کوئٹہ بیروت بن جائے گا؟

کوئٹہ بیروت بن جائے گا؟
 کوئٹہ بیروت بن جائے گا؟

  

کوئٹہ کا امن و امان مثالی تھا، اب یہ ایک خواب لگتا ہے۔ موجودہ کوئٹہ محبت و آشتی کے حوالے سے اب ایک بھیانک صورت اختیار کر گیا ہے۔ صرف کوئٹہ نہیں، بلکہ پورا بلوچستان آگ اور خون کی کہانی بیان کر رہاہے۔ 2005ءسے یہ صوبہ دھیرے دھیرے کسی اور طرف جانا شروع ہو گیا تھا۔ اس پُرسکون صوبے میں اس وقت اچانک بھونچال آگیا، جب بلوچستان کے طاقتور اور محب وطن نواب اکبر خان بگٹی کو ایک فوجی آپریشن میں موت کی نیند سلا دیا گیا۔ اس کے بعد ہر طرف ایک آگ سی بھڑک اٹھی اور صوبے کے مختلف شہر بے گناہ انسانوں کے مقتل میں تبدیل ہوگئے۔ ابتداءمیں پنجابی آباد کار قتل ہونا شروع ہوئے، اس کے بعد یہ آگ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگی۔ ایک عرصے تک موت کا آسیب صرف آباد کاروں کو موت کی نیند سلاتا رہا۔ قوم پرست خاموش تھے، انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ موت کا بے رحم پنجہ ان کی طرف بھی آسکتا ہے۔ اس کے بعد موت کا رخ ان کی طرف ہو گیا اور قوم پرست لیڈر قتل ہونا شروع ہوئے ، اس کے ساتھ ہی بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 450 لاشیں مل چکی ہیں۔

اِس کے بعد شیعہ حضرات کے خلاف ردعمل ہوا اور وہ قتل ہونا شروع ہوئے ، یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے۔ سینکڑوں شیعہ قتل ہو گئے، اس میں سب سے زیادہ ہزارہ شیعہ قتل ہوئے۔ جنرل محمد موسیٰ کا تعلق بھی ہزارہ قبیلے سے تھا۔ 1840ءکے بعد یہ افغانستان سے اس حصے میں آئے۔ اُس وقت پاکستان نہیں بنا تھا، بلکہ برصغیر ہند برطانوی سامراج کی غلامی میں تھا۔ شیعہ حضرات جتنے بھی قتل ہوئے ،اِن سب کی ذمہ داری ابتدا میں سپاہ صحابہ نے قبول کر لی تھی ،اب لشکر جھنگوی قبول کرتی ہے۔ لشکر جھنگوی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جو یو ٹیوب پر موجود ہے جس میں دو شیعہ نوجوانوں کوذبح کرتے ہوئے دکھایا گیا، اُن کا تعلق کراچی سے تھا اور انہوں نے کوئٹہ میں سنی علماءاور مساجد پر حملوں کا اعتراف کیا۔

40کے قریب ڈرائیور بھی قتل ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت پشتونوں کی ہے، اِس کی ذمہ داری بلوچ مزاحمتی گروہ قبول کرتے ہیں، بعض دکان دار بھی قتل ہوئے، جو پشتون تھے۔ ان پر مزاحمتی گروہ قتل کے بعد الزام لگاتے ہیں کہ یہ حکومتی مخبر ہیں۔ ایک درجن کے قریب صحافی قتل ہوئے، ان میں سے کچھ کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ ان میں سے کچھ مسلح مزاحمتی گروہوں کے حامی تھے اور بعض پر الزام تھا کہ حکومت کے لئے مخبری کرتے تھے۔ یوں صحافی دونوں طرف سے مارے جا رہے ہیں۔ بلوچ قوم پرست الزام لگاتے ہیں کہ ان مسخ شدہ لاشوں میں سرکاری ادارے ملوث ہیں۔ وہ پارٹیاں جو بلوچوں میں پارلیمانی سیاست کر رہی ہیں، ان میں اور مسلح مزاحمتی گروہوں میں کشمکش اور محاذ آرائی جاری ہے۔ قوم پرستوں کے کئی لیڈر قتل ہو چکے ہیں۔ مسلح مزاحمتی گروہ ان کو سرکار کا مخبر قرار دیتے ہےں۔

جمعرات 13 ستمبر کو ایک اور افسوسناک واقعہ ہوا ہے۔ کوئٹہ سے سبی جاتے ہوئے شروع میں دشت کا علاقہ ہے، جہاں ایک کمپنی کے مزدور سڑک بنانے کے لئے پتھر توڑنے کا کام کرتے ہیں، انہیں بعض نقاب پوش حضرات نے لائن میں کھڑا کرکے اُن پر آتشیں اسلحہ کی بوچھاڑ کر دی۔ 10 افراد بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیئے گئے۔ یہ سب کے سب پشتون تھے ۔اتنی بڑی تعداد میں پہلی بار پشتونوں کو قتل کیا گیا ہے۔ پشتونوں میں اس کا شدید رد عمل پیدا ہوا ہے اور کوئٹہ سمیت تمام پشتون علاقوں میں مکمل شٹر ڈاو¿ن رہا ۔یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچوں اور پشتونوں کے درمیان ایک نئی کشمکش شروع ہو گئی ہے۔ پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی، جمعیت العلمائے اسلام (فضل الرحمن) جمعیت نظریاتی نے شہر میں اِس قتل کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے۔ قوم پرست بلوچ پارٹیاں بیانات تک محدود رہیں۔ اِس قتل کی ذمہ داری بلوچ مزاحمتی تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبولی کر لی ہے۔ اس قتل پر بی ایل اے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ عمل قابل مذمت ہے کہ کچھ ساتھی شوق لیڈری میں ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم کے نام سے اپنا شوق پورا کرتے ہیں اور تحریک کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ یہ لوگ اس طرح منفی رویوں سے بلوچ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

یوں پہلی بار بی ایل اے نے پالیسی بیان جاری کیا ہے ، اس قسم کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور مذمت کی ہے۔ جمعرات ہی کو خضدار میں قبائلی رہنما سعید قلندرانی کو 6 ساتھیوں سمیت قتل کر دیا گیا ،وہ ایک جرگے میں شرکت کے بعد گھر لوٹ رہے تھے کہ راستے میں ان پر حملہ کیا گیا اور ان کو قتل کر دیا گیا ۔اس قتل کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کر لی ہے۔ بی ایل اے کا کہنا تھا کہ سعید قلندرانی اور ان کے ساتھی توتک آپریشن میں ملوث تھے۔ اس آپریشن میں بی ایل اے کا کہنا تھا کہ بعض کارکن قتل ہوئے تھے، اس کے بدلے میں انہیں قتل کیا گیا ۔ ان کا تعلق شفیق مینگل گروپ سے تھا۔ شفیق مینگل بلوچستان کے سابق نگران وزیر اعلیٰ نصیر مینگل کے صاحبزادے ہیں۔ ایک اور تنظیم حق ناتوار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم سعید قلندرانی کا بدلہ لیں گے۔ قاتل اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہمارے حوصلے پست ہوں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ یہ گروپ مزاحمتی گروپوں کے خلاف ہے۔ ان واقعات سے اندازہ ہو جائے گا کہ بلوچستان کس کشمکش اور محاذ آرائی میں ملوث ہو گیا ہے یا اِس کو ملوث کر دیا گیا ہے، جو کچھ دشت میں ہوا ہے، اس کا ردعمل موجود ہے۔ نواب اکبر بگٹی کے بعد کوئٹہ آہستہ آہستہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ ہزارہ قبیلے کے لوگ مشرق کی جانب ایک مخصوص علاقے میں رہائش پذیر ہیں، اِس طرح کوئٹہ کے جنوب میں ہزارہ ٹاو¿ن بن گیا ہے۔ اِس میں صرف ہزارہ قبیلے کے لوگ ہیں اور اس کے اطراف میں بلوچ اور پشتون رہتے ہیں۔ پنجابی آبادکار کوئٹہ کے جنوب میں سریاب روڈ پر رہائش پذیر تھے، چونکہ اِس علاقے میں زمین سستی تھی، ا س لئے 10اور 15 سال قبل آباد کاروں نے رہائش کے لئے زمین خریدی۔

 نواب بگٹی کی شہادت کے بعد جب پنجابی آباد کار قتل ہونا شروع ہوئے تو بلوچ علاقوں سے تقریباً تمام آباد کار ان حصوں سے پشتون آبادی میں شفٹ ہو گئے ۔ بلوچوں کے قتل کے بعد تمام آباد کار وہاں سے چلے گئے ہیں۔ شیعہ افراد کے قتل کے بعد تمام شیعہ حضرات کوئٹہ شہر کے وسط کو چھوڑ کر اپنی ہزارہ آبادی میں منتقل ہو گئے ہےں۔ اب شہر کے وسط میں کوئی ہزارہ موجود نہیں ہے۔ شیعہ حضرات جو ہزارہ نہیں اُنہوں نے بھی کوئٹہ چھوڑ دیا ہے۔ اب خطرہ اس بات کا ہے کہ کہیں کوئٹہ خانہ جنگی کا شکار نہ ہو جائے۔ 6 ماہ میں 70سے زیادہ ہزارہ شیعہ قتل ہوئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت خوف کے سائے میں چلا گیا ہے اور آسیب زدہ شہر بن گیا ہے۔ بے گناہ انسان قتل ہو رہے ہیں۔ یکم ستمبر کو ہزارہ شیعہ کوئٹہ سریاب روڈ کی منڈی میں سبزی لینے گئے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے 9 افراد کو قتل کر دیا، اس قتل کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کر لی۔ اس دن شہر میں کشیدگی کی فضا تھی۔ اس دن مری قبیلے کے ایک وڈیرے شیر باز مری بھی ہزارہ نوجوانوں کی فائرنگ کی زد میں آگئے۔ واقعہ میں اُن کے باڈی گارڈ بھی مارے گئے، یوں ہزارہ قبیلہ اور مریوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ان 13دنوں میں 20 سے زیادہ بے گناہ افراد قتل ہوئے ہیں۔ حکومت بے بس تماشائی بن گئی ہے، لیکن کوئٹہ جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ مستقبل کے پردے میں نظر آرہی ہے۔

مزید :

کالم -