہے اور اُنہی کے ترنم کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔“ میرا ترنم وہی تھا جس کے بارے میں نذیر شیخ کا دعوی ہے کہ ’سُر مِلاتے ہیں مگر بے تال ہیں میجر ضمیر۔‘

 چونکہ مرحوم عزیز محمود زیدی فالتو رُعب داب سے عاری مگر پورا کام کرنے اور پورا کام لینے والے انسان تھے، اِس لیے مطلع اور اگلے دو، تین شعر فی الفور ہِٹ ہو گئے:

 سحر سے شام تک تدریس کے چکر میں رہتے ہیں 

 پُرانے عہد کی تاسیس کے چکر میں رہتے ہیں 

 ریاضی کے معلم بھی ہیں، قائد کے مقلّد بھی

 اِسی نسبت سے سنہ چالیس کے چکر میں رہتے ہیں 

 اِسے ڈانٹا اُسے ڈپٹا، اِسے جانچا اُسے پرکھا

 اِسی دو، چار، چھ، دس، بیس کے چکر میں رہتے ہیں 

جعفری صاحب کی طرح کہِیں کہِیں شعر کے ارکان کی بجائے محض ماتراؤں کے زور پر، کبھی خوامخواہ آواز کو چبا کر اور کبھی ہولناک اونچائی پر لے جا کر مَیں نے یوں پرفارم کیا جیسے انگریزی میں کہِیں گے ”گوءِنگ لائیک اے ہاؤس آن فائر“۔ چھٹے نمبر پر تھا پرنسپل صاحب کے متعلق وہ شعر جس پر میجر ضمیر جعفری کے نام کی مُہر ہے:

 شکایت ہے اِنہیں کالج کے لڑکوں سے کہ وہ دن بھر

 کبھی سلمی، کبھی برجیس کے چکر میں رہتے ہیں 

پر کلائمکس کے جس شعر میں ڈاکٹر عزیز محمود زیدی کی پوری شخصیت سمٹ گئی اُس کا اشارہ تو نظم کی کچی سماعت پر توصیف صاحب نے یہ کہہ کر دے دیا تھا کہ شاہد، یہاں تدریس، چالیس اور برجیس کے بِیچ میں کسی طرح ٹائم پیس لاؤ۔ ٹائم پِیس آیا اور منظوم تعارف میں ترتیب و تناسب کے تمام تقاضے پورے ہو گئے۔ اب شعر میرا سُنیے اور داد توصیف تبسم صاحب کو دیجیے تاکہ استاد کی روح کو تسکین پہنچے: 

 بکارِ منصبی تقدیم یا تاخیر نا ممکن

 مِرے ممدوح ٹائم پیِس کے چکر میں رہتے ہیں 

                            (ختم شُد)

مزید :

رائے -کالم -