نواز شریف سے توقعات 

     نواز شریف سے توقعات 
     نواز شریف سے توقعات 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  

 2013سے 2018کے درمیان جس طرح نوازشریف نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا اور ملک کو اندھیروں سے نکالا تھا، وہ کسی کو بھولا نہیں ہے۔ خود نون لیگ کے پاس بھی عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے یہی ایک بڑا کارنامہ ہے۔ اس سے قبل ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ لیا جاتا تھا۔ آج مہنگائی، بے روزگاری اور بدحالی نواز شریف کے لئے چیلنج بنی ہوئی ہے۔ مہنگے کرایوں، ناقابل برداشت پٹرول کی قیمتیں، کاروباری مواقع کی کمی اور ان کی نوعیت میں تبدیلی، خوشحالی کا فقدان، گراوٹ کی شکار کاروباری سرگرمیاں اور معاشرے میں ایک دوسرے کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور تفریق آج کے بڑے چیلنج ہیں۔ نواز شریف سمیت جو کوئی بھی عوامی مینڈیٹ کا چمپیئن بنتا ہے اس کے لئے عوامی ریلیف کا پروگرام دے کر اپنے آپ کو قیادت کا اہل ثابت کرنا پڑے گا۔ 

ہر کوئی چاہتا ہے کہ ملک میں آئندہ برسراقتدارآنے والی قیادت صحت، سکول، صفائی ستھرائی، قاعدہ قانون، معافی نامے، سیاسی کارکنوں کی رہائی، اور معاشرتی برداشت کی داعی ہو۔ خاص طور پر حقیقی انصاف کی فراہمی کا آغاز تو پاکستان تحریک انصاف سے کیا جانا چاہئے تاکہ عوام کا ملکی قیادت اور اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔ 

جس طرح 2013میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بہت بڑا مسئلہ تھا، اسی طرح آج پاکستانی روپے کی بے قدری ایک بڑامسئلہ بن چکا ہے۔ اگر نواز شریف آئندہ آنے والے برسوں میں روپے کی قدر کو بحال کردیں تو عوام کے بہت سے دلدر خود بخود دور ہو جائیں گے۔ اس کا ایک طریقہ تو جناب اسحٰق ڈار صاحب نے گزشتہ دور حکومت میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو 100روپے پر باندھ کر کیا تھا، تاہم بعد میں اس پالیسی پر بے تحاشا اعتراض ہوا کہ روپے کی مصنوعی قدر کی وجہ سے معیشت عدم استحکام کا شکار ہو گئی ہے اور پاکستان کو چاہئے کہ روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ فورسز کو کرنے دے۔ پاکستان نے اس تجویز پر عمل کیا اور تحریک انصاف کے دور حکومت میں روپے کو مارکیٹ فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑا لیکن اس کی اسمگلنگ اور دیگر عوامل پر قابو پانے میں ناکام رہی جس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا طوفان آگیا۔ سونے پر سہاگہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں نے کیا۔ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ بچا کہ وہ قرضوں کے سہارے معیشت کا پہیہ چلائے اور بالآخر جب اپریل 2022میں پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ ہوا تو پاکستان بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہو چکا تھا جسے پی ڈی ایم کی 16ماہ کی حکومت میں ٹالنے کے لئے سارے جتن کیے گئے اور عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بد حالی سے نکالنے کی طرف توجہ نہ دی جا سکی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی وجہ سے پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچا تھا اور آج پی ٹی آئی کے حامی حلقے ہی پی ڈی ایم حکومت کو کوستے پائے جاتے ہیں کہ اس نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے کیوں بچایا اور طعنے دیتے پائے جاتے ہیں کہ گزشتہ سولہ ماہ میں پی ڈی ایم نے عوام کو کوئی ریلیف نہ دے کر نواز شریف کی نون لیگ کو ملک میں غیر مقبول بنادیا ہے۔ 

اگر 2024کے عام انتخابات میں نواز شریف کو کامیابی ملتی ہے تو انہیں فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا چاہئیں کہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ اس حوالے سے تجویز یہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں جس قدر گراوٹ آئی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے کم سے کم تنخواہ کی حد 50,000مقرر کی جائے تاکہ عوام کی قوت خرید کو سنبھالا مل سکے کیونکہ اب دوبارہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو 100روپے پر لانے کا جتن نہیں کرنا چاہئے۔اس کے برعکس 70,000روپے ماہانہ کمانے والے افراد کے لئے مہنگائی الاؤنس کا اجراء کرنا چاہئے جو بینک اکاؤنٹوں میں براہ راست منتقل ہو۔بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ کو بھی اس کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی ایسی ہی مالی اعانت کی جائے، بھلے بجلی اور گیس کی قیمتیں ان کی پیداواری لاگت کے برابر کردی جائیں۔ ملکی معیشت کو استحکام دینے اور خسارے کو کم کرنے کے لئے گھاٹے میں چلنے والے اداروں کی فی الفور نجکاری کی جائے اور زراعت میں سرمایہ کاری کے پروگرام کو بڑھاوا دیا جائے۔ اسی طرح قرضوں اور ٹیکسوں کی شرح کو مہنگا رکھا جائے تاکہ عوام میں آمدن اور خرچ کی اہمیت کا احساس باقی رہے۔ ایزی منی کا تصور ختم ہونا چاہئے۔ 

پاک فوج کو ورک آرمی کے طور پر استعمال کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے اور بلاشبہ زراعت کا شعبہ اس کے لئے آئیڈیل ہوسکتا ہے۔ سرمایہ کاری سہولت کونسل میں جس طرح پاک فوج کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے اسی طرح اقتدار میں بھی شمولیت کرواکر ملک کو استحکام کی طرف لے جایا جائے، اس سلسلے میں ترکی کی مثال سامنے ہے کہ وقت آنے پر خودبخود عوامی دباؤ کے تحت فوج اپنے اصل کردار میں چلی گئی ہے۔ آئندہ سے لازمی قرار دیا جائے کہ ملک میں تیار ہونے والی ہر شے ایکسپورٹ کوالٹی کی ہو گی۔ چین نے ایسے ہی ترقی کی ہے، ہمیں بھی اس کی تقلید کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ سرکاری افسروں اورحکومتی وزراء کو اپنے بچوں بچیوں کو فارغ اوقات میں کام پر لگا کر مثالیں قائم کرنا چاہئیں تاکہ ملک کے نوجوان بچے اور بچیاں کام کو عار نہ سمجھیں۔ اگر مریم نواز کی بیٹی میکڈونلڈ پر اور خواجہ آصف کا پوتا کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور پر کام کرتا نظرآئے گا تو میرا بیٹا بھی کام کو ترجیح دے گا اور میں بھی اس کی حوصلہ افزائی کروں گا۔ 

سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک میں کام کی شاباشی ہواور اس کا آغاز جناب شہباز شریف کو ان کی پنجاب اور پاکستان کیلئے سرانجام دی جانے والی خدمات کے اعتراف سے کیا جائے۔ انہیں نشان پاکستان سے نوازا جائے تاکہ باقیوں کی حوصلہ افزائی ہو اور ملک آگے بڑھے، ترقی کرے اور خوش حالی کا خواب یقینی ہو۔

مزید :

رائے -کالم -