اسلام آباد میں ریڈ زون یا پنڈ زون

اسلام آباد میں ریڈ زون یا پنڈ زون
 اسلام آباد میں ریڈ زون یا پنڈ زون
کیپشن: 1

  


جی ہاں آپ کا پیارا دوست آپ کے شہر اسلام آباد میں پہنچ چکا ہے اور اسلام آباد ریڈ زون سے آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ ہمارے دوست تو ریڈ زون کو پنڈ زون بھی کہنا شروع ہو گئے ہیں ۔ وہ اس لئے کہ ریڈ زون جہاں کبھی عام آدمی کا جانا مشکل تھا، آج وہی ریڈ زون پنڈ بن چکا ہے ۔ جہاں کبھی سنسانیوں کا راج ہو تا تھا اب وہاں زندگی ناچنے لگی ہے ۔ میلہ سج گیا ہے ، عوام کا مسلسل آنا جانا شروع ہو گیا ہے ، جی ہاں میلہ ہی تو لگا رکھا ہے تحریک انصاف و عوامی تحریک والوں نے۔۔۔ دھرنا تو محض ایک بہانہ ہے ۔ریڈ زون میں عوام کا آنا جا نا ،اس قدر عام ہو گیا کہ وہاں عوام نے خیمے لگا کر بستی آباد کر لی ہے ۔ دھرنے والوں کے لئے دھرنے میں ہی کھانے پکانے ، سونے جاگنے ، اٹھنے بیٹھنے کے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں ۔کہا جا رہا ہے کہ دھرنے کے شرکاء دھرنے والی جگہ پر مکان تعمیر کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔جیسے ریڈ زون دھرنے دینے والوں کو یہ جگہ وراثت میں ملی ہے ، دھرنے کے عوام تو مستقل بیٹھے ہیں، دن بھر سوئے رہتے ہیں اور رات بھر گیت سن کر انجوائے کر تے ہیں اور قائدین کی تقریروں پر سر بھی دھنتے ہیں اور جب سے دھرنا شروع ہوا ہے ۔دھرنے کے قائدین محض حکومت کے خلاف ہی باتیں کر رہے روز ہی نت نئی لمبی چوڑی تقریریں کر کے اپنے کارکنوں کا دل بہلانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔

ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا دھرنے والے دھرنا چھوڑنے پر تیار نہیں ، لیکن نہ ہی حکومت دھرنا دینے والوں پر کوئی زور زبردستی کر سکتی ہے کہ زبردستی انکو اٹھایا جائے ، جمہوری حکومت جمہوری رویوں کو قائم رکھ کر جمہوری حکومت کو مزید عوام کی نظر میں مضبوط کر نا چاہتی ہے، بہرحال اگر دیکھا جائے تو دھرنا دینے والے تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ مزید لاشیں گریں ، امن و امان میں مزید خرابی ہو اور حکومت کو کوئی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو ، بہر حال تاحال حکومت اللہ کے حکم سے قائم ہے ۔ مئی کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو پہلے سے بھی زیادہ ووٹ پڑے ، الیکشن سے پہلے بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کلین سویپ کرے گی اور نتائج میں ن لیگ نے ہی میدان مارا ، اور نواز شریف تیسری مر تبہ وزیر اعظم بنے ، تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ میاں نواز شریف جب پہلے بھی دو دفعہ بر سراقتدار رہے ، کرسی وزارت عظمیٰ پر فائز رہے ،لیکن دشمنوں کی مہربانی سے دونوں بار میاں نواز شریف کے مخالفین کی سازشیں رنگ لے آئیں ، جس کے نتیجے میں دو بار میاں نواز شریف کی حکومت پر شب خون مارا گیا ، انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا ، طویل جلاوطنی کاٹنے پر مجبور کیا گیا ۔

طاہر القادری اور عمران خان ،جس دور کی باتیں کر رہے ہیں ، جن دس سال پرانی باتوں کا رونا رو رہے ہیں۔ وہ سب اقدامات پرویز مشرف دور حکومت اور آصف علی زرداری دور حکومت کے ہیں ۔ پانی ، گیس ، پٹرول ، مہنگی آصف علی زردای دور حکومت میں ہوئی ، طویل لوڈ شیڈنگ بھی آصف علی زرداری دور حکومت میں ہوئی اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہی تھا کہ پیپلز پارٹی انتخابات میں بدترین شکست سے دوچار ہوئی ۔ اب پھر جناب نواز شریف کی حکومت آتے ہی سازشی ٹولہ حرکت میں آچکا ہے اب دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ آیا طاہر القادری دھرنا جاری رکھیں گے ، وزیر اعظم کے استعفیٰ کے بغیر مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے ، یا پھر استعفیٰ کے بغیر دھرنا دینے والوں کے مطالبات مان لئے جائیں گے ۔

فی الوقت تمام سیاسی جماعتیں ایک طرف جبکہ دھرنا دینے والی جماعتیں دوسری طرف ہو گئی ہیں اور دھرنا دینے والی جماعتوں میں تو وہ لوگ ہیں ،جنہیں عوام نے ٹھکرا دیا ، اسی لئے تو ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ ٹھکرائے ہوئے سیاستدان عوام سے کیا مانگ رہے ہیں ، ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ عمران خود ساختہ وزیراعظم پاکستان بننے سے گریز کریں ۔ ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میاں نواز شریف کو عزت بخشی ہے انھیں ، وزارت عظمیٰ کا عہدہ تیسری بار ملا ، یہ قدرت کی مہر بانی ہی ہے نواز شریف پر۔۔۔دھرنا قائدین کو غلط فہمی ہے کہ انہیں پنجاب میں بھی حکومت مل جائے گی تو یہ ان کی بھول ہو گی ،کیونکہ پنجاب کل بھی نواز شریف کا مضبوط قلعہ تھا آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا ۔جی ہاں پنجاب بھر سے عمران خان کے حامیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہو گی ، تاہم جناب طاہر القادری کے تو اپنے مدرسے ہی اتنے زیادہ ہیں کہ ملک بھر سے انہیں کسی قسم کے سیاسی کارکنان کی ضرورت نہیں ۔

ایک اور تازہ ترین خبر جو اخبارات کی زینت بنی اور ٹی وی چینلز سے بریکنگ نیوز کے طور سے چلی وہ یہ تھی کہ جناب شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ، عمران خان اور طاہر القادری کی لندن میں ملاقات تو ہوئی تھی لیکن تحریری معاہدہ نہیں ہوا ، تاہم جناب قریشی کی اس بات کو تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جناب خان اور طاہر القادری کی ملاقات نہیں ہوئی ، اسی خبر نے ایک نیامحاذ کھول دیا ہے ،،، تاہم بہت سے کہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے قائدین کے مابین اختلافات کی جو خبریں سامنے آرہی تھیں اور بہت سے ان خبروں کی تردید کر رہے تھے ، لیکن اب ایسے لگ رہا ہے کہ واقعی تحریک انصاف کے رہنماؤں میں اختلافات موجود ہیں ، جاوید ہاشمی نے بھی پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ وہ بحیثیت صدر پارٹی شاہ محمود قریشی کو شو کاز نوٹس دیں گے، بہر حال اب کو ن کیا کہے عوام کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دھرنے والے مزید کتنا عرصہ دھرنے میں بیٹھے رہیں گے ، یہ بات بھی وقت ہی بتائے گا، بہر حال تمام پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ دھرنا دینے والے قائدین جلد از جلد دھرنا ختم کر دیں تاکہ ملک بھر میں کاروبار زندگی معمول پر آسکیں۔

مزید :

کالم -