چیف جسٹس اور آرمی چیف سے توقع

      چیف جسٹس اور آرمی چیف سے توقع
      چیف جسٹس اور آرمی چیف سے توقع

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اللہ کریم کو شاید ہم پر ترس آ ہی گیا۔ ماضی بعید کو چھوڑیئے، متجاوز پرویز مشرف تا قمر جاوید باجوہ اور افتخار محمد چوہدری تا بندیالی رعد نے ملک پر کیا کیا حشر سامان بجلیاں نہیں گرائیں۔ پرویز مشرف تا باجوہ نے صاعقہ گرائیں تو اپنے ہی ادارے پر۔ افتخار محمد چوہدری تا بندیالی رعد کی کڑک عدلیہ کو عالمی درجہ بندی کے پست ترین 10 ممالک میں لے گئی. رہی برق تو وہ ہمیشہ بیچارے مسلمانوں ہی پر گرتی ہے. ملک کو نوچنے بھبھوڑنے والے یہ معززین اب تاریخ کا حصہ ہیں لیکن ان کے تاریک سائے آج بھی کروڑوں عوام کے گردا گرد ناچ رہے ہیں۔ خوش ائند امر یہ ہے کہ فوج نے بطور ادارہ سیاست سے کنارہ کشی کی تو اللہ کریم نے سیاسی ذریعے سے اس مقدس ادارے کی قیادت اپنے کام سے کام رکھنے والے شخص کے سپرد کر دی ہے۔ عدلیہ نے بھی پارلیمان کے اختیار قانون سازی کے سامنے سپر ڈال کر ماضی کا کچھ کفارہ ادا کر ہی دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے کسی عمل سے مجھے ابھی تک کوئی آئینی انحراف دیکھنے کو نہیں ملا۔

تو کیا سیاست دان پوتر ہیں؟ ہرگز نہیں! تو پھر؟ پھر یہ کہ عدلیہ, مقننہ اور انتظامیہ کے مابین تقسیم اختیارات کی جنگ سے دونوں ہاتھوں اور خاموشی سے دولت سمیٹنے کا کام کرنے والے اصل طبقات دو ہی رہے ہیں: اولا تاجر اور صنعت کار اور ثانیاً سرکاری افسران۔ آج کی یہ بحث اس توقع پر ہے کہ چیف جسٹس اور آرمی چیف ملکی وسائل بے دردی سے لوٹنے اور معیشت کا خون چوسنے والے عناصر کا قلع قمع کریں گے کہ موقع بہترین ہے۔ میرے پاس اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن محتاط اور ذمہ دارانہ طور پر کہہ سکتا ہوں کہ آرمی چیف کی ذرا توجہ سے ملک کے درجنوں ارب بلکہ کھربوں روپے بچائے جا سکتے ہیں۔

 بھٹو مرحوم نے تمام سرکاری ملازمین کی اجرتوں کو 22 اسکیلوں میں لا کر نو آبادیاتی دفتری نظام پر کاری ضرب لگائی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوا کہ 22واں اسکیل بھی بعض علوم و فنون کے افراد کے لیے پرکشش نہیں ہوتا۔ اچھے وکیل ماہانہ کروڑوں میں کماتے ہیں۔ اچھے معالج کا بھی یہی حال ہے تو وکیل 22 سکیل کے تین چار لاکھ پر کیوں اٹارنی جنرل بنے گا۔ کروڑوں روپے ماہانہ کمانے والے امراض قلب کے ماہر کے لیے 22 اسکیل میں کوئی کشش نہیں ہوتی۔ چنانچہ ایم پی ون، ٹو اور تھری جیسے نئے اسکیل متعارف کرائے گئے تاکہ وکیلوں، معالجین، سائنسدانوں اور ماہرین اقتصادیات وغیرہ کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق پرکشش تنخواہ پر لایا جائے۔ یقینا یہ کام اخلاص اور دیانت داری سے ہوا ہوگا۔ لیکن اس کے نتائج نہایت خوفناک نکلے۔ بات ختم نہیں ہوئی۔ خود سر سیاست دانوں، ججوں اور جرنیلوں کے عزیزوں، خوشامدیوں اور چہیتوں نے خصوصی پیکج کا تقاضا کرنا شروع کر دیا۔ پھر ان کے ہم چشموں میں الگ سے ایک مقابلہ شروع ہو گیا۔

چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی اداروں میں "انتہائی اعلی صلاحیتوں سے مالا مال" وہ افسران ہزاروں میں ہیں جن کی تنخواہوں و مراعات کا حساب کیا جائے تو جواب کھربوں میں آتا ہے۔ یہ لوگ آئے کہاں سے؟ جی ہاں, یہ لوگ سیاست دانوں, ججوں, جرنیلوں اور دیگر با اختیار فیصلہ سازوں کے چہیتے ہیں۔ شہباز شریف حکومت نے اپنے آخری دن ایسے ہی درجنوں افراد کا تقرر کیا۔ ان میں سے بعض کی اوسط صلاحیتوں سے شاید انکار ممکن نہ ہو لیکن نیشنل پے اسکیل چھوڑ کر انہیں کروڑوں روپے سالانہ کے خصوصی پیکج دینا  اپنے مقروض ملک کے ساتھ کیا غداری نہیں ہے؟ اگر غداری لفظ سخت ہو تو بے وفائی کہہ لیجئے۔ ایک طبقہ ٹیکس نہیں دیتا تو دوسرا طبقہ کشکول میں جمع شدہ رقم اپنے خوش آمدیوں، عزیزوں اور چہیتوں میں بانٹ دے۔ کیا یہ ملک کے ساتھ وفاداری ہے؟

لیکن بات ختم نہیں ہوئی۔ کسی یونیورسٹی یا خود مختار ادارے کا سربراہ وزیراعلی کا عزیز، چہیتا، سفارشی یا خوشآمدی دو ملین ماہانہ کے خصوصی پیکج پر لگایا جاتا ہے تو اس کا ہم جماعت کیوں پیچھے رہے۔ اس دوسرے کے سالے، سالیاں، ساس (جی ہاں بلکہ ساس ہی۔ زیادہ منہ نہ کھلوائیے) سسر حرکت میں آتے ہیں۔ چند دن بعد یہ دوسرا "باصلاحیت" تین چار ملین ماہانہ کے خصوصی پیکج پر اپنے ہم جماعت کا منہ چڑھا رہا ہوتا ہے. خصوصی پیکج کی نہ ختم ہونے والی اس دوڑ کے کھلاڑی، کوچ اور مینجر نہ تو آرمی چیف سے پوشیدہ ہیں اور نہ چیف جسٹس اس ابلیسی دوڑ سے بے خبر ہیں۔ ملکی خزانہ لوٹنے کے اس عمل میں نہ تو پارلیمان شریک ہوتا ہے اور نہ کابینہ کو خبر ہوتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کو بھی تب معلوم ہوتا ہے جب یہ لوگ باقاعدہ ملازم ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ "باصلاحیت" افراد اب بھی خاموشی سے اپنا کام کیے جا رہے ہیں۔

حالات و واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ کلیدی امور میں فیصلہ ساز آج بھی آرمی چیف ہی ہیں۔ چیف جسٹس بر بنائے آئین ویسے ہی مختار کل ہیں۔ آپ دونوں مختار ذرا ان نگران حکومتوں سے مذکورہ اعداد و شمار تو منگوائیں کہ ملک چلانے والے اصل افراد یعنی صدر مملکت، چیف جسٹس، وزیراعظم، وزرائے اعلی، وزراء، سیکرٹریوں، آرمی، نیوی اور ایئر چیف سے دسیوں گنا زیادہ تنخواہیں اور مراعات والے یہ لوگ کتنے ہزار ہیں۔ ان پر سالانہ کتنے کھرب روپے خرچ ہوتے ہیں؟ ان میں سے کتنے ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے ہیں؟ اور کتنے اسکندر اعظم, برٹرینڈ رسل اور ٹائن بی جیسی صلاحیتیں رکھتے ہیں کہ ان کی سالانہ تنخواہیں اور مراعات کروڑوں میں ہیں۔

 حیرت تو اس پر ہے کہ اس مقروض ملک پر یہ "باصلاحیت" افراد دو چار دس نہیں ہزاروں میں مسلط ہیں۔ جنرل عاصم منیر صاحب، آپ اسی ایک معاملے پر خصوصی توجہ دیں تو ملکی معیشت آئندہ انتخابات سے قبل درست ہو سکتی ہے۔ مخلص، ریٹائرڈ لیکن رضاکار اور باہم شیر و شکر افراد کا بااختیار بورڈ بنائیے۔ آپ کے سامنے مسئلے کے حیرت انگیز پہلو آئیں گے۔ یہاں تک کہا جا سکتا ہے کہ پھر ہمیں شاید کسی قرض کی کوئی حاجت ہی نہ رہے۔ آج کی با اختیار نگران حکومتیں یقینا سیاسی جماعتوں کے ساتھ مستقل روابط میں ہیں۔ لیکن خصوصی پیکج والے ہزاروں "باصلاحیت" افراد میں سے بیشتر کے سر سے "سایہ شفقت" آج اٹھا ہوا ہے۔ان "خصوصی افراد" کو کوئی آئینی یا قانونی تحفظ بھی حاصل نہیں ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ان لوگوں کو نیشنل پے اسکیلوں کے اندر لا کر ملکی وسائل بچانے کا آغاز کر دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -