ٹیم میں ناقابل برداشت عناصر

ٹیم میں ناقابل برداشت عناصر
ٹیم میں ناقابل برداشت عناصر

  

ورلڈ کپ میں باقاعدہ میچ دیکھ کر یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کوئی ٹیم جو محدود یا ناقص کھیل پیش کرے گی وہ قسمت پرکسی غیبی مدد کی توقع نہ کرے مضبوط ٹیمیں تو ایک طرف بنگلہ دیش اور افغانستان کا کھیل بھی مایوس کن حد تک خراب نہیں رہا ہے۔ دونوں ٹیموں میں اگردماغی خوبیایں موجود ہوتیں تو شاید بھارت یا نیوزی لینڈ کے لئے کہیں زیادہ سخت مقابلہ ہوتا غور طلب بات یہ تھی کہ بڑی ٹیموں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بنگلہ دیش اور افغانستان بظاہر بے خوف نظر آ رہے ہیں، میں بین الاقوامی کرکٹ اور کوچنگ کا تاثر اثر انداز ہو چکا ہے بدقسمتی سے ہماری ٹیم پر بعض گھمنڈی،مغرور اورخودسرکھلاڑیوں کا تسلط رہا ہے۔ اس وقت بھی ٹیم میں ایسے ناقابل برداشت عناصر موجود ہیں مگر پھر بھی مکمل مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہردورمیں پاکستان کی ٹیم میں عالمی سطح کے ایک دو کرکٹرز ضرور رہے ہیں جو اکیلے ہی کھیل کا رخ بدل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں پاکستان کے کھلاڑیوں کو اب سری لنکا بمقابلہ ساﺅتھ افریقہ اور آسٹریلیا بمقابلہ ویسٹ انڈیز غور سے دیکھنا ہو گا۔ پاکستان ابھی سپر ایٹ کے مرحلے سے دور ہے تاہم ٹی ٹونٹی کے اس وسیع میدان میں پاکستان کو آج اپنی قوت اور حیثیت کا اندازہ ہو جائیگا۔فیلڈنگ کاشعبہ میرے خیال میں کمزوری رہا ہے۔ بیٹنگ کبھی سینہ سپر نہیں ہوئی۔ کپتان، مینجمنٹ ٹیم کے سفینہ کو پار لگانے کی صلاحییت نہیںرکھتے۔ میں نے بنگلہ دیش کے خلاف نیوزی لینڈ میکولم کی 123رنز کی اننگز دیکھی ہے۔ وہ ایک وکٹ کیپر ہیں ان کے بھائی بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ وہ فرد واحد تھے جن کی وجہ سے نیوزی لینڈ کو کامیابی حاصل ہوئی۔ ان کے بھائی ناتھن مکالم نے بھی چار اوور میں پندرہ رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔ پاکستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف مضبوط ارادے کے ساتھ میدان میں اترنا ہو گا اگر ٹیم کی بیٹنگ لائن کی جانچ پڑتال کی جائے۔ میری رائے میں سلیکٹرز کی اظہر علی کو ٹیم کا حصہ بنانا چاہئے تھا وہ ٹیسٹ اور محدود اورز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ٹاپ آرڈرمیں مستقل بہترین پرفارمنس دینے والے اظہر علی فرض شناس ہیں۔وکٹ پر کھڑے ہو کر کھیلنے والے بیٹسمین ہیں ٹیم میں ناکام بیٹسمینوں کی فوج گراںہے۔ اظہر علی کی گنجائش آسانی سے بن سکتی تھی۔ پاکستان کے میڈیا پرٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے معیاری اور دلچسپ پروگرام پیش کئے جارہے ہیں اور شائقین کرکٹ ہر ذریعے سے معلومات حاصل کررہے ہیں۔ خدا کرے ٹیم مسلسل اچھی پرفارمنس دیتی رہے اور شائقین کرکٹ توجہ اور دلچسپی سے خبریں سنتے اور پڑھتے رہیں۔

مزید :

کالم -