ایک ماہ کے لئے مسلمان

ایک ماہ کے لئے مسلمان
ایک ماہ کے لئے مسلمان

  

                                                                                                        اسلام اخلاقیات،حسن سلوک، کردار، طرزعمل اور قابل تقلید زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے۔پیغمبر اسلام خود اخلاقیات کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمتہ العالمین اور حسنِ اخلاق کا ایک ایک عظیم نمونہ بنا کر بھیجا تھا۔یہ آپ کا حسن کردار ہی تھا کہ جس کی بناءپر لاکھوں لوگ مسلمان ہوئے، حتیٰ کہ آپ کے شدید دشمن بھی آپ کو صادق اور امین کہتے تھے اور اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھوا کر جاتے تھے۔صحابہ کرام اجمعینؓ نے بھی آپ سے سیکھ کر باعمل،باکردار اور قابلِ مثال زندگیاں بسر کیں۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے کردار اور عمل سے لاکھوں لوگوں کو مسلمان کیا،پھر تابعین، تبع تابعین، اولیائ، اقطاب، علمائ، صالحین، مجددین سب نے باعمل زندگیاں بسر کیں اور کروڑوں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔

دنیامیں اسلام ایسی ہی نابغہ ءروزگار،باعمل، باکردار، بااخلاق ہستیوں کی وجہ سے پھیلا ہے۔خود ہمارے برصغیرپاک و ہند میں اسلام بااخلاق عرب تجار، صوفیا، اولیاءاقطاب اور مجددین کی وجہ سے پھلا پھولا ہے۔ذات پات، اونچ نیچ،عہدے، رتبے اور مذہب کے مبہم تصورات سے یہاں کے لوگ اُکتا چکے تھے، جب انہیں اسلام کا درسِ مساوات، اخوت، رواداری، محبت اور امن و آشتی کا پیغام ملا تو یہ جیسے ان کے لئے عظیم مژدہ تھا۔وہ مشرفِ بہ اسلام ہونے لگے۔ یوں اسلام برصغیر کے لوگوں اور ہمارے بہت سے آباﺅ اجداد کا دین بنا اور وہ اسلامی طرزِ حیات پر مبنی زندگی بسر کرنے لگے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کردار، اخلاق، سیرت، حسن سلوک اور طرزعمل کی وجہ سے غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔آج کتنی بدقسمتی اور المیہ کی بات ہے کہ دنیا میں لوگ مسلمانوں کے طرزِ اخلاق، سوچ، فکر اور کردار کی وجہ سے اسلام کو نعوذ باللہ دہشت گردی اور بنیاد پرستی کا مذہب سمجھنے لگے ہیں۔داڑھی والے شخص کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔بلاشبہ یہ ایک غلط تاثر ہے اور اس تاثر کو زائل اور ختم کرنے کی کوششیں ہونی چاہیے۔اسلام امن ،سلامتی، پیار ومحبت اور آشتی کا مذہب ہے۔اس کی صحیح تبلیغ اور پرچار ضروری ہے، جس کے لئے باعمل علماءکو آگے آنا ہوگا۔

اسلام کے صحیح،درست اور اصل تشخص کو بحال کرنا سب مسلمانوں کے لئے ایک بہت چیلنج آور کام ہے۔اس مقصد کو اجاگر کرنے اور اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے لانے کے لئے ترکی کی ایک فاﺅنڈیشن ہر سال پوری دنیا سے گروپس کی شکل میں وفود تیار کرکے انہیں ترکی لے جاتی ہے اور روزہ، نماز،زکوٰة اور حج وغیرہ کے طریقہ ءکار بتاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ باعمل علماءاور مفکرین کے لیکچروں کا بھی اہتمام کرتی ہے۔ بظاہر یہ سب رضا کارانہ ہورہا ہے اور غیرمسلم عورتوں اور مردوں کے گروپس ایک ماہ کے لئے ترتیب دیئے جاتے ہیں، انہیں اسلام کے اراکین، عبادات، معاملات، اخلاقیات، زندگی، موت، افکار و نظریات بتائے جاتے ہیں، انہیں نماز پڑھنے، وضو کرنے، دعا کرنے، قرآن پڑھنے، خیرات و زکوٰة دینے، روزہ رکھنے، افطار کرنے، غرض اسلام کے چیدہ چیدہ بنیادی اراکین کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا، لیکن ان شرکاءکی اکثر تعداد مسلمان ہو جاتی ہے اور جو مسلمان نہ بھی ہوں، ان کے دلوں اور دماغ میں اسلام کے بارے میں شک و شبہات دورہو جاتے ہیں۔یہ اسلام کی بہت بڑی خدمت ہے۔ ایک ماہ کے لئے مسلمان پروگرام گزشتہ کئی سال سے جاری ہے،جس کی وجہ سے نہ صرف اسلام کی تبلیغ ہو رہی ہے، بلکہ اس کا درست تشخص بحال کرنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنا کردار و اخلاق اور عملی رویوں کو اسلام کے تابع کرکے زندگی بسر کریں، تاکہ دین اسلام اورہمارا تشخص و تاثر بہتر ہو سکے۔    ٭

مزید :

کالم -