لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سالانہ انتخابات

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سالانہ انتخابات
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سالانہ انتخابات
کیپشن: 1

  

 اگرچہ ماہ ستمبر میں ملک بھر کی صنعتی و تجارتی تنظیموں اور ایوان ہائے صنعت و تجارت کے انتخابات عمل میں آتے ہیں لیکن لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ ان پر ملک بھرکی تاجر برادری تو ایک طرف حکومت کی نظریں بھی ٹکی ہوتی ہیں،کیونکہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ملکی سیاست کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ لاہور چیمبر کے پلیٹ فارم سے شہرت حاصل کرنے والی بہت سی شخصیات اس وقت سیاسی منظرنامے کا اہم حصّہ ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اوروزیرخزانہ محمد اسحاق ڈار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر رہ چکے ہیں۔ اِسی طرح کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اعجاز بٹ، سابق چیئرمین واپڈا طارق حمید، سابق وفاقی وزیر شہزادہ عالم منوں اور دیگر کئی نامور شخصیات لاہور چیمبر کی صدارت کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کارپوریٹ کلاس اور ایسوسی ایٹ کلاس کے انتخابات بالترتیب 22اور 23ستمبر کو منعقد ہورہے ہیں۔

کارپوریٹ کلاس کے لئے 16امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے تھے جن میں سے دو نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے، جبکہ ایسوسی ایٹ کے لئے کاغذات جمع کروانے والے 44امیدواروں میں سے 20دستبردار ہوگئے ہیں ۔ حتمی لسٹ کے مطابق کارپوریٹ کلاس کی سات سیٹوں پر میاں نعمان کبیر، عبدالباسط نادر کمال عثمان، شہزاد احمد، شہزاد وحید، قراة العین عرفان، کمال محمود امجد میاں، خالد عثمان، ڈاکٹر ریاض احمد، ثناءاللہ چودھری سید حسن رضا، محمد ریاض الحسن، اخلاق احمد، نعیم انور، ایسوسی ایٹ کلاس کی آٹھ سیٹوں پر ناصر سعید، سید محمود غزنوی، خرم لودھی، راجہ عدیل اشفاق، رضوان اختر، اسد نور پگانوالہ، وقار احمد میاں، شیخ محمد فیاض احمد، امجد چودھری، عبدالودود علوی، طاہر ملک، ظفر احمد، محمد خالد، محمد اعجاز، ساجد عزیز ، ظفر احمد کمال، راجہ حسن اختر، کامران بٹ، محمد عظیم، محمد فیصل مصطفی بٹ، محمد اکرم، عاکف باجوہ، حیدر سلیم، رشید رضاخان ، خواتین کے لئے ایک نشست پر تنزیلہ یوسف، سعیدہ نذر اور مسرت نواز مدمقابل ہوں گے۔

 کارپوریٹ کلاس کی سات اور ایسوسی ایٹ کلاس کی آٹھ سیٹوں کے لئے انتخابات بالترتیب 22اور 23ستمبر کو منعقد ہوں گے۔ امیدواروں کی حتمی لسٹ 18ستمبر کو جاری کی جائے گی۔ رسمی نتائج کا اعلان اسی روز کردیا جائے گا، عہدیداروں کا انتخاب 28ستمبر کو عمل میں آئے گا، حتمی نتائج کا اعلان 30ستمبر کو سالانہ اجلاس عام کے موقع پر کیا جائے گا۔کارپوریٹ کلاس کے لئے 2386،جبکہ ایسوسی ایٹ کلاس کے لئے 6556ممبران اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ گزشتہ برسوں میں پیاف فاﺅنڈرز الائنس کے مد مقابل پروگریسیو گروپ اور آزاد گروپ ہی ہوتے تھے، لیکن اس مرتبہ کسٹم ایجنٹس گروپ بھی میدان میں کودا ہے جس کے سربراہ لاہور چیمبر کے سابق ایگزیکٹو کمیٹی رکن امجد چودھری ہیں، جنہوں نے پیاف سے ناراض ہوکر اپنا الگ دھڑا بنا لیا ہے۔ اس کے علاوہ فاﺅنڈرز گروپ کی سعیدہ نذر بھی پروگریسیو گروپ میں شامل ہوگئی ہیں۔

 گزشتہ آٹھ سال سے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پر پیاف فاﺅنڈرز الائنس برسر ِاقتدار چلا آرہا ہے۔ یہ دو بڑی صنعتی و تجارتی تنظیموں پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) اور فاﺅنڈرز گروپ کا اتحاد ہے، جو سال 2002ءمیں معرض وجود میں آیا۔ اس سے قبل دونوں تنظیمیں انتخابات میں علیحدہ علیحدہ حصہ لیا کرتی تھیں اور انتخابات بھی بڑے گرما گرمی کے عالم میں منعقد ہوا کرتے تھے ۔ ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں شاید اِسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے فاﺅنڈرز گروپ کے سید محسن رضا بخاری، میاں تجمل حسین ، افتخار علی ملک ، میاں مصباح الرحمن جبکہ پیاف کے میاں انجم نثار، میاں شفقت علی، شیخ محمد ارشد، محمد علی اور دونوں گروپوں کے چند دیگر سینئر رہنماﺅں نے انفرادی طور پر توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں پیاف فاﺅنڈرز الائنس معرض وجود میں آیا۔

پیاف فاﺅنڈرز الائنس کی تشکیل کے بعد لاہور چیمبر کے پہلے صدر میاں انجم نثار تھے جن کے بعد میاں مصباح الرحمن، میاں شفقت علی، شاہد حسن شیخ، محمد علی میاں، میاں مظفر علی ،سابق سینیٹر ظفر اقبال چودھری ،عرفان قیصر شیخ اور سہیل لاشاری صدر بنے۔ الائنس کے فیصلے کے مطابق ایک سال صدر فاﺅنڈرز گروپ سے جبکہ سینئر نائب صدر اور نائب صدر پیاف سے جبکہ اِس سے اگلے سال صدر پیاف سے جبکہ سینئر نائب صدر اور نائب صدر فاﺅنڈرز گروپ سے چنے جاتے ہیں۔ عموماً ہر سال صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر کا انتخاب باہمی مشاورت سے عمل میں آجاتا ہے لیکن اس سال صورتحال کچھ مختلف ہے، کیونکہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدارت کے لئے فاﺅنڈرز گروپ میں زبردست جوڑ توڑ جاری ہے۔ چند ہفتے قبل تک تو اعجاز اے ممتاز کا نام ہی زیر گردش تھا، لیکن اب عبدالباسط بھی اِس دوڑ میں شامل ہوگئے ہیں ۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ اقتدار کا ہما کس کے سر بیٹھتا ہے۔

مزید :

کالم -